وفاقی حکومت کا بجلی فی یونٹ ایک روپیہ پچانوے پیسے مہنگی کرنے کا اعلان حکومت گردشی قرضوں میںکمی اور سستی بجلی کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے، وفاقی وزرائ بجلی کے نرخوں میں 2روپے 18پیسے کا اضافہ ہونا چاہیے تھا مگر ہم ایک روپے 95 پیسے کا اضافہ کررہے ہیں مشکل حالات کے باوجود پاور سیکٹر کو 473 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی Click on the link to see full news on BAADBAN TV

وفاقی حکومت کا بجلی فی یونٹ ایک روپیہ پچانوے پیسے مہنگی کرنے کا اعلان
حکومت گردشی قرضوں میںکمی اور سستی بجلی کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے، وفاقی وزرائ
بجلی کے نرخوں میں 2روپے 18پیسے کا اضافہ ہونا چاہیے تھا مگر ہم ایک روپے 95 پیسے کا اضافہ کررہے ہیں
مشکل حالات کے باوجود پاور سیکٹر کو 473 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی
ٹھوس اقدامات سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے
6ماہ سے کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہے، صنعتی ترقی کا عمل تیز ہونے سے بجلی کھپت میں 8فیصد اضافہ ہوا
وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب اور معاون خصوصی تابش گوہر کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(پوسٹ رپورٹر)وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈالتے ہوئے بجلی فی یونٹ ایک روپیہ پچانوے پیسے مہنگی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت بجلی سے متعلق لازمی ادائیگی 227 ارب روپے کی بارودی سرنگ ہمیں ورثے میں ملیں، بجلی کے نرخوں میں 2روپے 18پیسے کا اضافہ ہونا چاہیے تھا مگر ہم ایک روپے 95 پیسے کا اضافہ کررہے ہیں ، وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب اور معاون خصوصی تابش گوہر نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ حکومت گردشی قرضوں میںکمی اور سستی بجلی کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے، مشکل حالات کے باوجود پاور سیکٹر کو 473 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، ٹھوس اقدامات سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، 6ماہ سے کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہے، صنعتی ترقی کا عمل تیز ہونے سے بجلی کھپت میں 8فیصد اضافہ ہوا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمرنے کہاکہ حکومتی اقدامات سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہوگیا ہے، صنعتی ترقی کیلئے خصوصی پیکیج دئیے گئے جس کی بدولت صنعتیں دن رات کام کررہی ہیں اب صنعتی پیداوار میں نمایاں بہتری ہوئی ہے اور روزگار کے مواقع بڑھے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ طویل عرصے کے بعد کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہے۔ ملکی برآمدات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ وزیرتوانائی عمر ایوب نے کہاکہ توانائی کے مسائل ہماری حکومت کوورثے میں ملے ۔ گزشتہ حکومت کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ شعبہ توانائی میں گردشی قرضہ ن لیگ حکومت کی کارستانی ہے ۔ ن لیگ کی حکومت نے دانستہ طورپر بدنیتی کے ساتھ بجلی کے معاہدے کیے اور غلط فیول مکس کے ساتھ بجلی کے کارخانے لگائے۔ یہ وہ کارخانے ہیں جن کے تحت تقریباً45 فیصد بجلی درآمدی فیول سے بنتی ہے اس مد میں ساڑھے چھ ارب ڈالر ہمارے ملک سے باہرچلے جاتے ہیں۔ 2013 سے لے کر 2023 تک 686 فیصد اضافی ادا کرنا پڑتا ہے ۔ پچھلے سال کورونا وباء کے دوران عوام کو تقریباً 473 ارب روپے امداد کے طورپر دیا گیا ۔ ٹی ڈی ایس 232 ارب روپیہ اور زرعی شعبے کو 60ارب کووڈ ایسنی کیلئے 51 ارب کووڈ ڈیمانڈ آپریشن کیلئے 23ارب ، فاٹا کیلئے 18ارب ، آئی ایس پی پیکیج کیلئے 7 ارب ، بلوچستان ٹیوب ویل 6 ارب ایکسپو انڈسٹری کیلئے 18 ارب روپیہ دیا گیا ۔ بجلی کے نرخوں میں 2روپے 18پیسے کا اضافہ ہونا چاہیے تھا مگر ہم ایک روپے 95 پیسے کا اضافہ کررہے ہیں جبکہ معاون حضوصی تابش گوہر نے کہاکہ گردشی قرضوں اور بجلی کے نرخوں میں اضافے میں کمی لانے کیلئے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی کے برعکس قوائد و ضوابط کے مطابق توانائی معاہدے کیے ۔ اس سے آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدوں سے 6 ہزار ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا۔ 450 ارب روپے بقایا جات کی ادائیگی بھی رواں سال کردی جائے گی۔ اس سے بجلی کے نرخوں میں شامل ہونے والا سود کا بوجھ بھی کم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ تین ہزار میگاواٹ کے نئے کنکشن لگائے جائیں گے ۔ آئی پی پیز20 سے25 فیصد تک رعایت رضاکارانہ طورپر دینے پر آمادہ ہوگئی ہے جو اس حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اگلے چند سالوں میں بجلی کے نرخوں میں ایک سے 2دو روپے فی یونٹ کمی آئے گی۔ پچھلے چند سالوں میں بجلی کی طلب میں کمی آئی ہے تقسیم کارکمپنیوں کوپابند کیا گیا ہے کہ نئے نظام میں واپس آنے والے کارخانوں کو نئے کنکشن دئیے جائیں ۔ اس وقت تقریباً تین ہزار میگاواٹ کے نئے کنکشن میں تیزی لائی جائے گی۔نومبر اور دسمبر میں بجلی کی کھپت کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں نومبر میں 250 فیصد اور 850 فیصد دسمبر میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ۔ امید ہے کہ رواں ماہ بھی یہی رجحان جاری رہے گا بجلی کی طلب میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کے نرخوں میں بھی کمی آئے گی۔ صوبوں کے ساتھ مل کر بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی اور بجلی کی چوری کے مسئلے کو حل کیا جائے گا ۔اگلے دو سے تین سالوں میں تقسیم کار کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔ سی پی بی سی ایم کے انعقاد کی منظوری ہوچکی ہے ۔ 15 ماہ کے دوران اس کا آغاز ہو جائے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ صارفین کے پاس چوائس ہوگی کہ اگر وہ تقسیم کارکمپنی سے خوش نہیں ہے تو وہ نجی کارخانوں سے رابطہ کرسکیں گے۔