سپریم کورٹ ،جسٹس فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں بنچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دیں عام طور پر فیصلہ دینے والا بنچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے، نظرثانی بنچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے، عدالت عظمیٰ بنچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں Click on the link to see full news on BAADBAN TV

سپریم کورٹ ،جسٹس فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں بنچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دیں
عام طور پر فیصلہ دینے والا بنچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے، نظرثانی بنچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے، عدالت عظمیٰ
بنچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں
اسلام آباد( )سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس میں بینچ کی تشکیل کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں بنچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔ پیر کو سپریم کورٹ میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس میں محفوظ شدہ فیصلہ 5 ایک کی نسبت سے سنایا اور ریمارکس میں کہا کہ چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کی نظرثانی درخواستیں بنچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دیں،بینچ کی تشکیل کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی در خواست کو سنا جائیگا۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ بنچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے دس دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عام طور پر فیصلہ دینے والا بنچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے، نظرثانی بنچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے۔چھ رکنی بنچ نے پانچ ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا اور جسٹس منظور ملک نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی سماعت دس رکنی فل کورٹ نے کی تھی۔نظرثانی درخواستوں پر سماعت کیلئے اکثریتی فیصلہ دینے والے چھ ججز کو بنچ بنایا گیا تھا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور بار کونسلز نے نظرثانی درخواستوں پر بنچ کی تشکیل چیلنج کی تھی۔فیصلہ دینے والے ایک جج جسٹس فیصل عرب نظرثانی درخواستوں سے قبل ریٹائر ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس میں نظر ثانی درخواستیں دائرکی گئی تھیں، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ، اہلیہ سرینا عیسیٰ سمیت مختلف بار کونسلز نے نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔نظرثانی درخواستوں میں 6 رکنی لارجربینچ کے بجائے فل کورٹ بنانے کی استدعاکی گئی تھی جس پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے 10 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔