احسان اللہ احسان کے فرار میں ایک سے زائد فوجی ملوث ہیں ، ترجمان پاک فوج کارروائی شروع کر دی ہے کارروائی سے متعلق پیش رفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی،بھارت کی تمام فوجی نقل و حرکت پر ہماری نظر ہے سعودی عرب سے فوجی سطح پر اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان کے ٹریننگ سینٹر سعودی عرب میں موجود ہیں ،ان کا یمن تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ،پاکستان میں اب دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نہیں ، نئی امریکی انتظامیہ افغان طالبان مذاکرات کے معاملے پر غور کر رہی ہے، میجر جنرل بابر افتخار کی میڈیا سے گفتگو Click on the link to see full news on BAADBAN TV

احسان اللہ احسان کے فرار میں ایک سے زائد فوجی ملوث ہیں، ، ترجمان پاک فوج
کارروائی شروع کر دی ہے کارروائی سے متعلق پیش رفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی،بھارت کی تمام فوجی نقل و حرکت پر ہماری نظر ہے
سعودی عرب سے فوجی سطح پر اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان کے ٹریننگ سینٹر سعودی عرب میں موجود ہیں ،ان کا یمن تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ،پاکستان میں اب دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نہیں ، نئی امریکی انتظامیہ افغان طالبان مذاکرات کے معاملے پر غور کر رہی ہے، میجر جنرل بابر افتخار کی میڈیا سے گفتگو
راولپنڈی (پوسٹ رپورٹ)اکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے تصدیق کی ہے کہ احسان اللہ احسان کے فرار میں ایک سے زائد فوجی ملوث ہیں،کارروائی شروع کر دی ہے ،کارروائی سے متعلق پیش رفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی،بھارت کی تمام فوجی نقل و حرکت پر ہماری نظر ہے اور پاکستان ان خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے،سعودی عرب سے فوجی سطح پر اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان کے ٹریننگ سینٹر سعودی عرب میں موجود ہیں ،ان کا یمن تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ،پاکستان میں اب دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نہیں ، نئی امریکی انتظامیہ افغان طالبان مذاکرات کے معاملے پر غور کر رہی ہے،امن کے قیام کے لیے مذاکرات جاری رہنے چاہئیں ۔ عرب ویب سائٹ اردو انڈیپنڈنٹ کے مطابق بدھ کو راولپنڈی میں غیر ملکی میڈیا نمائندگان سے ملاقات میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے اہم امور پر بات چیت کی۔پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان فوجی تحویل سے فرار ہوئے تھے اور ان کے فرار میں چند فوجی اہلکار ملوث تھے جن کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ کارروائی سے متعلق پیش رفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے گذشتہ برس فروری میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان فوجی تحویل سے فرار ہو کر بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔گذشتہ برس اگست میں جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ احسان اللہ احسان کو ایک آپریشن میں استعمال کیا جا رہا تھا کہ اس دوران وہ فرار ہو گئے تھے۔ انہوں نے احسان اللہ احسان کی جانب سے جاری کردہ آڈیو ٹیپ کو بھی جھوٹا قرار دیا تھا۔گذشتہ دنوں احسان اللہ احسان کے نام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملالہ یوسف زئی کے خلاف دھمکی آمیز ٹویٹ کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ وہ اکاؤنٹ احسان اللہ احسان کا اصلی اکاؤنٹ ہے اور اس باے میں ان کے پاس مزید کوئی معلومات نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں علم نہیں احسان اللہ احسان اس وقت کہاں ہیں؟۔خطے کی صورت حال اور پاکستان کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی پالیسی ہمسایوں کی جانب امن کا ہاتھ بڑھانا ہے۔انہوںنے کہاکہ آرمی چیف نے بھی حالیہ بیان میں ہمسایہ ممالک کی جانب امن کا ہاتھ بڑھانے کی بات کی تھی لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ پاکستان مشرقی سرحد پر درپیش خطرات سے آگاہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی تمام فوجی نقل و حرکت پر ہماری نظر ہے اور پاکستان ان خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے فوجی سطح پر اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان کے ٹریننگ سینٹر سعودی عرب میں موجود ہیں لیکن ان کا یمن تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سابق آرمی چیف راحیل شریف کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ وہ ابھی سعودی عرب میں ہی ہیں اور اپنی عہدے پر موجود ہیں۔ہمسایہ ممالک سے تعلقات پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان ایران سرحد پر باڑ لگانے کا معاملہ باہمی طور پر حل کر لیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کا دورہ کیا تھا اور سرحدی باڑ پر ایران کے تحفظات دور کر دیے تھے۔شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں اب دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں لیکن چند عناصر موجود ہیں جو دوبارہ فعال ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں بیرونی ایجنسیوں کی جانب سے اسلحے اور مالی معاونت کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج ان دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ افغان طالبان مذاکرات کے معاملے پر غور کر رہی ہے اور پاکستان کا اس معاملے پر یہی موقف ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور اس میں تعطل بالکل نہیں آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان امن مذاکرات کا حامی ہے۔