اراکین پارلیمنٹ حکومت نہیں پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں،بلاول بھٹو ایم کیو ایم کو بھی چاہیے کہ وہ پی ڈی ایم میں شامل ہو کر کراچی کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے، چیئرمین پیپلزپارٹی پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں بلکہ تحریک کا نام ہے، سینیٹ انتخابات کے بعد مستقبل کی حکمت عملی وضع کی جائے گی، مولانا فضل الرحمان Click on the link to see full news on BAADBAN TV

اراکین پارلیمنٹ حکومت نہیں پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں،بلاول بھٹو
ایم کیو ایم کو بھی چاہیے کہ وہ پی ڈی ایم میں شامل ہو کر کراچی کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے، چیئرمین پیپلزپارٹی
پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں بلکہ تحریک کا نام ہے، سینیٹ انتخابات کے بعد مستقبل کی حکمت عملی وضع کی جائے گی، مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد (بادبان الرٹ) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ حکومت نہیں پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں، یوسف رضا گیلانی پی ڈی ایم کے متفقہ امیدار ہیں، امید ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ہماریامیدوارسرپرائزنگ نتائج لائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں انہوں ںے کہا کہ ضمنی انتخابات میں حکومت کو شکست دی کیوں کہ عوام حکومت کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں، اسی لیے موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہوں گے، جب کہ پی ڈی ایم نے حکومت کو ہر میدان میں چیلنج کیا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ضمنی انتخابات کے دوران دو حلقوں میں دھاندلی کی گئی اس کے باوجود حکومت کو خیبر پختونخوا سے پشین تک شکست دی، اس صورتحال میں ایم کیو ایم کو بھی چاہیے کہ وہ پی ڈی ایم میں شامل ہو کر کراچی کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے، کیوں کہ وفاقی حکومت نے کراچی کو لاوارث چھوڑ دیا۔اس موقع پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم چاروں صوبوں میں سینیٹ انتخابات میں میں متحد ہے، کیوں کہ پی ڈی ایم مشترکہ حکمت عملی کے تحت الیکشن لڑ رہی ہے، اخلاقی طور پرکوشش کرتے ہیں کہ انتخابات میں ایک دوسرے کے ووٹ نہ کاٹیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں اچھے نتائج آئیں گے، پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں بلکہ تحریک کا نام ہے، سینیٹ انتخابات کے بعد مستقبل کی حکمت عملی وضع کی جائے گی، کیوں کہ موجودہ حکمرانوں سے جان چھڑوانا عوام کی خدمت ہو گی اسی لیے پی ڈی ایم مہنگائی کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے، اسلام آباد میں ہمارے تین لوگوں کو شہید کیا گیا کیوں کہ حکومتی صفوں میں مایوسی ہے، سینیٹ الیکشن کے فوری بعد پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس ہوں گے۔