34 سال کے ٹیکس گوشوارے عدالت میں جمع کرا دیئے، کتاب لکھنے کو بھی تیار ہوں’

اسلام آباد:  اسلام آباد میں اوپن گورنمنٹ پالیسی فورم سیمینار اور ایف بی آر میں چوتھی ٹیکس ڈائریکٹری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اوپن گورنمنٹ پالیسی کا رکن بن چکا ہے، پاکستان مکمل شفافیت پر یقین رکھتا ہے، حکومت گڈ گورننس کے لیے اقدامات کر رہی ہے، سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کا عمل یقینی بنایا جا رہا ہے، پاکستان نے رضا کارانہ طور پر اوپن گورنمنٹ پالیسی فورم کی رکنیت حاصل کی، او ای سی ڈی کی رکنیت سے ٹیکس چوری پر قابو پانے میں مدد ملے گی،انہوں نے کہا حکومت نے ایل این جی منصوبے میں شفافیت دکھائی، ایل این جی منصوبے میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالرز کی بچت کی ہے، حکومت مسلسل تین سال سے ٹیکس ڈائریکٹری شائع کررہی ہے، آج چوتھی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کی جائے گی، اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے سے شفافیت بڑھتی ہے، پاکستان انسداد کرپشن فورم کا بھی ممبر بن جائے گا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وہ 34 سال کے ٹیکس گوشوارے سپریم کورٹ میں جمع کروا رہے ہیں اب تو ٹیکس گوشواروں پر کتاب شائع کرنے کو بھی تیار ہیں، سازشیں زیادہ دیر کام نہیں کرسکتیں، پاکستان کا مستقبل روشن ہے، اگلے دس سال میں پاکستان کی شرح نمو جنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر پر ہوگی، پاکستان سے اگلے سال لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا، سیاسی حکومت اور ملٹری نے دہشت گردی کے خاتمے لے لیے مشکل فیصلے کئے، دہشت گردی کے خلاف فورسز نے بہت کام کیا، انہوں نے کہا پاکستان نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مالیاتی امداد خود کی، پاکستان اپنے شہریوں کو تحفظ، خطے اور عالمی سطح پر امن لانا چاہتا ہے، امن کی خاطر ضرب عصب شروع کیا،ان کا کہنا تھا کہ 2013 تک کسی حکومت اور ملٹری نے اتنا بڑا فیصلہ نہیں کیا، پاکستان نے مشکل فیصلے لیے اور مشکل فیصلے لے رہا ہے، باڈر مینجمنٹ اور باڈر پر فنسنگ جیسے مشکل فیصلے کئے، ملک میں امن سے معشیت بہتر ہوئی، پاکستان مستحکم ہو چکا اور اقتصادی تیزی سے اقتصادی ترقی کر رہا ہے۔ پاکستان کا مالیاتی خسارہ کم ہوا اور مہنگائی کی شرح کم ترین شرح پر آئی، آئندہ مالی سال پاکستان کا ترقیاتی بجٹ ایک ٹریلن ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ٹیکس ڈائریکٹری جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں چوتھا ملک ہے جو ٹیکس ڈائریکٹری شائع کر رہا ہے، پاکستان مسلسل چوتھے سال ٹیکس ڈائریکٹری شائع کر رہا ہے، ٹیکس ڈائریکٹری میں تمام اراکین پارلیمنٹ کا ڈیٹا موجود ہے، اراکین پارلیمنٹ کا ٹیکس ریکارڈ دینے سے شفافیت آئے گی، پچھلے سال 996 اراکین پارلیمنٹ کی تفصیل موجود تھی ،اس مرتبہ ٹیکس ڈائریکٹری میں 1010 اراکین پارلیمنٹ نے ریٹرن فائل کیے۔انہوں نے کہا ایک ماہ کا مزید وقت دیں گے، جن کے گوشوارے رہ گئے ہیں وہ جمع کرا سکتے ہیں، شفافیت اگر پارلیمنٹرین لائیں تو یہ عمل شفافیت کو فروع دے گا، ڈائریکٹری کو شائع کرنے کی منظوری کابینہ سے بھی لی گئی ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں کیپٹل گڈز کی درآمد چالیس فی صد سے زیادہ ہے جو خوش آئند ہے، تنقید کرنا آسان ہے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں, علاقائی. Bookmark the permalink.