8 سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے کے دوران ہلاک

تفصیلات کے مطابق شیخوپورہ کے علاقہ فاروق آباد میں بھی قصور کی زینب جیسا واقعہ ہوا، 6 روز قبل لاہور سے اپنی نانی کو ملنے آنے والی ننھی پری آٹھ سالہ ملیحہ کو ملزم شیراز عرف راجہ نے اغوا کیا،ملزم 4 روز تک ملیحہ کو اپنی حوس کا نشانہ بناتا رہا۔ ملزم نے پکڑے جانے کے خوف سے بچنے اور جرم مٹانے کے لئے ملیحہ کو گلا دبا کر موت کے گھا ٹ اتار دیا،نعش کو بوری میں بند کر کے ایک پارک میں پھینک دیا،واقعہ کے خلاف اہل علاقہ اور لواحقین نے شدید احتجاج کیا۔ پویس نے آج نوکھر قدیم میں ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپا مارا تو ملزم نے جوابی فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ میں ملزم بھی مارا گیا۔ ۔خیال رہے کہ لاہور کے علاقے شادرہ سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ ملیحہ اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں اپنے ماموں کے گھر آئی ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق شیراز نامی ملزم نے گزشتہ ماہ 29 دسمبر کو ملیحہ کو اغوا کیا تھا جس کے بعد اس کے اہلخانہ نے تھانہ فاروق آباد میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ بچی کی لاش اس کے لاپتہ ہونے کے 6 روز بعد بعد کوڑے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی جس کے بعد پولیس نے اس کے والدین کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا۔ کم سن بچی کے اہلخانہ نے اس کی لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا بعدِ ازاں پولیس کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔ 8 سالہ مقتول بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا جبکہ اس سے قبل اسے ریپ کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ دوسری جانب قصور میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نامعلوم ملزم نے 6 سالہ زینب کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا۔ بچی کے قتل اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد قصور میں مظاہرے شروع ہوگئے جس میں پولیس کی فائرنگ کی وجہ سے 2 افراد بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ ننھی زینب کے قتل کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اعلیٰ حکومتی شخصیات، کھیلوں اور شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی بھرپور انداز میں اس وقعے کی مذمت کی اور ملزم کو قرار واقعی سزا دینا کا مطالبہ کیا۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.