According to the Establishment Division sources, the Pakistan Tehreek-e-Insaf government fulfilled its promise to the people by fulfilling the long-held dream of reform in civil services after more than half a century. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

 

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے نصف صدی سے زائد عرصے کے بعد سول سروسز میں اصلاحات کے دیرینہ خواب کی تکمیل کر کے عوام سے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ حکومت پاکستان کی طرف سے سول سروسز اصلاحات کا نوٹیفکیشن اگلے ہفتے جاری کردیا جائے گا۔پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سروسز کے اندر (Internal)احتساب کا نظام بنائے گی جس کے تحت مستعد(Efficient) سول سرونٹس کو ملازمت پر برقرار رکھا جائے گااور نااہل افسروں کو فارغ (Weed out )کردیا جائے گا۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے متعلقہ قوانین میں ترقی (Promotion)کے قوانین بنا دیے گئے ہیں۔
ان قوانین کے تحت پروموشن کے لیے معیار(Bar) میں اضافہRaise))کیا گیا ہے اور اسے Standardised بھی کردیا گیا ہے جس کے تحت ایفی شینسی انڈیکس (Efficiency Index )میں گریڈ 18سے 21ترقی کے تھریش ہولڈ(Threshold)کے لیے تمام سروسز(Groups) کے لیے یکساں طور پر 60 فیصد ،65فیصد، 70 فیصد اور 75 فیصد لازم کر دیے گئے ہیں۔ان نئے قوانین کے مطابق DPCاور CSP کرائی جاچکی ہیں۔ اسی طرح ترقی کے امید وار افسر کو اپنے اثاثوں کا ڈیکلیریشن جاری کرنے کے علاوہ پروموشن بورڈ سے15 کے مقابلے میں 30 نمبروں میں سے اطمینان بخش نمبر حاصل کرنے ہوں گے۔ ان قوانین پر اسی سال یعنی 2020ءمیں عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔
اصلاحات کے مطابق سول سروسز ایکٹ مجریہ 1973ءکے سیکشن 13 کے تحت قوانین بنا دیئے گئے ہیں جن کے تحت 20 سال کی ملازمت مکمل کرنے والے سرکاری ملازم کے لیے کارکردگی کا جائزہ لازمی کردیا گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت اس جائزے کے لیے حکومت پاکستان کے سینئر سیکریٹریز اور فیڈرل پبلک سروس کے چیئرمین پر مشتمل پرفارمنس ایویلیویشن بورڈ بنایا جائے گا جس کی سفارش پر کسی سول سرونٹ کی ملازمت برقرار رہ سکے گی یا بورڈ کے عدم اطمینان کی صورت میں اسے ریٹائر کیا جاسکے گا۔
سول سروسز اصلاحات کے تحت-19 BPSمیں ترقی کے لیے لازم کردیا گیا ہے کہ متعلقہ مرد افسر نے اپنی ملازمت کے پہلے پانچ اور خاتون افسر نے پہلے تین سال کے دوران کسی دوسرے صوبے میں خدمات سرانجام دی ہوں۔ اسی طرح BPS-20میں ترقی کے لیےPASاور PSP گروپس سے تعلق رکھنے والے ہر مرد افسر کے لیے لازم ہوگا کہ اس نے Hard Area میں دو برس تک خدمات سرانجام دی ہوں۔اس کے بغیر 20ویںگریڈ میں ترقی ممکن نہ ہوگی۔BPS-21میں ترقی کے ضمن میں قانون بنایا گیا ہے کہ جو سول سرونٹ کسی ایک صوبے میں دس برس سے زیادہ قیام کرے گا، ترقی کا اہل نہیں ہوگا۔
ریشنلائزیشن:
صوبوں میں چونکہ وفاقی افسروں کی پوسٹیں خالی رہتی تھیں ،ان پوسٹوں کوپُر(Fill) کرنے کے لیے 600 سے700 پوسٹیں صوبوں میں تقسیم کردی گئی ہیں تاکہ انھیں پ ±ر کیا جاسکے۔
ٹیکنیکل ایکسپرٹس:
اصلاحات کے تحت وفاقی حکومت میں نشان زدہ(Targeted) وزارتوں میں PAS اپنی PSPکی 30% نشستیں ٹیکنیکل ایکسپرٹس دے رہے ہیں۔ امیدواران مقابلے کے عمل سے گزر کر یہ پوسٹیں حاصل کرسکیں گے۔ یہ قانون پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں عوام سے کیے گئے اس وعدے پر عمل درآمد کے لیے کیا گیا ہے جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ Right Person for the Right Job اصلاحات کے تحت اب Structured Career Progression بنا دیا گیا ہے جس کے تحت اسپیشیلسٹ اور جرنلسٹ کے درمیان توازن قائم کردیا گیا ہے۔
اصلاحات کے تحت PAS اور PSP کے افسروں پر مشتمل ایک Sector Specialist Core Groupبنایا جائے گا۔ اس گروپ کے گریڈ 17اور18کے افسران کوئی صوبائی یا علاقائی زبان سیکھیں گے اور بہترین عوامی خدمت کے لیے((Public Service Delivery Betterکے لیے ایکPublic Service Initiativeپر عمل درآمد کریں گے اور اس کی کیس اسٹڈی بھی تیار کریں گے۔
اصلاحات کے تحت آفیشل مینجمنٹ گروپ کے افسران فیڈرل سیکریٹریٹ میں تین تین سال کی دو مدتیں مکمل کریں گے جب یہ افسران گریڈ 19 میں ترقی کرجائیں گے تو ان کی مہارت کے مطابق انھیں بیرون ملک تربیت کے لیے بھیجا جائے گا۔اصلاحات کے تحت وفاقی سیکریٹریٹ میں PAS کی30% نشستوں پر چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور
آزاد جموں و کشمیر کے افسران کو PAS میں شامل کیا جاسکے گا۔
پرفارمنس مینجمنٹ
اصلاحات کے تحت وزیر اعظم اور وزیر کے درمیان پرفارمنس کے معاہدے پر ہر سال دستخط ہوں گے جس پریکم جولائی 2020ءسے عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ اس کے پائلٹ پروجیکٹ پر اس پیر کو 9 وزارتیں وزیر اعظم کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں گی۔اس معاہدے کے تحت یکم جنوری 2020ءسے لے کر 30جون 2020ءتک کا
پر فارمنس ایگریمنٹ ہوگا۔
ان 9 وزارتوں کے علاوہ باقی تمام وزارتوں میں اس پرفارمنس ایگریمنٹ کا اطلاق یکم جولائی 2020ءسے نافذ العمل ہوگا۔اس پرفارمنس ایگریمنٹ کے تحت تمام افسران کی جاب ڈسکرپشن اورKPIپرفارمنس انڈی کیٹرز بنائے جارہے ہیں۔ا س سلسلے میں 24 وزارتوں میں کام مکمل کرلیا گیا ہے ، باقی کام آئندہ چند روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔اس کا اطلاق یکم جولائی 2020ءسے ہوگا۔ اصلاحات کے تحت پرفارمنس ای ویلیو ایشن رپورٹ(PER) کیلنڈر سال کے بجائے مالی سال کے ساتھ منسلک کر دی گئی ہے۔ان KPIsکی روشنی میں ایک پرفارما بھی تیار کیا جارہا ہے۔اس پرفارما میں Forced Ranking کی ایک Curveبنائی جارہی ہے جس میں آﺅ ٹ اسٹینڈنگ 20فیصد سے زیادہ نہیں ہوں گے تاکہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سول سرونٹ کو جزا اور بُری کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کے لیے سزا کا تعین کیا جاسکے۔
سول سروس اصلاحات کے تحت ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن رولز بھی بنائے گئے ہیں جن کے تحت کسی بے ضابطگی کی تحقیقات کرنے والا انکوائری افسر 60 دن کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا پابند ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر رپورٹ درست نہیں ہوگی تو انکوائری افسر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

PRESS INFORMATION DEPARTMENT

GOVERNMENT OF PAKISTAN
ISLAMABAD