Agents of RAW and Qadianis have set to fight the lawsuit of Kashmir. Investigation into Pakistan’s permanent delegation to the United Nations of Maliha Lodhi, proved to be accurate. According to the facts, Maliha Lodhi was not only allegedly suspicious of the activities. She married her son Faisal Sherwani with an Indian girl. The Pakistani public and security agencies have been suspicious of their diplomatic status of hiding the marriage. Their daughter-in-law is reported to be from the Research and Ananlysis Wing RAW. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

ملیحہ لودھی کو فوری طور پہ عہدے برخواست کرکے کشمیر کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے جائیں اور ان کے تمام فیصلوں اور انکی رائے کو فوری طور پر سلامتی کے ادارے ریویو کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملیحہ لودی نے اپنے سی جی آفس میں جس نبیل احمد نامی شخص کو ڈائریکٹر پبلک ریلیشن (ڈی پی آر) اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے وہ قادیانی ہے اور اسی کے توسط سے نہ صرف سی جی آفس بلکہ پاکستان کے سفارتخانہ میں خورد ونوش کی جو اشیاءمثلا کھانا اور پھل وغیرہ آتے ہیں وہ بھی مشکوک ہوتے ہیں کیونکہ وہ قادیانیوں کے ہوٹلوں سے آتے ہیں اور نہ جانے وہ کون سی حرام اشیاءپکا کر کھلاتے ہیں اور اس وجہ سے کئی دفعہ سفارتخانہ اور سی جی آفس کے ملازمین کو نہ صرف قے وغیرہ بلکہ کچھ اور ہی ہوا مگر ہمیشہ اس کو فوڈ پوائزن کا نام دیکر بات دبا دی جاتی ہے۔سلامتی کونسل میں کشمیرکا مقدمہ لڑنے والی ملیحہ لودھی جس نے حال ہی میں بیٹے فیصل شیروانی کی شادی اس ہندو لڑکی(گوریکا) سے کروائی جس کے پورے خاندان کا تعلق اس( آرایس ایس)تنظیم سے ہے جس کے متعلق حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے انکشاف کیا تھا کہ انتہائی خطرناک اور کشمیر پاکستان دشمن تنظیم ہے۔گو کہ گوریکا اور فیصل شیروانی دونوں امریکہ میں ہی بزنس پڑھتے تھے اور پھر دونوں کو ہانگ کانگ شنگھائی بنکنگ کارپوریشن

(ایچ ایس بی سی) اور جے پی مورگن(لندن) کی نوکری نے قریب تر کردیا اور یہ شادی بھی لندن میں اس وقت انجام پذیر ہوئی جس وقت ھندوستان نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرتے ہوئے کرفیو کا نفاذکیا تو سلامتی کونسل میں کشمیر کا مقدمہ لڑنے والی ملیحہ لودھی اپنے سمدھیوں(آر ایس ایس ) سے پینگیں بڑھا رہی تھی اور شادی کے فورا بعد ملیحہ لودھی گوریکا کو لیکر یورپ اور دوسرے ممالک کی سیر کو نکلی ہوئی تھی۔ملیحہ لودھی سلامتی کونسل میں تو کشمیر کا مقدمہ لڑیں یا نہ البتہ پاکستان کیلئے کچھ اس طرح بھی سیکیورٹی رسک بھی ہیں کہ وہ اکثراپنے دفتری عملہ کو چکمہ دیکر سرکاری گاڑی چھپا کر اوبر کی گاڑی میںنیویارک کی گلیوں میں اس لئے گم ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنے سابقہ دوست مسعود احمد کو ملنے جاتی ہیں اور راتوں کو غائب رہتی ہیں(اور اگر اس دوران ملیحہ لودھی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے تو بدنامی ملیحہ لودھی کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہو گی)۔اب صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں کوریج کیلئے جانے والے صحافی پاکستانی ہوں یاغیر ملکی انہیں کشمیر کے مسلہ پر بین الاقوامی بریفنگ یا پریس کانفرنس میںملیحہ لودھی کے کہنے پر آاڈیو ریکارڈنگ،ویڈیو ریکارڈنگ یا تصویر نہیں بنانے دی جاتی بلکہ ایک من گھڑت پریس ریلیز جس کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر ہوتے ہیں تھما دی جاتی ہے کہ یہی بریفنگ یا پریس کانفرنس ہے آخر کا ر یہ سب کس کے کہنے پہ کیا جاتا ہے۔کیا ملیحہ لودھی بھارتی لابی کے ساتھ رشتہ داریاں اور تعلقات نبھانے کیلئے یہ سب کچھ اس اتنی اہم پوسٹ پر بیٹھ کر کر رہی ہے۔ اب باری آتی ہے کہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام بشمول کشمیری وزیراعظم عمران خان سے چند باتیں پوچھنا چاھتے ہیں کہ ملیحہ لودھی کے ساتھ ایک پاکستان دشمن قادیانی کو کیوں سیکنڈ ان کمان لگایا ہوا ہے؟اور ملیحہ لودھی حکومتی سطح پر کشمیر کے بارے کیوں خاموش ہے؟عوام وزیراعظم عمران خان کی کسی نیت پر شک نہیں کررہی مگر یہ ضرور تقاضا ہے کہ حکومت اس سلسلہ میں اپنی پوزیشن واضع کرے۔عوامی حلقے اس بات کا بھی تقاضا کرتے ہیں کہ عمران خان امریکہ کے دورے کے دوران کیپیٹل ہل میں آپ سے ملنے والے52ڈیموکریٹ اور پاکستانی کاکس کے ممبران جن میں سینیٹر شیلا جیکسن اور جم بینکس اور پاکستانی کاکس بنانے کے معاون خصوصی طاہر جاوید اس وقت مسلہ کشمیر پر کیوں خاموش ہیں؟اور اس کے ساتھ ساتھیہ بھی واضع ہو کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور نینسی پلوسی کے بیانات کشمیر میں بھارتے غاصبانہ قبضے،کرفیو کے نفاذ اور بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی کے بعد کیوں نہیں سامنے آ رہے ہیں؟پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بین الاقوامی ونگ کی لیڈرشپ کو مسلہ کشمیر پر خاموش رہنے کی کس نے ہدایات دی ہوئی ہیں اور وہ ڈپلومیٹ جو امریکہ اور یورپ میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں انہیں دانستہ طور پر کیوں رکھا ہوا ہے؟وزیر اعظم عمران خان کو یہ بھی واضع ہو کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب کا دفتر مکمل طور پر نبیل احمد جیسے قادیانیوں ، آر ایس ایس اور راءنے ملیحہ لودھی کی معاونت سے یرغمال بنایا ھوا ہے۔نیویارک میں مقیم پاکستانی صحافیوں نے بھی سی جی آفس کی طرف سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم بھی پاکستانی قوم کی طرح صرف اور صرف پاکستان کی سلامتی کے اداروںپر اور افواج پاکستان پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی عہد کرتے ہیں کہ کشمیر پر کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔