عمران خان حکومت کے لئے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جہاں وزیر اطلاعات دن رات کام کر کے عمران خان حکومت کا دفاع کر رہے ہیں وہاں سابقہ حکومت کا کرپٹ ، نا اہل اور جاہل انسان جس کا نام شفقت جلیل ہے ہو چار ٹوپیاں پہن کر براجمان ہے۔یہ ایسا شخص ہے جو حکومت کو ریلیف دینے کے بجائے حکومت کے لئے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ نہ تو اس نے زندگی بھر کام کیا اور نہ کوئی اس میں ایسی خصوصیت ہے کہ وہ گریڈ 19 سے اوپر جا سکتا ۔ اس نے 1995 میں نواز شریف سے امریکہ میں پوسٹنگ کروائی اور 2013 میں نواز شریف سے گریڈ 20 اور 2017 میں گریڈ 21 لیا۔ راجہ پرویز اشرف کے ساتھ پریس سیکرٹری تھا ، مفت حج کیا اور دنیا کا سب سے زیادہ بیرونِ ممالک کے دورے کرنے والا انفارمیشن گروپ کا آفیسر ہے۔ اس کو سابقہ حکومت میں مریم نواز نے حکومت میں رکھ کر فوج کے خلاف پروپیگنڈا کروانا اسکی ڈیوٹی میں شامل تھا ۔ اس نے ای پی ونگ کو بند کیا ، ریڈیو پاکستان کو بند کروایا اور جوتے کھائے۔ اس کے بعد پی آئی ڈی میں آگ لگوائی۔ اس کو اب ایڈیشنل سیکرٹری انچارج لگوایا گیا اور جب تک قائرین یہ لائن پڑھیں گے اس وقت تک اس کو گریڈ 22 بھی مل جائے گا۔ موجودہ حکومت سے پہلے اس کو مجیب الرحمان شامی کے کہنے پر ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے لگوایا جس کی تمام تفصیلات خفیہ ایجنسیوں اور ایسٹیبلشمنٹ کے پاس موجود ہیں۔مجیب الرحمان شامی نے سابقہ حکومت میں 18 ارب روپےسے زائد کے فوائد لئے جس کی تفصیلات سب کو معلوم ہیں ۔ شفقت جلیل نے اپنی عمر 9 سال جعلی طریقے سے کم کروائی ۔ اس کے دانت کا ڈی این اے کیا جائے تو یہ 71، 72 سال کا ہے جس عمر میں انسان اپنا زہنی توازن کھو دیتا ہے۔ اس نے موجودہ حکومت کے اور میڈیا کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنے کے بجائے انتہائی خطر ناک کھیل کھیلا ہے اور نواز شریف کی ٹیم کا حصہ بنے رہنے کو برقرار رکھا ہے۔ ایسے شخص کو اطلاعات کا سیکرٹری کیسے رکھا جا سکتا ہے جو مختلف ادارے بند کروا چُکا ہے ۔ فواد چوہدری جن کا خاندان سینکڑوں سالوں سے حکومت میں مختلف عہدوں پر رہا ہے ۔ شفقت جلیل کو برقرار رکھنے سے فواد چوہدری کے لئے مسائل میں اضافہ ہو گا نہ کہ مشکلات میں کمی۔ شفقت جلیل کے بارے میں چند روز قبل ڈیلی پوسٹ انٹرنیشنل میں خبریں شائع کیں جو کہ مندرجہ زیل ہیں۔

June 2, 2019 Baadban 0

بادبان رپورٹ: 26 دسمبر کی سرد رات کو وزارت اطلاعات کے 68 سالہ شفقت جلیل نے غالب رات منانے پر صدر مملکت کو ماموں بنایا اور شُعرا کے کچرے کا ایوانِ صدر میں میلا لگایا۔ کچھ شعراء کے علاوہ 22 شُعراء کو بُلایا گیا۔ اس کی سیٹ ڈیزائننگ پی این سی اے نے کی اور پی ٹی وی نے خوبصورت طریقے سے اسے نشر کیا۔ وزارت اطلاعات نے 71 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ غالب ڈے منانے کا فیصلہ کیا اور شفقت جلیل نے اس کاوش کو ناکام بنادیا۔۔۔۔انہوں نے 22 شُعراء اکھٹے کئے جن میں سے 6 کو چھوڑ کر باقی تمام شاعر ایسے ہی تھے جیسے کھلاڑی فٹبال کا ہو اور میچ کرکٹ کا کھِلا دیا جائے۔ اُن کو مختلف ہوٹلوں میں ٹہرایا گیا ٹی اے ڈی اے دیئےگئے لیکن کام زیرو۔ صدرِ مملکت بھی پریشان۔ محسن شکیل ، بحرام غوری اور چنگیزی کوئٹہ سے۔ شاکر ، اختر عثمان، قمر رضا ، شہزاد ملتا ن سے۔ حمیدہ لاہور سے ، امجد سلیمی چکوال سے۔ مُرتضیٰ برلاس، شکیل اختر، کِشور ناہید، سلیم کوثر اور پیر زادہ قاسم کو نہ بُلا کر شفقت جلیل نے وزیر اطلاعات کی اس کاوش کو ڈرم میں پھینک دیا۔ حلیم قریشی ، نسرت زیدی ، ریاض مجید، احسان اکبر تمام شاعروں کو کچھ پڑھنا بھی نہیں آتا تھا۔ انور مسعود ، افتخار عارف کے علاوہ کوئی ایسا شاعر قابل ذکر نہیں تھا جس پر ناظرین داد بھی دیتے۔ بادبان رپورٹ کے مطابق ان شُعرا کو سیکرٹری اطلاعات نے اگر 50 ہزار دینے کا کہا تھا لیکن ان شُعراء کو یہ قیمت بھی نہ دی گئی اور اس طرح شفقت جلیل اپنے مذموم مقاصد میں ۔ کیا وزیر اعظم اور وزیر اطلاعات ، سیکرٹری کے خلاف کوئی ایکشن لیں گے؟

June 2, 2019 Baadban 0

ایک طرف تو اخبارات ، ریڈیو ، ٹیوی چینلز اور اخبارات بند کئے جا رہے ہیں اور وزیر اطلاعات پاکستان وزارت اطلاعات کی اکیڈمی کو بھی پی آئی ڈی ، پیمرا، ڈیمپ ، پریس کونسل آف پاکستان، پریس رجسٹرار کو ایک ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔ تو کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ ان اداروں میں ہزاروں افراد کام کرتے ہیں اُن کا مستقبل کیا ہوگا؟ وفاقی وزیراطلاعات اور حکومت تو یہ شائد نہ چاہتی ہو کہ کسی کو بے روزگار کرے لیکن وزارتِ اطلاعات کے سکرٹری شفقت جلیل جن کی عمر 78 سال ہے ، وہ ان اداروں کو بند کروانے پر تُلے ہوئے ہیں ۔ چند روز قبل انہوں نے ٹی وی چینلز کے اشتہارات کم کروائے جن کو نہیں مانا گیا۔ مان لیا کہ ان اداروں کی ضرورت نہیں ہے تو کیا وزارت اطلاعات بھی ختم کر دی جائے گی۔ ان تمام ادوروں میں 2 گریڈ 22 کے افسران ہیں ۔ اسی طرح ڈیمپ میں گریڈ 20 کے افسران 2 ہوتے ہیں ۔ پریس رجسٹرار میں بھی گریڈ 20 کا ایک افسر ہوتا ہے۔ ریڈیوں پاکستا ں میں بھی 21 گریڈ کا ایک اور 5 20 گریڈ ہوتے ہیں ۔ اور لا تعداد گریڈ 18، 19، اور 17 کے ہوتے ہیں جن کی تعداد ہزاروں ہے۔ موجودہ سیکرٹری اطلاعات بطورِ ڈائریکٹر جنرل ڈیمپ پہلی دفعہ ادارے کے سربراہ بنائے تو اپنے قریبی رشتہ دار سے ایک کمرہ 6 کرورڑ کا بنایا گیا۔ پھر انہیں ڈی جی ایکسٹرنل پبلیکشنز کا بنا تو انہوں نے وہاں پر ٹیکنیکل طریقے سے باتھ روم بھی بند کروا دئے جو سب جانتے ہیں ۔ پھر موصوف کو ریڈیوں پاکستا ن کا اضافی چارج دیا گیا جہاں ان کو جسمانی طور پر زود کوب کیا گیا جبکہ ان کے پاس ایڈیشنل سیکرٹری کا عہدہ بھی تھا۔ اور یہ موصوف مار کھانے کے بعد۔ اب یہ سیکرٹری اطلاعات ہیں ۔ یہ ایسے ہی ہیں کہ ایک کور کمانڈر ہے اور یہ کہے کہ میں نے یونٹ۔ اسی طرح انیوں نے ریڈیو پاکستان کو نہیں چھوڑا اور انیوں نے ریڈیو کے اشتہارات جو ایم ایم 101 کے زریعے آتی تھی جو اب ختم ہو چُکی ہے۔ اور اب کئیں کمپنیاں 20 ، 20 کروڑ کی آفر کرتی ہیں لیکن موصوف کوئی دھنک چینل چلانا چاہتے ہیں جبکہ جانتے ہیں کہ دھنک کیا ہے۔

June 2, 2019 Baadban 0

بادبان رپورٹ:۔ ملک ریاض کی زندگی کو خطرہ آج جیل جائیں گے یا پھر گلی نمبر 99 میں واپس آئیں گے۔ اہم کیس کی سماعت چیف جسٹس کریں گے۔تفصیلات جانیئے بادبان رپورٹ میں

February 20, 2019 Baadban 0

بادبان رپورٹ ملک ریاض کی زندگی کو خطرہ آج جیل جائیں گے یا پھر گلی نمبر 99 میں واپس آئیں گے۔ اہم کیس کی سماعت […]

Chairman Pakistan Electronic Media Regulatory Authority, Mr. Muhammad Saleem presented PEMRA’s performance report of its operations and accounts for the Financial Years 2015-18 to President Dr Arif Alvi at Aiwan-e-Sadar Islamabad today. See Details in Baadban Report:

February 20, 2019 Baadban 0

Baadban Report: Chairman Pakistan Electronic Media Regulatory Authority, Mr. Muhammad Saleem presented PEMRA’s performance report of its operations and accounts for the Financial Years 2015-18 to […]