BAADBAN ALERT: The House of the National Assembly became a fish market, outrage takes off coat and dhoti. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

قومی اسمبلی ،علی زیدی کے بیان پرہنگامہ،ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا
پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے اراکین آمنے سامنے ، ایک دوسرے خلاف شدید نعرے بازی ،بولنے کی اجازت نہ دینے پر پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی ارکان کا سپیکر کی ڈائس کا گھیرائو
پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے ایوان میں سیتا وائٹ کیس اٹھا دیا ، سپیکر نے انکا مائیک بند کر دیا اور علی زیدی کی تقریر کا جواب دینے کی اجازت نہ دی


اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر علی زیدی کے پیپلز پارٹی قیادت پر سنگین الزامات پر ایوان میں شدیدہنگامہ،ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا،پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے اراکین آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے خلاف شدید نعرے بازی کی،بولنے کی اجازت نہ دینے پر پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی ارکان نے سپیکر کی ڈائس کا گھیرائو بھی کیا ،پیپلز پارٹی رہنما سیدنوید قمر نے ماحول ٹھنڈا کرانے کی کوشش کی لیکن وہ خود جذباتی ہوگئی اور کوٹ اتارتے ہوئے حکومتی ارکان کو کہا کہ اگر لڑنا ہے تو پھر آجاؤ لڑ لیتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے ایوان میں سیتا وائٹ کیس اٹھا دیا جس پر سپیکر نے انکا مائیک بند کر دیا اور علی زیدی کی تقریر کا جواب دینے کی اجازت نہ دی،جس پر اپوزیشن نے ایک بار پھر شدید احتجاج کیا اور احتجاجاً ایوان سے واک آئوٹ کر گئے ،جس کے بعد حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں تمام ضمنی گرانٹس منطور کروا لیں۔وفاوی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ بھٹو کی جماعت ایک قاتل ،لوٹ کے نظام اور دہشت گردی کی جماعت کیسے بن گئی؟ ثبو گا کہ دہشت گردی کی جماعت کیسے بنی،خالد شہنشاہ ،بلال شیخ،بے نظیر بھٹو شہید ،مرتضیٰ بھٹو کا قاتل کون تھا؟منشیات فروشی کا سہولت کار سعید غنی کا بھائی ہے، عزیز بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز بتاتی ہیں ان سب جرائم کا سرپرست آصف علی زرداری تھا،عزیر بلوچ کو فریال تالپور ہدایات دیتی تھیں،عزیر بلوچ نے 58 لوگوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور اس نے جن کے کہنے پر لوگوں کو قتل کیا وہ یہاں آکر بجٹ پر تقاریر کرتے ہیں،عمران خان پر فلم بنتی ہے تو وہ قوم کا سر فخر سے بلند کرتی ہے،مگر جو ان پر فلم بنتی ہے اسکا نام ہوتا ہے دی پرنسز اینڈ پلے بوائے،بلاول کو چیلنج کرتا ہوں ایک روپے کی کرپشن ثابت کر دیں ،میں اپنے بچوں اور والدین کو سور کا گوشت یا حرام نہیں کھلاتا،حلال کماتا ہوں اور حلال کھاتا ہوں۔وہ منگل کو قومی اسمبلی اجلاس میں زاتی وضاحت پر بات کر رہے تھے۔وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ علی زیدی نے کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم سیاست میں کیوں آئے اور ہم اس میں کتنے کامیاب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سب سے بڑ کراپوزیشن نے2دہائیوں میں جو لوگوں سے امید کی کرن بھی لوٹ لی تھی،عمران خان نے قوم کو امید کی کرن دن اور حکومت میں آکر عوام سے کئے وعدے پورے کر یں گئے،ہمیں عمران خان نے رائٹ اور لیفٹ کی سیاست نئی سکھائی، اپوزیشن کی صفحوں میں رانگ نمبر لگ چکا ہے،مجھے فخر ہے کہ میں اس جماعت کا حصہ ہوں جس کے قائد کے دل میں احساس ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پر بہت تنقید کی جاتی ہے،عمران خان پر بڑی فلمیں بنی ہیں،جتنی عالمی سطح پر عمران خان پر فلمیں بنی یہاں کسی کی نئی بنیں،مگر میں 2فلموں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ،جب عمران خان پر فلم بنتی ہے تو وہ قوم کا سر فخر سے بلند کرتی ہے،مگر جو ان پر فلم بنتی ہے اسکا نام ہوتا ہے دی پرنسز اینڈ پلے بوائے۔پیپلز پارٹی چیئرمین نے کل کہا کہ میں کرپٹ وزیر ہوں ،میں انکو چیلنج کرتاہوں کہ ایک روپے کی کرپشن ثابت کر دیں ،میں اپنے بچوں اور والدین کو سور کا گوشت یا حرام نہیں کھلاتا،حلال کماتا ہوں اور حلال کھاتا ہوں،ایک روپے کی کرپشن کا ثبوت دے دیں تو مجھے عوامی سطح پر زلیل کریں۔انہوں نے کہا کہ بھٹو کی جماعت ایک قاتل کی جماعت،ایک لوٹ کے نظام اور دہشت گردی کی جماعت کیسے بن گئی،علی زیدی نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ثبوت کیساتھ بتائوں گا کے دہشت گردی کی جماعت کیسے بن گئی۔اس ملک میں دہشت گردی لایا کون،1981میں پی آئی اے کا جہاز پردسلام اللہ ٹیپو کیسے جہاز اغوا کر کے افغانستان لیکر گیا کیا وہ دہشت گردی نہیں تھی،عمران خان کے بیان پر بہت شور اپوزیشن نے مچایا،مجھے بتائیں کہ اس ملک کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر جب انکی وفات ہوئی،کتابوں میں بے نظیر بھٹو اور طالبان کے رابطوں بارے لکھا گیا ہے وہ یہ پڑھ لیں،خالد شہنشاہ ،بلال شیخ،بے نظیر بھٹو شہید ،مرتضیٰ بھٹو کا قاتل کون تھا؟۔بلاول بھٹو زرداری جو مجھے کرپٹ کہہ رہے تھے،انہوں نے ڈیڑھ ارب کے اثاثے ظاہر کئے ہیںجبکہ2015میں 4لاکھ ،2016میں5.5،2017میں آڑھائی لاکھ ٹیکس دیا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کا بھی گھیرائو کیا۔وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ ایس پی پولیس کی رپورٹ میں سعید غنی کے بھائی میں کیا لکھا ہے یہ لوگ پڑھ لیں،جے آئی ٹی کی رپورٹ میں لکھا ہے ،نثار مورائی نے3قتل کئے،وفاقی وزیر نے پیپلز پارٹی قیادت پر سنگین الزامات لگائے اور کہا کہ یہ جے آئی ٹی میں نے نہیں لکھی ،نثار مورائی کی تقرری فریال تالپور کی سفارش پر ہوئی یہ بھی جے آئی ٹی کہتی ہے ،عزیز بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز بتاتی ہیں ان سب جرائم کا سرپرست آصف علی زرداری تھا۔پیپلزپارٹی ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور سپیکر کی ڈائس کا گھیرائو جاری رکھا ،سپیکر پیپلزپارٹی ارکان کو ڈائس سے دور رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔اس موقع پر سپیکر نے علی زیدی کو اپنی تقریر ختم کرنے کی ہدایت کرتے رہے،مگر وفاقی وزیر نے اپنے تقریر جاری رکھی جس پر سپیکر نے انکا مائیک بند کر دیا اور پیپلز پارٹی کے نوید قمر کو بات کرنے کی اجازت دی جس پر حکومتی ارکان نے احتجاج شروع کر دیا اور علی زیدی کو بات مکمل کرنے کا موقع دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ یہ آپ کیسارویہ اپنا رہے ہیں،کیا اس سے اپ اس ایوان کا قد بڑھا رہے ہیں،حکومتی ارکان کے احتجاج پر نوید قمر نے کہا کہ کیا آپ لڑائی کرنا چاہتے ہیں،اگر لڑائی کرنی ہے تو آجائیں میں تیار ہوں ،اس موقع پر نوید قمر نے اپنا کوٹ آدھااتار کر حکومتی ارکان کی طرف بڑھے اور حکومتی ارکان کو کہا آجاؤ پھر لڑ لیتے ہیں۔جس پرحکومتی اراکین کی جانب سے اوئے اوئے کی آوازیں لگائی گئیں۔اپوزیشن کے بعد حکومتی ارکان نے بھی سپیکر دائس کا گھیرائو کیا اور علی زیدی کو بات مکمل کرنے کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔سید نوید قمر نے کہا کہ قادر پٹیل کا نام لیا گیا ہے،میں اسکی جگہ کیا جواب دے سکتا ہوں اور قادر پٹیل کو بولنے کی اجازت دیں جس پر سپیکر نے علی زید ی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 2منٹ میں اپنی بات مکمل کریں اپکے بعد میں قادر پٹیل کو وضاحت کا موقع دئوں گا۔علی زیدی نے کہا کہ جے آئی ٹی میں نئی لکھی تمام قومی ادارئوں کے نمائندوں کے اس پر دستخط ہیںجے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ خاندان کے شروع سے پیپلز پارٹی کیساتھ تعلقات تھے جنہیں عبدالقادر پٹیل سمیت دیگر لوگ احکامات دیتے تھے،انکے فنانسر آصف علی زرداری تھے،جے آئی ٹی کے مطابق ان لوگوں نے اپنے من پسند افراد بھرتی کئے جو انکو کروڑوں روپے دیتے تھے،عزیر بلوچ نے 58 لوگوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور اس نے جن کے کہنے پر لوگوں کو قتل کیا وہ یہاں آکر بجٹ پر تقاریر کرتے ہیں۔میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں آج دعا کرتا ہوں کہ میرا بیٹا بڑا ہوکر میرے لیڈر جیسا بنے اور کیا یہ لوگ بھی دعا کریں کہ انکے بیٹے بھی انکے لیڈر جیسا بنیں گے۔اس موقع پر سپیکر نے عبدالقاد ر پٹیل کو مائیک دیا تو انہوں نے کہا کہجب انسان کو اوقات سے زیادہ مل جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے،عبدالقادر پٹیل نے ایوان میں سیتا وائیٹ کیس کا ذکر کر دیا اور کہا کہ عدالت میں ڈی این اے سے ثابت ہو چکا،جو شخص اپنی بیٹی کو نہیں مانتا۔اس موقع پر سپیکر نے عبدالقادر کا مائیک بند کردیا اور کہا کہ ایسی بات نہ کریں ورنا اچھا نئی ہوگا جس پر عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ یہ بھی عدالت کا فیصلہ ہے،وزیر کو بات کرتے ہوئے اپ نے نہیں روکا ۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے قادر پٹیل کو بولنے کا موقعہ دینے سے قبل ہی ضمنی گرانٹس پاس کروانا شروع کردیں،جس پراپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج شروع کر دیا۔اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کی جانب سے عبدالقادر پٹیل کو بولنے کا موقعہ نہ دینے پر واک آؤٹ کیا ۔اپوزیشن کے واک آئوٹ کے بعدوزیر اعظم عمران خان ایوان میں پہنچ گئے،حکومتی ارکان نے ڈیسک بجاکر وزیر اعظم کا استقبال کیا