Bilawal Bhutto announces moral support for Fazlur Rehman’s protest. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

 

بلاول بھٹو کا فضل الرحمان کے احتجاج کی اخلاقی حمایت کا اعلان

عمران خان کراچی فتح کرنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی نافذ کرنے اور انیسویں ترمیم ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا،بلاول نے کہا کہ کچھ تحفظات دور ہوجائیں تو شاید ہم مولانا کے احتجاج میں شامل بھی ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا احتجاج کا لائحہ عمل بنایا ہے، ہمارا احتجاج سندھ سے ہوتا ہوا پنجاب جائے گا۔ اکتوبر میں مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ہے، ہم مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں، لائحہ عمل بنانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کے پاس وفد بھیج رہا ہوں۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ میرا جو بھی راستہ ہوگا جمہوری اور آئینی ہوگا، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری نظام چلے،پارلیمنٹ چلے، جمہوریت پرکسی صورت سمجھوتا نہیں کریں گے۔ ہرصورت میں جمہوریت کاتسلسل برقراررکھا جائے، آئین کی بالادستی ہو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کا تحفظ اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، سوموٹو اختیارات کے طریقے کار پر نظرثانی ہونی چاہیے اور آرٹیکل 184 کی ذیلی شق 3 پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بھی نظر ثانی ہونی چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات انتخابی اصلاحات کے مطابق ہونے چاہئیں، موجودہ قوانین کے تحت دوبارہ عام انتخابات کا فائدہ نہیں ہوگا۔ انتخابی اصلاحات کے بارے میں سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری رکھیں گے۔

بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ احتساب کا عمل شفاف بنایا جائے، انہوں نےکہا کہ صدر عارف علوی نے الیکشن کمیشن میں نئے ارکان لگانے کے لیے غیر آئینی کام کیا جس پر ان کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پھر ایک سیاسی گرفتاری کی گئی اور خورشید شاہ کو گرفتار کیا گیا۔ نیب سیاسی انجینئرنگ کے لیے بنایا گیا، نیب کا کالا قانون مشرف کا بنایا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جسے کہتے ہیں اسےگرفتار کر لیا جاتا ہے، چیئرمین نیب وہی کرتےہیں جیسا وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں، اس وقت یکطرفہ احتساب ہورہا ہے۔ ہم چاہتےہیں تمام سرکاری اداروں کا احتساب ایک ہی طریقہ کار کے مطابق ہو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری کہتے رہے کہ معیشت اور نیب ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اب وزیراعظم بھی کہتے ہیں کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان اپنے ملک میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق پر بات کیسے کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اپنے ملک میں سیاسی مخالفین کو قید کر رہے ہیں، وہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کے لیے کیسے آواز اٹھائیں گے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ وزیراعظم کی توجہ کشمیر پرنہیں ہے، وہ کراچی اورسندھ کو فتح کرنا چاہتے ہیں، سندھ میں صوبائی خود مختاری پر حملہ کیا جارہا ہے۔

بلاول نے میڈیا پر حملوں اور میڈیا ٹریبونلز بنانے کے منصوبے کی بھی مذمت کی اور کہا میڈیا کورٹس کے معاملے کی ہر فورم پر مخالفت کریں گے۔

کی اخلاقی حمایت کا اعلان

عمران خان کراچی فتح کرنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی نافذ کرنے اور انیسویں ترمیم ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا،بلاول نے کہا کہ کچھ تحفظات دور ہوجائیں تو شاید ہم مولانا کے احتجاج میں شامل بھی ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا احتجاج کا لائحہ عمل بنایا ہے، ہمارا احتجاج سندھ سے ہوتا ہوا پنجاب جائے گا۔ اکتوبر میں مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ہے، ہم مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں، لائحہ عمل بنانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کے پاس وفد بھیج رہا ہوں۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ میرا جو بھی راستہ ہوگا جمہوری اور آئینی ہوگا، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری نظام چلے،پارلیمنٹ چلے، جمہوریت پرکسی صورت سمجھوتا نہیں کریں گے۔ ہرصورت میں جمہوریت کاتسلسل برقراررکھا جائے، آئین کی بالادستی ہو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کا تحفظ اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، سوموٹو اختیارات کے طریقے کار پر نظرثانی ہونی چاہیے اور آرٹیکل 184 کی ذیلی شق 3 پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بھی نظر ثانی ہونی چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات انتخابی اصلاحات کے مطابق ہونے چاہئیں، موجودہ قوانین کے تحت دوبارہ عام انتخابات کا فائدہ نہیں ہوگا۔ انتخابی اصلاحات کے بارے میں سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری رکھیں گے۔

بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ احتساب کا عمل شفاف بنایا جائے، انہوں نےکہا کہ صدر عارف علوی نے الیکشن کمیشن میں نئے ارکان لگانے کے لیے غیر آئینی کام کیا جس پر ان کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پھر ایک سیاسی گرفتاری کی گئی اور خورشید شاہ کو گرفتار کیا گیا۔ نیب سیاسی انجینئرنگ کے لیے بنایا گیا، نیب کا کالا قانون مشرف کا بنایا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جسے کہتے ہیں اسےگرفتار کر لیا جاتا ہے، چیئرمین نیب وہی کرتےہیں جیسا وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں، اس وقت یکطرفہ احتساب ہورہا ہے۔ ہم چاہتےہیں تمام سرکاری اداروں کا احتساب ایک ہی طریقہ کار کے مطابق ہو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری کہتے رہے کہ معیشت اور نیب ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اب وزیراعظم بھی کہتے ہیں کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان اپنے ملک میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق پر بات کیسے کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اپنے ملک میں سیاسی مخالفین کو قید کر رہے ہیں، وہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کے لیے کیسے آواز اٹھائیں گے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ وزیراعظم کی توجہ کشمیر پرنہیں ہے، وہ کراچی اورسندھ کو فتح کرنا چاہتے ہیں، سندھ میں صوبائی خود مختاری پر حملہ کیا جارہا ہے۔

بلاول نے میڈیا پر حملوں اور میڈیا ٹریبونلز بنانے کے منصوبے کی بھی مذمت کی اور کہا میڈیا کورٹس کے معاملے کی ہر فورم پر مخالفت کریں گے۔