By crossing sea of gore we’ve achieved the triumph. Gen Asif Ghafoor

 

پریس کانفرنس میں کرنے کے لیے بہت سے موضوعات تھے لیکن پلوامہ واقعہ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے آج زیادہ تر بات چیت اسی سلسلہ میں ہو گی۔ اس کے علاوہ صرف 2 اور موضوعات ہیں جن پر مختصر بات ہوگی۔
پلوامہ کا واقعہ
* 14 فروری کو پلوامہ میں قابض بھارتی فوج کو ایک حریت پسندنوجوان عادل احمد ڈار نے نشانہ بنایا اور اس کے فوراً بعدپاکستان پر الزامات کی بو چھاڑ کر دی گئی۔ بغیر سوچے ، بغیر سمجھے۔ بغیر ثبوت!
* پاکستان نے اس دفعہ جواب دینے میں وقت لیا۔ لگائے گئے الزامات کی اپنے تئیں تحقیق کی۔ جب یقین ہوا تو جواب دیا
* اس واقعہ پر مزید بات چیت کرنے سے پہلے میں چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ یہ باتیں اس لیے بھی ضروری ہیں کیونکہ ہمیں 5th Generation Warfare کا سامنا ہے۔ جس کا بنیادی ہدف ہماری نوجوان نسل ہمارا مستقبل ہے۔ پاکستان کی 64% نوجوان نسل کا ماضی سے متعلق چند باتوں کا جاننا ضروری ہے۔
* ہماری 72 سال کی تاریخ ہے اور افسوس کی بات ہے کہ 1947 ؁ء میں ہندوستان کے تقسیم ہونے اور پاکستان بننے کی حقیقت کو انڈیا نے ابھی تک دل سے قبول نہیں کیا۔
اکتوبر1947 ؁ء میں کشمیر پر حملہ کیا اور 72 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم جاری ہے۔
1965 ؁ء میں لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی کو بارڈر تک لے آیا اور شکست کھائی۔ لیکن ایک نوزائیدہ ملک ہوتے ہوئے اس جنگ کے ہماری تعمیر و ترقی پر گہرے اثرات پڑے۔
1971 میں مشرقی پاکستان سے ہمارے زمینی فاصلے اور وہاں کے اندرونی سیاسی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوے ہمیں سازش سے دو لخت کیا۔ اپنی غلطیاں کوتاہیاں ایک طرف مگرمکتی باہنی کے پیچھے انڈین ہاتھ اور پھر مشرقی پاکستان پر حملے سے آپ سب واقف ہیں خود موجودہ انڈین وزیر اعظم اس کا اعتراف کر چکے ہیں( اصل دہشتگردی تو آپ نے تب کی ) ہم اس سانحے سے بھی سنبھلے۔
1971-84 تک ہماری مشرقی سر حد پر تقابلی طور پر امن رہا۔ ہم نے ایک بار پھر استحکام اور ترقی کی راہ دیکھی۔ اس دوران ہمارے مغربی ہمسائے افغانستان میں سویت یونین کا حملہ بھی ہوا جس میں پاکستان کا ایک کردار رہا۔ مگر اِسی دوران انڈیا نے سیاچن پر حملہ کیا اور ایک حصہ پر ہماری غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبضہ کیا۔دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ پر ہماری افواج آج بھی ڈٹی ہوئی ہیں۔
1998 ؁ء میں ہم نے جوہری طاقت حاصل کی وہ بھی اپنے Self Defense کے لئے۔ اس Deterrence کی موجودگی اور روایتی جنگ کے ناممکن ہونے کی وجہ سے انڈیا نے ہم پر غیر روایتی جنگ مسلط کی۔ کسی اور کی سر زمین استعمال کرتے ہوئے ہمارے ملک میں دہشتگردی کو فروغ دیا۔
2001 میں جب بین الاقوامی افواج نے افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشن کیا تو انڈیا ہماری مشرقی سرحد پر اپنی افواج لے آیا۔
ہم مشرقی سرحد پر نہ ہوتے تو مغربی سرحد سے دہشگردی کو اپنے ملک میں داخل ہونے اور پھیلنے سے بہتر طریقے سے نمٹ سکتے۔
2008 میں جب ہم دہشگردی کے خلاف بھر پور جنگ لڑ رہے تھے تو ایک بار پھر ہماری توجہ ہٹانے کے لیے مشرقی سرحد پر اپنی فوج کا اجتماع کیا۔ ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں دہشگردی کے واقعات کرواتا رہاجس کا زندہ ثبوت کلبھوشن جادیو ہے۔
پاکستان نے اس تمام عرصہ میں کیا کیا !
1988-89 میں دو طرفہ CBMs کے لیے بات چیت کا آغاز کیا۔
2003 میں DG MOs کے درمیان Hotline قائم کی اور لائن آف کنٹرول پر فائر بندی پر Understanding کی۔ لائن آف کنٹرول پر 5 کراسنگ پوائنٹس قائم کیے۔
2004-2008 کے دوران 5 دفعہ Composite Dialogue کیے۔یہ پراسسMumbai Attack کے بہانے انڈیا نے ختم کر دیا۔
اب میں آپ کو ایک ٹائم لائن دکھانا چاہتا ہوں۔ واقعات کی ٹائم لائن۔ جب بھی پاکستان نے اپنے استحکام اور ترقی کی جانب قدم بڑھائے تب تب کوئی نہ کوئی پلوامہ جیسا واقعہ رونما ہوا۔ اس ٹائم لائن کو دکھانے کا ایک مقصد ہے۔ وہ یہ کہ جب اتنا اہم وقت پاکستان میں ہو تو کس طرح پاکستان مقبوضہ کشمیر یا بھارت میں ایسے واقعات کو سپورٹ کر سکتا ہے۔
اب آئیے پلوامہ کی طرف۔
14 فروری۔ فروری مارچ میں پاکستان میں کیا ہو رہا تھا؟
۱۔ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان اور سرمایہ کا ری
۲۔ UNSC میں Terror Listing
۳۔ افغان امن عمل میں پیش رفت
۴۔ EU میں UN کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی رپورٹ پر بحث
۵۔ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن جادیو کے مقدمہ کی سماعت
۶۔ FATF کی رپورٹ پر بحث اور فیصلہ
۷۔ کرتارپور بارڈر راہداری پر پیش رفت کی میٹنگ
۸۔ پاکستان سُپرلیگ کے میچ
۹۔ اور مت بھولیے ہندوستان میں الیکشن
۱۰۔ کشمیر میں بڑھتی ہوئی جدوجہدِ آزادی
ان بہت اہم Events کے موقع پر پلوامہ ہونا کس کے فائدے میں جاتا ہے؟ نقصان کس کو ہوتا ہے۔ ہمیں؟ تا کہ ہمارے 8 بہت اہم معاملات خراب ہوں یا بھارتی الیکشن اور کشمیر میں زور پکڑتی جدوجہدِآزادی
I leave the understanding to you and the international community.
پلوامہ واقعہ کی طرف جانے سے پہلے آخری بات بھارت کا یہ پراپیگنڈا کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہے۔ اگر تنہا ہے تو
( عالمی لیڈر پاکستان کیوں آرہے؟ KSA, Malasia, UAE & Turkey
( غیر ملکی سرمایہ کاری کیوں بڑھ رہی؟
( CPEC کیسے ہورہا؟
( ( Exercise Warrior 6 (Jan 2019 Pak-China
( Pak-Russia Exercise Druzhba-III (Oct 2018)
( Pak-China International Air Exercise Shaheen-7 (Dec 2018)
( Pak-US Airforce Falcon Talon (Jan 2019)
( Pakistan Navy Aman Exercise – 40 Countries (Feb 2019)
اب ذرا پلوامہ واقعہ کو غور سے دیکھتے ہیں۔
* LOC سے آگے قابض بھارتی فوج کا دفاع
* LOC سے 150 کلومیٹر دور
حملہ کرنے والا ایک20-22 سالہ کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار۔ اُس کی اپنی ایک کہانی ہے۔اس نوجوان کو 2017 میں قابض بھارتی فوج نے نا صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسے اپنی حراست میں بھی رکھا اور اس کے دو ساتھیوں کو شہید کر دیا۔ اس کے والدین کا بیان بھی اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔
* مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج اور انتظامیہ کے زیر استعمال 300 kg سے زائدبارود
* حملہ میں استعمال ہونے والی گاڑی مقامی
* حملہ کی ممکنات سے متعلق بھارتی لوگوں کی Prediction ٹویٹس
* حملہ میں مارے جانے والے سیکورٹی افراد کیComposition ) جن میں سے زیادہ تر کا تعلق کچھ مخصوص classes اور ethnics groups سے ہے۔)
(General Category 8, Muslims 1, Backward Classes 19, Schedule Caste 7, Schedule Tribe 5)
* حملہ آور نوجوان کی ریلیز کی گئی ویڈیو ۔ اگر ویڈیو ٹیکنالوجی کے ماہرین Artificial Intelligence کے سب فیلڈ Deep Fake Technology اور
Generative Adversarial Network (GAN) کا جائزہ لیں تو بہت سی حقیقتیں واضح ہو جائیں گی۔
* حملہ آور کی نمازِ جنازہ میں مقامی افراد کی شرکت
( بھارت میں اِس واقعہ کے بعد کی گئی پاکستان مخالف اشتعال انگیزی
* اب آئیے پاکستان کی طرف سے ردِ عمل پاکستان بدل رہا ہے۔ ایک مختلف سوچ ہے۔ ہم نے مشکلوں سے نکل کر کامیابی کا زینہ چڑھنا شروع کیاہے۔ ہم نے خون کا دریا پار کر کے اپنے وطن کو جلا بخشی ہے۔ دُنیا کے واحد ملک اور واحد افواج کے طور پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

افغانستان میں موجود بین الاقوامی افواج کو القائدہ کے خلاف کامیاب ہونے میں کردار ادا کیا ہے۔ خطے میں امن کے لیے کو شش کر رہے ہیں۔ معاشی اور سماجی طور پر مستحکم ہو رہے ہیں۔
اِس بدلی ہوئی سوچ اور بدلے ہوئے پاکستان میں صبر آیا ہے۔ تحمل آیا ہے۔ زمہ داری آئی ہے۔ آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی سوچ آئی ہے۔
غلطیاں کیں مگر سیکھاہے۔ اب غلطی کی نہ گنجائش ہے نہ ارادہ۔
ہماری حکومت نے پہلے سوچا تحقیق کی تب جواب دیا۔ اور جواب بھی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دیا۔ ہمارے وزیر اعظم نے بھارت کو وہ پیش کش کی جو شاید پہلے کبھی نہیں۔
۱۔ جس قسم کی چاہیں تحقیقات کروالیں۔ ثبوت دیں اگر کوئی ملوث ہوا تو ایکشن لیں گے۔ اس لیے نہیں کہ کوئی بیرونی دباؤ ہے۔ اِس لیے کہ اگر کوئی ایسا کر رہا ہے تو وہ پاکستان کا دشمن ہے۔
۲۔ بار بار بات چیت کی دعوت کو کہہ کر رد کرنے کا بہانہ کہ پہلے دہشت گردی پر بات چیت کر لیں گے۔ تو وہ بھی وزیراعظم نے کہہ دیاآئیں خطے سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بات چیت کر لیں۔

۳۔ NSC کے بعد NAP پر مزید تیزی سے عمل درآمد کیونکہ ہماری استعاعت پہلے سے بہترہے(Mil Pts Done ) وہ تنظیمیں جو Watch List پر ہوتے ہوئے دیے گئے نکات کو پورا نہیں کر سکیں انہیں کالعدم قرار دیا۔
اب آئیے واقعہ کے بعد دی گئی بھارتی اشتعال انگیزی اور سبق سکھانے کی دھمکیوں پر۔
جیسے کہ حملہ کے بعد الزامات کا جواب اس دفعہ مختلف ہے اس طرح بھارت یاد رکھے۔ کہ ہمارا
Military Response بھی بہت مختلف ہے اور ہو گا۔ کیسے؟
ہم گزرے ہوئے کل کی افواج نہیں ہیں ہمارے سپہ سالاروں سے لے کر سپاہی تک سب اپنے ہاتھوں سے جنگ لڑ چکے ۔ ہمیں علم ہے کہ جنگ کیا ہوتی ہے اور کیسے لڑی جاتی ہے۔
اَن دیکھے دہشت گردوں کے خلاف جنگ مشکل اور مختلف تھی۔ آپ کو ہم 72 سال سے دیکھ رہے ہیں۔ پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا بنیادی فوکس آپ ہی ہیں ہماری تمام Capability آپ کے لیے ہے۔

Let me now talk to military strategy planners across now. please be rest assured, should you initiate any aggression. First, you shall never be able to surprise us. We are ready, in response we shall for sure surprise you.
We shall dominate the escalation ladder. We shall have superior force ratio at decisive pts. Never think that we shall fall short of capacity.
We have singleness of conception all across from PM to a common citizen including all political parties and other segments of society from our chiefs down to soldiers. We have the will and the determination.
We have the ways and means for the end state.
We are ready to respond to full spectrum threat.
I hope you get us and don’t mess with Pakistan.
اب آگے کا راستہ کیا ہے؟
وہ جو آپ نے اختیار کیا ؟ اشتعال انگیزی کا ! جھوٹ کا ! ذاتی اور قلیل المدت اہداف کا ! اپنی آنے والی نسلوں سے ان کا امن اور ترقی کے حق چھیننے کا ؟ خطے کو جنگ کی تباہی میں جھونکنے کا ؟پانی بند کرنے کی دھمکیوں کا ؟ کلچرل Exchange روکنے کا؟ آپ کے میڈیا نے کیا کردار ادا کیا؟
یہاں میں پاکستانی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے قومی بیانیے کے مطابق کردار ذمہ داری سے ادا کیا۔
یا وہ جو پاکستان آپ کو آفر کر رہا ہے۔
پا کستان کیا کہہ رہا ہے!
آئیے اس معاملہ کی تحقیقات کریں
آئیے بات چیت کریں
آئیے خطے کو دہشتگردی سے پاک کریں
آئیے خطے کے امن کو لا حق خطرے کی بنیادی وجہ کشمیر کو حل کریں
مقبوضہ کشمیر میں آپ کی تشدد کی پالیسی فیل ہو رہی ہے اُسے کشمیریوں پر ظلم جاری رکھنے کی بجائے بات چیت سے حل کریں۔
آپ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں دو جمہوری ممالک میں جنگ نہیں ہوتی۔
آپ سیکولر ملک ہیں۔وہاں کسی مذہب یا گروہ پر مذہب کے نام پر زیادتی نہیں ہونا چاہیے۔
آپ امن چاہتے ہیں، ترقی چاہتے ہیں تو کلبھوشن جادیو نہ بھیجیں۔ خطے کے امن عمل کو نہ روکیں۔ ترقی کے مواقعوں کو نہ کھوئیں۔
چیف آف آرمی سٹاف کہتے ہیں
“Countries do not and can not develop alone – Regions develop.”
ہم توقع کرتے ہیں کہ آپ حکومتِ پاکستان کی امن کی پیشکش پر ذمہ داری سے غور کریں گے اور خطہ کے امن و ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔
ہم اکیسویں صدی میں ہیں ہمیں خطے کے طور پر بہت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہمارے خطے میں Human Security Index بہت کمزور ہے۔ ہماری عوام کو امن اور خوشحالی میں رہنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم ، صحت اور اچھے روزگار کی ضرورت ہے نہ کہ جنگ کی۔ آنے والی نسلوں سے ان کا حق اپنی بیوقوفی سے نہ چھینیں۔پاکستان سے دشمنی کریں انسانیت سے نہیں۔ یہی ہم دونوں ممالک اور خطے کے حق میں بہتر ہے۔

میں نے آج پاک بھارت حالات کی وجہ سے بہت لمبی بات چیت کی۔ آج ملک میں جاری آپریشن رَدالفساد کو دو سا ل مکمل ہو گئے ہیں۔ چاہتا تھا کہ اس سے متعلق بات چیت کروں مگر یہ اگلی پریس بریفنگ تک روک رہا ہوں۔ صرف یہ کہوں گا کہ پاکستان کی عوام اور باقی تمام اداروں کے ساتھ مل کر ہمارا یہ آپریشن کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے اور ماشاء اللہ ہم دائمی امن اور استحکام کی طرف
بڑھ رہے ہیں۔
آخری بات جنرل اسد درانی سے متعلق ہے۔
جنرل اسد درانی کی جو حالیہ کتاب آئی ہے
The Spy Chronicles – RAW – ISI and the Illusion of Peace
اس کے بعد ان کے خلاف کورٹ آف انکوئری کی گئی اور ان کے خلاف ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جنرل اسد درانی کو کے لیے ECL پر Place کرنے کے لیے
Interior Ministry سے رابطہ کیا جا رہا ہے ۔
2. آرمڈ فوسزز پینشن ضابطہ اخلاق کے تحت ان کی پینشن کوImmediate طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔