Committes send against under age marriages, addictive drugs. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

کم عمری کی شادی ، نشہ آور اشیاء پر قابو پانے ، انسانی اعضاء و عضلات کی پیوند کاری، جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ صوبہ کے قیام سمیت دیگر بل قومی اسمبلی میں پیش، ڈپٹی سپیکر نے مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے
شادی کیلئے عمر کی کم ازکم حد 18سال مقرر کرنے سے متعلق ڈاکٹر رمیش کے پیش کردہ بل پر حکومت، مسلم لیگ(ن) و دیگر جماعتیں تقسیم، وزراء علی محمد اور نور الحق قادری کی بھی بل کی مخالفت ، مسترد کرنے کے حق میں رائے
شیریں مزاری ، پی پی حامی ،جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام بھی مخالف
اسلام آباد (بادبان رپورٹ)قومی اسمبلی میں بچوں کی شادی کا امتناع (ترمیمی) بل 2019، نشہ آور اشیاء پر قابو پانے کا (ترمیمی)بل 2019، انسانی اعضاء و عضلات کی پیوند کاری(ترمیمی)بل 2019، جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ صوب کے قیام کے حوالے سے دستور(ترمیمی)بل 2019 و دیگر بل ایوان میں پیش کر دیئے گئے، ڈپٹی سپیکر نے بلوں کو مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا، شادی کیلئے عمر کی کم ازکم حد 18سال مقرر کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر رمیش کمار کی جانب سے پیش کئے گئے بل میں حکومت، مسلم لیگ(ن) و دیگر جماعتوں میں تقسیم نظر آئی، علی محمد خان اور نور الحق قادری نے بل کی مخالفت کی اور اور مسترد کرنے کی رائے دی جبکہ شیریں مزاری نے بل پیش کرنے کیلئے تحریک کی حمایت کی، پی پی نے بل کی حمایت جبکہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام نے مخالفت کی۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں پاکستان تحیرک انصاف کے رکن نور عالم خان نے ایوان میں نشہ آور اشیاء پر قابو پانے کے ایکٹ 1997میں مزید ترمیم کرنے کا بل (نشہ آور اشیاء پر قانون پانے کا ترمیمی بل 2019) ایوان میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بل کے تحت 6گرام سے 100گرام تک ہیوئن برآمد ہونے پر مجرم کو 10ماہ سزا اور 15لاکھ جرمانہ کیا جائے، 100گرام سے زائد ہیروئن و نشہ آور اشیاء پکڑے جانے پر 20لاکھ جرمانہ کیا جائے، حکومت نے بل کی مخالفت نہیں کی اور ڈپٹی سپیکر نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو ریفرد کر دیا۔ علی خان جدون نے ہزارہ کو انتظامی بنیادوں پر ملک کا نیا صوبہ بنانے کے حوالے سے دستور(ترمیمی)بل2019 ایوان میں پیش کیا، بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ علی خان جدون نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے قیام سے وفاق مضبوط ہو گا۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے بچوں کی شادی کا امتناع ایکٹ 1929میں مزید ترمیم کا بل (بچوں کی شادی کا امتناع ترمیمی بل 2019)ایوان میں پیش کرنے کیلئے تحریک پیش کی۔ رمیش کمار نے کہا کہ کم عمر بچوں کی شادی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، شادی کی عمر 18سال قرار دی جائے، اس حوالے سے بل لایا ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ یہ بل اسلام کی بنیادوں کے خلاف ہے، اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل اس کے خلاف رائے دے چکی ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ دبئی، ترکی اور مصر میں شادی کیلئے 18سال کی عمر کی طر موجود ہے، بل بجٹ کیلئے کمیٹی میں بھیجا جائے۔ شائستہ پرویز نے کہا کہ چند لوگ کیا اسلام کے ٹھیکیدار ہیں، بل کمیٹی میں بھیجا جائے۔ ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ کرائی جس پر ایوان میں موجود سیاسی جماعتوں میں تقسیم نظر آئے، پی پی پی نے حمایت کی،72اراکین نے بل کی حمایت کی اور 50نے مخالفت کی۔ ڈپٹی سپیکر نے بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔ کشور زہرا کی جانب سے دستور(ترمیمی)بل 2019پیش کیا گیا جو کمیٹی کو بھیج دیا۔ مرتضیٰ جاوید عباسی نے جنوبی پنجاب ،بہاولپور اور ہزارہ کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بل (دستور ترمیمی بل 2019)ایوان میں پیش کیا۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے قیام کے حوالے سے حکومت کو تعاون کی پیشکش کی تھی لیکن حکومت نے پیش رفت نہیں کی، ہم نے بھی پیش کئے ہیں، ایک کمیٹی بنا کر ملک میں صوبے بنائے جائیں، ہزارہ کے صوبے کیلئے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، تمام جماعتوں نے ہزارہ کے عوام کے ساتھ ہزارہ کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا ہے، اس کو پورا کیا جائے۔ عمر ایوب نے کہا کہ ہزارہ صوبہ بنے گا اس کیلئے قربانیاں دی ہیں،بل کی حمایت کرتے ہیں، طاہرہ اورنگزیب کی جانب سے معذور افراد (ملازمت و بحالی) آرڈیننس 1981 میں مزید ترمیم کرنے کا بل (معذور افراد ملازمت و بحالی ترمیمی بل 2019)ایوان میں پیش کیا جو ڈپٹی سپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو ریفرد کر دیا۔ کشور زہرا نے انسانی اعضاء و عضلات کی پیوند کاری ترمیمی بل 2019 ایوان میں پیش کرنے کیلئے اجازت کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گردوں اور دیگر اضیاء کا غیر قانونی کاروبار چل رہا ہے، نادرا کے ذریعے شناختی کارڈ میں ایک خانہ بنایا جائے کہ جو لوگ حادثاتی اموات کے بعد اعضاء کا عطیہ دینا چاہیں لکھا جائے تا کہ اعضاء کے عطیات کے ذریعے انسانی جانوں کا ضیاع روکا جائے۔ پارلیمانی سیکرٹری نوشین حامد نے کہا کہ حکومت کا جامع بل تیار ہے، اس لئے وہ واپس لیں، ایوان نے بل پیش کرنے کی منظوری دی، بل کو ڈپٹی سپیکر نے قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔(