Justice Faiz Esa case: Federal objection to Farough Naseem’s appearance, four questions before SC’s public prosecutor. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

جسٹس فائز عیسی کیس’ وفاق کی طرف سے فروغ نسیم کے پیش ہونے پر اعتراض، سپریم کورٹ کے حکومتی وکیل کے سامنے چار سوالات
اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے فروغ نسیم کو پیش ہونے کی اجازت دینے کا سرٹیفیکیٹ عدالت میں پیش کردیا گیا جس پر عدالت فیصلہ کرے گی
سپریم کورٹ نے سماعت آج تک ملتوی کردی، حکومتی وکیل فروغ نسیم چار اہم سوالات کا جواب وہ آج دیں گے
فروغ نسیم کو اٹارنی جنرل کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا، رولز وفاقی حکومت کو نجی وکیل کرنے کی اجازت نہیں دیتے،وکیل منیر اے ملک
اعتراض نہ اٹھائیں ، عدالتِ عظمی کی موسمِ گرما کی تعطیلات ہونے والی ہیں، ہم کیس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں،سپریم کورٹ
میں نے تحریری طور پر عدالت کو اعتراضات سے آگاہ کر دیا ، تمام اعتراضات آئین و قانون اور سپریم کورٹ کے قوائد کے مطابق ہیں،منیر اے ملک
میرے اوپر جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں، رشید احمد کیس میں اس سے متعلق وضاحت ہو چکی ہے ، فروغ نسیم
اٹارنی جنرل کا سرٹیفکیٹ ریکارڈ پر لے کر آئیں، سرٹیفکیٹ کے ریکارڈ پر آنے کے بعد فیصلہ کریں گے، جسٹس عمرعطا بندیال کی فروغ نسیم کوہدایت
فروغ نسیم آپ مقدمے کے میرٹ پر بات کریں، درخواست میں کیا کہا گیا ہے اسے چھوڑیں،جسٹس عمر عطابندیال
لندن کی تین جائیدادیں معزز جج کے بچوں اور اہلیہ کے نام پر ہیں،اس حقیقت کو درخواست گزار تسلیم کر چکے ہیں،اگرجسٹس قاضی فائز عیسی منی ٹریل نہیں دیتے تو یہ مس کنڈکٹ ہے، فروغ نسیم
جائیدادیں اہلیہ اور بچوں کے نام ہیں پہلے یہ بتائیں جائیدادیں جسٹس قاضی فائز عیسی کی ہیں، میرا بیٹا کوئی جائیداد خرید لیتا تو کیا میںاسکا جواب دہ ہوں گا؟جسٹس منصور علی شاہ کا سوال
جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچے اور اہلیہ انکے زیر کفالت ہیں تو ثابت کریں:جسٹس یحیی آفریدی،معزز جج کہتے ہیں منی ٹریل اور وسائل کا بچوں اور اہلیہ سے پوچھا جائے: جسٹس عمر عطابندیال
وفاق کو ججز کی جائیدادوں سے کیا مسئلہ ہے؟کیا ججز پر بغیر شواہد اور شکایت کے سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ ٹھوس شواہد نہیں ہیں تو ججز کی ساکھ پر سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے؟کیا حکومتی اقدام ججز اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں؟ جسٹس قاضی محمد امین
شوکاز نوٹس کی اپنی اہمیت ہے، درخواست میں بدنیتی کا الزام بھی ہے،معزز جج کے وکیل نے شو کاز نوٹس پر دلائل دینے میں ہچکچاہٹ دکھائی،جسٹس عمر عطابندیال
سابق چیف جسٹس کو بغیر شوکاز نوٹس کے جوڈیشل کونسل نے کیسے طلب کیا،جسٹس فیصل عرب کا استفسار
سابق چیف جسٹس کو شوکاز نوٹس نہیں جاری کیا گیاسابق چیف جسٹس کے ریفرنس میں آرٹیکل 209کی پیروی نہیں کی گئی:فروغ نسیم کا جواب، ملک میں نافذ قانون پر عمل ہونا چاہیئے:منیر ملک
میں آپکی اس دلیل سے میں اتفاق نہیں کرتا ،بادی النظرمیں لگتا ہے کہ آپ شوکاز نوٹس پر کیس کرنا چاہتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ شوکاز نوٹس سے قبل ریفرنس محض کاغذ ٹکڑا نہیں تھا،جسٹس منیب اختر کا فروغ نسیم سے مکالمہ
درخواست گزار کا الزام ہے کہ ریفرنس کی پوری کارروائی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے ،پہلے مرحلے پر اس ایشو ہر دلائل دینا مناسب ہو گا ، ہر ایکشن یا حکم قانون کے مطابق ہونا چاہیے ،جسٹس مقبول باقر
وفاقی حکومت کو وحید ڈوگر کی شکایت کی کاپی درخواست گزار جج کو فراہم کرنی چاہیے تھی،وحید ڈوگر کی شکایت کی دستاویزات کا دس مرتبہ عدالت نے پوچھا ، میڈیا پر کئی بار دستاویزات دکھائی گئیں لیکن عدالت کو نہیں دی گئیں ،جسٹس سجاد علی شاہ
اثاثہ جات ریکوری یونٹ کیا ہے ؟پہلے یہ بتائیں؟شکایت اثاثہ جات ریکوری یونٹ تک کیسے پہنچی؟اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا آرٹیکل 209 کے ساتھ کیا تعلق ہے ،جسٹس منصور علی شاہ