Margalla Stone Crushing Self Notice, Chief Justice distrusts the administration. You’re a selected candidate, better show your power other than that you cry like women do: CJP. Mayor Islamabad does not seem to look a bit serious, what have you done in past 4.5 years. You’re ruining your position yourself in front of court, CJP Gulzar Ahmed. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

مارگلہ سٹون کرشنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت،میئر کی کارکردگی پر چیف جسٹس برہم
میئر اسلام آباد سنجیدہ آدمی نہیں لگ رہے،بتائیں ساڑھے4سال میں شہرکیلئے کیاکیا،جسٹس گلزار احمد
میئرصاحب اپنی پوزیشن ہمارے سامنے خودخراب کررہے ہیں، پتہ نہیںمیئرصاحب کسی چیز کے انتظار میں ہیں،
کیاآپ کیلئے آسمان سے من وسلویٰ نے اترناہے، منتخب نمائند ہ کو اپنی طاقت دکھانی چاہئے،
میئر کویہ رونا زیب نہیں دیتا کہ وہ کہے کہ حکومت مجھے اکاؤنٹنٹ نہیں دے رہی،ریمارکس
اسلام آباد(پوسٹ رپورٹ)چیف جسٹس ا ف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مارگلہ سٹون کرشنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پرمیئر اسلام آباد کی کارکردگی پر برہمی کو اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیںکہ میئر اسلام آباد سنجیدہ آدمی نہیں لگ رہے،بتائیں کہ ساڑھے4سال میں شہرکیلئے کیاکیا،کیا اس دورانیہ میںشہرکیلئے کوئی ایک منصوبہ بھی دیاگیا ،میئرصاحب اپنی پوزیشن ہمارے سامنے خودخراب کررہے ہیں، پتہ نہیںمیئرصاحب کسی چیز کے انتظار میں ہیں،کیاآپ کیلئے آسمان سے من وسلویٰ نے اترناہے، منتخب نمائند ہ کو اپنی طاقت دکھانی چاہئے، میئر کویہ رونا زیب نہیں دیتا کہ وہ کہے کہ حکومت مجھے اکاؤنٹنٹ نہیں دے رہی،لوکل گورنمنٹ خود ایک گورنمنٹ ہوتی ہے، لوکل گورنمنٹ اپنے وسائل اور ضروریات خود پورے کرتی ہے،بتایا جائے کہ جب طے ہو گیا تھا تو وفاقی دارلحکومت میں کرشنگ کی اجازت کیوں دی گئی تھی؟ 1996 میں بھی سپریم کورٹ نے ایسی ہی ایک درخواست مسترد کی تھی،مارگلہ ہلز سے سرنگ بنانے کے معاملے پر بھی عدالت نے اجازت نہیں دی تھی، یہ جو نقشے عدالت میں پیش کیے گئے ہیں یہ سب جعلی اور دو نمبر ہیں،یہ سب لوگ آپس میںملے ہوئے ہیں، موٹر وے پر کلر کہار میں پہاڑ ختم کر دیئے گئے ہیں، جو رہ گئے وہ اس وجہ سے ہیں کہ ہم نے زور مارا ہوا ہے،نیشنل پارک ملک بھر میں ہیں یہ صرف مارگلہ ہلز کی بات نہیں ہے،ہم یہ پارکس کسی صورت برباد نہیں ہونے دیں گے، کرشنگ کی وجہ سے کہیں خان پور ڈیم ہی نہ بہہ جائے، خان پور ڈیم سے ملحقہ کرشنگ پلانٹ مارگلہ ہلز سے متعلقہ نہیں ہے، اس حوالے سے اگر شکایت ہے تو الگ سے درخواست دائر کریں۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ دوران سماعت میئر اسلام آباد نے شیخ عنصر عزیز نے عدالت کو بتایا کہ میں گزشتہ3سال سے ہرسال منصوبہ بناکروفاقی حکومت کودے رہاہوں،بیوروکریسی اسلام آبادمیں انتخابات نہیں چاہتی تھی اسی وجہ سے کام نہیں کرنے دیاجارہا۔سیکرٹری داخلہ نے عدلات کو بتایا کہ میئرصاحب چیئرمین سی ڈی اے بھی رہ چکے ہیں،اب تک 18 ارب روپے میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کو دے چکے ہیں،اس سال بھی 6 ارب روپے ایم سی آئی کودیے،لوکل گورنمنٹ کمیشن کا قیام عمل میں آچکاہے، سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے درمیان جو تنازعات ہیں وہ لوکل گورنمنٹ کمیشن کے ذریعے ہی حل ہونگے، ایم سی آئی کے اسٹاف کو تنخواہیں اور الاؤنسز ہم دے رہے ہیں،ایم سی آئی کو اپنا بجٹ بنانا تھا،انہوں نے کچھ کام نہیں کیا،ایم سی آئی کو 10 ہزار ملازمین دیے گئے۔وکیل قلب حسن نے اس موقع پر عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ جہاں کرشنگ ہو رہی ہے وہ نیشنل پارک کی زمین ہے،نقشے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ نیشنل پارک کون سا ہے اور بفر زون کون سا ہے،ہمارے رن وے اور موٹر ویز اسی کرشنگ سے بن رہی ہیں، حد بندی ہونے کے بعد مائننگ کی اجازت دی گئی تھی،1000 گز کا بفر زون بھی رکھا گیا ہے،عدالت چاہے تو پنجاب حکومت سے رپورٹ منگوا لے،دوران سماعت خان پور ڈیم کے نزدیک آبادی کے رہائشی عدالت میں دہائی دی کہ خان پور میں مسلسل کرشنگ اور بلاسٹنگ ہو رہی ہے،کرشنگ ہمارے گاؤں سے صرف 65 میٹر دور ہو رہی ہے،کرشنگ کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہو چکا ہے، بلاسٹنگ کی وجہ سے علاقے میں خوف رہتا ہے،خان پور میں کرشنگ پلانٹ مارگلہ ہلز سے صرف دو کلومیٹر دور ہیں،ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سمیت تمام لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر ایم سی آئی، سیکرٹری داخلہ، آئی سی ٹی، چیئرمین سی ڈی اے سیکرٹری فنانس اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد پر مشتمل کمیٹی بناتے ہوئے مل بیٹھ کر لوکل گورنمنٹ اور سی ڈی اے کے درمیان اختیارات کی جاری جنگ ختم کرانے اور لوکل گورنمنٹ کو فعال بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا کر ایک ماہ میں رپورٹ دینے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ کی سماعت ایک مہینہ کیلئے ملتوی کر دی ہے ۔