MNA Mohsin Javed Dawar who has been a member of the National Assembly of Pakistan and a leader of the Pashtun Tahafuz Movement, has given a call of big agitation, has called Pathans country wide to come Islamabad, Government & disciplinaries stupored. Killing of farishta is killing of whole nation. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

*فرشتہ قتل کا معاملہ*

*قتل ہونے والی معصوم بچی فرشتہ کے والد گل نبی اور اہل خانہ کی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات*

ملاقات پارلیمنٹ ہاوس میں اسپیکر چیمبر میں ہورہی ہے

ملاقات میں 8 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی موجود

رکن قومی اسمبلی علی اعوان بھی ملاقات میں شریک

اسپیکر قومی اسمبلی کو انتطامیہ کی جانب سے واقعہ پر بریفنگ

واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کمیشن بنا دیا۔ آئی جی اسلام آباد

اسپیکر قومی اسمبلی کی فرشتے کے خاندان کو مکمل انصاف کی یقین دہانی کروائی گئی

فرشتہ کے والدین کو ہر صورت انصاف ملے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

ہسپتال اور پولیس کے اہلکاروں کی طرف سے غفلت برتنے پر اظہار برہمی

سرکاری اہلکاروں کا کام عوام کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے نہ کہ مشکلات پیدا کرنا

اسلام آباد، بچی سے مبینہ زیادتی و قتل کیس، غفلت برتنے پر ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ درج
اہلخانہ نے بچی کو ڈھونڈنے اور ایف آئی آر کے اندراج کیلئے تھانے کے کئی چکر لگائے لیکن پولیس والوں نے ایک نہ سنی
ایف آئی آر کے مطابق ملوث اہلکاروں اور ایس ایچ او کے خلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر کارروائی کی جائے،مقدمے کا متن
اسلام آباد(بادبان رپورٹ) زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 10 سالہ بچی کی گمشدگی کی رپورٹ تاخیر سے درج کرنے پر ایس ایچ او شہزاد ٹائون و دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیاہے کہ اہلخانہ نے بچی کو ڈھونڈنے اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تھانے کے کئی چکر لگائے لیکن پولیس والوں نے ایک نہ سنی، پولیس ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے بچی کے لواحقین سے صفائیاں کرواتی رہی جبکہ ایس ایچ او نے بچی کو ڈھونڈنے کے بجائے کہا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی۔ایف آئی آر کے مطابق ملوث اہلکاروں اور ایس ایچ او کے خلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر کارروائی کی جائے۔واضح رہیکہ اسلام آباد میں 2 روز قبل 10 سالہ بچی فرشتہ کی لاش جنگل سے ملی تھی جسے بچی کو مبینہ زیادگی کے بعد قتل کیا گیا۔فرشتہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند سے تھا جو اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹائون میں مقیم تھی، بچی 15 مئی کو لاپتہ ہوئی جس کی پولیس نے گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے میں 4 دن لگائے۔لواحقین نے بتایا کہ پولیس نے 5 دن تک بچی کو مرضی سے فرار ہونے کا الزام لگا کر رپورٹ درج نہیں کی۔مبینہ زیادتی اور قتل کے خلاف مقتول بچی کے لواحقین نے لاش ترامڑی چوک پر رکھ کر احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ بچی سے زیادتی اور قتل کی ذمہ دار پولیس ہے۔

دس سالہ بچی فرشتہ سے مبینہ زیادتی اور قتل کے الزام میں قریبی رشتہ دار گرفتار
ملزم بچی فرشتہ کا قریبی رشتے دار ہے جسے پہلے سے گرفتار افراد کی نشاندہی پر حراست میں لیا گیا ،پولیس
پولیس کی جانب سے گرفتار ملزم سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے


اسلام آباد(بادبان رپورٹ)اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹائون میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل کی گئی 10 سالہ بچی فرشتہ کے قتل کے الزام میں اسی کے قریبی رشتہ دار کو حراست میں لے لیا گیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والا ملزم بچی فرشتہ کا قریبی رشتے دار ہے جسے پہلے سے گرفتار افراد کی نشاندہی پر حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے گرفتار ملزم سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔دو روز قبل دس سالہ بچی فرشتہ کی لاش جنگل سے ملی تھی جس کے قتل جسے پوسٹ مارٹم کیلئے پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا۔فرشتہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند سے تھا جو اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹان میں مقیم تھی۔بچی 15 مئی کو لاپتہ ہوئی جس کی پولیس نے گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے میں 4 دن لگائے۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ پولیس نے 5 دن تک بچی کو مرضی سے فرار ہونے کا الزام لگا کر رپورٹ درج نہیں کی۔مبینہ زیادتی اور قتل کے خلاف مقتول بچی کے لواحقین لاش ترامڑی چوک پر رکھ کر احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ بچی سے زیادتی اور قتل کی ذمہ دار پولیس ہے۔تاہم غفلت برتنے پر ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹان اور دیگر اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کردیا گیا۔

وزیراعظم کے حلقہ انتخاب اور ان کے محل سے محض چار کلومیٹر کی دوری پر ایک دس برس کی بچی کا اغوا ہوتا ہے، مثالی پولیس چار دن کی پس و پیش کے بعد پیسے لے کر مقدمہ درج کرتی ہے۔ اگلے روز بچی کی مسخ لاش برآمد ہوجاتی ہے جسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناکر بےدردی سے قتل کیا گیا ہے۔

اس دلخراش و ہیبت ناک سانحے پر سیاسی تنقید سے زیادہ سماجی لعن طعن کی ضرورت ہے کہ ہم اتنی غلیظ معاشرے سے ہیں کہ جو ماہ رمضان میں ننھے بچوں کو بھی نہیں بخشتے

میں بحیثیت مسلمان اور پاکستانی آج شرمسار ہوں
مجھے یقین ہے اس بچی کو انصاف نہیں ملے گا کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے، وطن عزیز میں قانون کو ہمیشہ طاقتور اور ظالم کا کاسہ لیس ہی پایا ہے
یہاں اس نظام میں کسی مظلوم کی دادرسی آج تک نہ ہوتے دیکھی نہ سنی ہے.

#JusticeforFarishta