لاپتہ افراد کا مسئلہ راتوں رات حل نہیں سکتے وزیر قانون

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا، بحث، جلد بازی، عدالتی احکامات سے لاپتا افراد کا مسئلہ راتوں رات حل نہیں ہو سکتا، اس پر اب بھی بہت کام کی ضرورت ہے، تمام شراکت داروں کی مشاورت سے اس اہم مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کا مسئلہ بڑے عرصہ سے سیاسی، قانون اور عسکری حلقوں میں ایک حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اس پر بات چیت و تنقید کی جاتی ہے، اس پر آوازبھی اٹھائی جاری ہے، ملک کے آئین اور قانونی نظام میں بھی بنیادی حقوق کے حوالہ سے جو تحفظ حاصل ہے، بلا شبہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا پورا احساس ہے لیکن لاپتا افراد کا معاملہ اتنا آسان نہیں، لاپتا افراد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، اس کی بہت ساری جہتیں ہیں، اس مسئلے کے قانونی حل کے ساتھ ساتھ تمام شراکت داروں کو بٹھا کر ایک سیاسی حل بھی نکالنا ہوگا۔وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین و قانون شہریوں کو جو سہولیات دیتا ہے ان سے کوئی روگردانی نہیں اور ہونی بھی نہیں چاہیئے کیونکہ یہ ان کا حق ہے، لاپتا افراد کے حوالے سے حکومت نے ماضی میں کام کیا اور ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی، لاپتا افراد کے 8 ہزار کے قریب کیسز حل ہو چکے ہیں، لاپتا افراد کا مسئلہ حل کرنے میں حکومت کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی، جب ہم اس ایشو کی بات کرتے ہیں تو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ بدقسمتی سے گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان نے جنگ سے متاثرہ خطے میں فرنٹ سے کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری جغرافیائی صورتحال ایسی ہے اور ہمارے ہمسایہ ممالک کے ساتھ گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں جو معاملات ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان کے اندرونی چیلنجز بہت بڑھ گئے، دہشتگردی کے حوالہ سے افواج پاکستان نے اور پاکستان کے عوام نے قربانیاں دی ہیں، خطے میں پاکستان نے ناقابل یقین حد تک اس کی قیمت ادا کی ہے، یہ مسئلہ بھی دہشت گردی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، کئی مرتبہ یہ بات کی جاتی ہے کہ شاید حکومتیں سنجیدہ نہیں ہیں یا سیاسی سنجیدگی نہیں ہے، اس لیے یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سب کو یاد ہوگا مسنگ پرسنز پر پہلا قدم پاکستان پیپلز پارٹی دور حکومت میں 2011ء میں اٹھایا گیا، پھر ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت سپریم کورٹ نے اس پر نوٹس لیا اور کمیشن بنایا گیا جس کے بعد کمیشن نے اپنا کام شروع کیا، اس وقت سے لے کر آج تک تقریباً 10ہزار 200 سے زائد مسنگ پرسنز کے کیسز کمیشن میں گئے جن میں سے 8 ہزار کے قریب کیسز حل طلب تھے اور حل ہوئے تاہم اب بھی زیر التوا کیسز کی شرح اندازاً 23 فیصد کے قریب ہے، اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں 2022ء میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت بنی تو وزیراعظم نے کابینہ میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت میں شریک تمام اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی اور میں اس شریک تمام اتحادی کمیٹی کا کنوینر تھا، ہم نے کوئٹہ جا کر کام کیا، سارے شراکت داروں سے ملے، بعض چیزیں ابھی حل طلب تھیں کہ اسمبلی کی مدت پوری ہوگئی، نگران حکومت کے دور میں بھی میں نے رپورٹ منگوائی، تاہم نگران حکومت کا دائرہ اختیار کسی حد تک محدود ہوتا ہے کیونکہ وہ قانون سازی نہیں کر سکتے تھے، دیگر بہت سی ایسی چیزیں بھی تھیں جو نگران نہیں کر سکتے تھے جس کی وجہ سے کچھ تعطل آیا۔وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف کی ہدایت پر اب دوبارہ اس پر کام شرو ع کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جس میں پارلیمانی نمائندگی ہوگی، یہ کام دوبارہ شروع کیا جارہا ہے، مسنگ پرسنز کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی لیکن جلد بازی یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کی جانے والی باتوں یا عدالتی احکامات سے راتوں رات حل نہیں ہوسکتا، اس کے لیے ابھی بھی بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے، دونوں اطراف سے کچھ نہ کچھ ایشوز ہیں، حکومتی اداروں کی مداخلت یکسر مسترد نہیں کا جا سکتی لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آج تک کوئی ٹھوس شہادت آئی اور جہاں تک میں رپورٹ میں دیکھتا رہا تو اداروں کی مداخلت کا امکان نفی میں تھا لیکن اس بارے میں ایک تاثر ضرور ہے۔اعظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ رپورٹس کے 100 فیصد درست ہونے میں بھی ملی جلی صورتحال ہوتی ہے، لاپتا فرد حقیقت میں لاپتا ہوتا ہے لیکن بعض کیسز میں ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ وہ افراد جن کو بطور مسنگ پرسن رجسٹرڈ کیا گیا، کمیشن ان کو بطور لاپتا افراد ڈکلیئر بھی کر چکا تھا اور کوئی ایسی ایف آئی آر بھی درج ہو چکی تھی کہ فلاں ادارے کے لوگ اسے اٹھا لے گئے ہیں لیکن کمیٹی کے اجلاس میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ مسنگ پرسنز میں شامل دو افراد میں سے ایک لانڈھی جیل میں منشیات کے کیس میں اپنی سزا پوری کررہا تھا اور دوسرا سندھ کی کسی جیل میں قید تھا، اسی طرح پنجاب سے بھی ایسی رپورٹس وصول ہوئیں کہ سی ٹی ڈی نے ان کو پراسکیوٹ کرنا تھا اور ان کے سرگودھا میں ٹرائلز ہو رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں گوادر میں جو حملہ کیا گیا جب حملہ آوروں کی شناخت کی گئی تو ان میں بھی لاپتا افراد موجود تھے جو باقاعدہ ڈکلیئرڈ مسنگ پرسن تھے، ان کے ورثا نے یہ درخواست دی کہ ان کی لاش ہمارے حوالے کی جائے تاکہ تدفین کی جا سکے، اس لیے یہ معاملہ اتنا آسان نہیں اس کی بہت سی جہتیں ہیں، اس کے قانونی حل کے ساتھ ساتھ تمام شراکت داروں کو بٹھا کر ایک سیاسی حل بھی نکالنا ہوگا کیوں کہ یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے، دو تین دن سے یہ گفتگو چل رہی تھی اس لیے میں نے ضروری سمجھا اس پرمیڈیا سے بات کی جائے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی
No News Found.

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2024 Baadban Tv. All Rights Reserved