No dispute or contention between all political parties, institutions, organizations and whole nation in the country regarding Kashmir problem.

پریس ریلیز
سینیٹ سیکرٹریٹ
میڈیا ڈائریکٹوریٹ
اسلام آباد (2 فروری2019 )ء مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ، ادارے ، تنظیمیں اور پوری قوم یک زبان ہیں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے ۔ پاکستان کی تمام عوام کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی نہ صرف حمائت کرتی ہے بلکہ ان کی تحریک آزادی کے حوالے سے دی گئی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جسے پھیلانے کی اشد ضرورت ہے ۔ پوری دنیا اور خاص طور پر اس خطے کے امن کیلئے مسئلہ کشمیر کو منصفانہ حل ناگریز ہے ۔ ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر راجہ محمد ظفرالحق نے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں جموں و کشمیر پر بھارت کے غصبانہ قبضے ، بھارتی افواج کے ظلم و بربریت ، خواتین کی مسلسل بے حرمتی ، کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو غضب کرنے ، کشمیریوں کے قتل عام کی مذمت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اقوام عالم کو مسئلہ کے پر امن حل کی طرف متوجہ کرنے کے حوالے سے منعقدہ ’’کل جماعتی قومی مشاورت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ 5 فروری کا دن مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی کیلئے قربانیوں اور ان کی جدوجہد کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اہمیت کا دن ہے ۔ ملک کے اندر منعقد ہونے والی ایسی کانفرنس کے عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی دہشت گردی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور آزادی جیسی نعمت صرف قربانیوں سے ہی ملتی ہے ۔ یورپ کے بیشتر ممالک نے بھی جانی ومالی قربانی کے بعد آزادی حاصل کی ہے مگر اس صدی کی آزادی کی تحریک کیلئے جس ظلم و بربریت کا سامنا کشمیری عوام نے کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ بھارت کا مکروہ چہرہ اب اقوام عالم پر آشکار ہو چکا ہے ۔ عالمی سطح کے ادارے ، تنظیمیں ، میڈیا ، مسئلہ کشمیر پر اب اتفاق رکھتے ہیں ۔ مسئلہ کشمیر کو بھرپور اُجاگر کرنے کیلئے آزاد جموں و کشمیر مظفرآباد میں ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کرایا جائے جس میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان و نمائندے مسئلہ کشمیر کو بھر انداز میں اُجاگر کرنے کیلئے اپنی آواز بلند کریں ۔کشمیری مسئلہ کشمیر میں فریقی اول ہیں اور انہیں مسئلے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کیلئے موقعہ دینا چاہیے ۔ یہی بات اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں بھی درج ہے اور کشمیر کا حل کشمیر ی عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق نکالا جائے ۔راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ شملہ معاہدہ کے حوالے سے یہ بات پھیلائی گئی ہے کہ اس سے مسئلہ کشمیر کمزور ہوا ہے ۔میں نے یہ بات سینیٹ میں کھل کر بتائی تھی کہ شملہ معاہدہ کی وجہ سے کشمیر کے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ پاکستان کے اندر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے حوالے سے اتفاق رائے انشاء اللہ قائم رہے گا۔ کانفرنس سے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 1947 سے مقبوضہ کشمیر پر غصبانہ قبضہ کر کے کشمیریوں کا قتل عام کر رکھا ہے ۔ 1948 میں2.37 لاکھ کشمیریوں کا قتل عام کیا گیا اور اب تک تحریک آزاد ی کو کچلنے کیلئے 5 لاکھ کشمیریوں کا قتل کیا جا چکا ہے ۔ یہ دنیا کا سنگین ترین انسانی بحران بن چکا ہے ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر ایک صفحے پر ہیں ۔ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے ۔ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ جسم اور روح کی طرح ہے ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کانفرنس کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بہت بڑا دشمن ہے ۔ موثر حکمت عملی سے حل نکالنا ہوگا ۔ بین الاقوامی اہم فورم پر آزاد کشمیر کی قیادت کو مسئلہ کشمیر اُجاگر کرنے کا موقعہ دینا چاہیے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کو اپنے منشور میں ترجیح دیں اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان مل کر مسئلہ کے حل کیلئے لائحہ عمل اختیار کریں ۔ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھر پور اقدامات اٹھائے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کامسئلہ کشمیر پر ایک واضح موقف رہاہے اور اس کے حل کیلئے ہم سب کو مل کر اقدامات اٹھانا ہونگے ۔ کشمیر پاکستانیوں کے ڈی این اے میں شامل ہے ۔ جمعیت علما ئے اسلام کے امیر و صدر متحدہ مجلس عمل پاکستان مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ، ادارے اورقوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ حق خود ارادیت ان کا بنیادی حق ہے ۔پوری قوم تجدیدعہد کرتی ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد کا تسلسل برقرار رکھا جائے گاجب تک انہیں منزل مقصود نہیں مل جاتی ۔ 5 فروری سے پہلے کل جماعتی مشاور ت کے ذریعے حکومت کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ کشمیر کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ کانفرنس سے پارلیمنٹرین، جید علمائے کرام ، دانشور ، سماجی تنظیموں کے نمائندوں ، نامور صحافی کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ بھر انداز میں یکجہتی کا اظہار کیا ۔ کانفرنس کے آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیاجس میں مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بربریت اور غصبانہ قبضے کی مذمت کی گئی ۔ تحریک آزادی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور مسئلہ کے مستقل حل کیلئے سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمائت جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا ۔ اعلامیہ میں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر زور دیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کامنصفانہ حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق ارادیت کے مطابق حل کرنے کیلئے فوری طور پر اپنا کردار ادا کریں ۔ او آئی سی اور کشمیر گروپ کو مزید متحریک اور فعال کرنے پر زوردیا گیا اور 3 فروری کو کشمیر میں حریت کانفرنس کی ہڑتال کی اپیل کی مکمل حمائت کی گئی ۔ اعلامیہ میں ایک آزاد خود مختار کمیشن بنانے پر بھی زور دیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر رپورٹ تیار کر کے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کو پیش کرے۔