Pakistan from its inception till today. There have been many challenges to overcome, such as India’s invading enemy always invading Pakistan and subjugated Kashmir. There is no shortage of casualties on Pakistan and Shah Rag Kashmir. Click on the link to see full news on BAADBAN TV

او سی….
پاکستان اپنے قیام سے آج تک….. کئی چیلنجز سے نبردآزما رہا ہے…… بھارت جیسا مکار دشمن ہمیشہ پاکستان اور زیر تسلط کشمیر پر حملہ آور رہا….. ایسے میں پاکستان اور شہہ رگ کشمیر پر جان نچھاور کرنے والے سپوتوں کی کمی نہیں…….. 1947ء سے آج تک وطن عزیز اور کشمیر پر جان نچھاور کرنے والوں، داد شجاعت پر نشان حیدر اور ہلال کشمیر کے اعزازات حاصل کرنے والے عظیم سپوتوں کی سنہری داستانوں پر اسلام آباد سے یہ خصوصی رپورٹ……..

مونتاج………….
وی او…………..
کشمیر، پاکستان کی شہہ رگ ہے…. کشمیر بنے گا پاکستان کے خواب کو سچ کر دیکھانے کیلئے جان نچھاور کرنے والے فوجی جوان……. جرات،بہادری اور شجاعت کی عظیم داستان……. پاکستان اور آزاد کشمیر کے اعلیٰ ترین اعزازت مٹی کا قرض اتارنے والے دھرتی ماں کے انہیں عظیم سپوتوں کے نام……..

بریدنگ اسپیس……….

کشمیر پر پہلی پاکستان، بھارت جنگ میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے نائیک سیف علی جنجوعہ نے بدھا کھنہ کے مقام پر 26 اکتوبر 1948ء کو جام شہادت نوش کیا……. حکومت آزاد کشمیر نے مارچ 1949 میں انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز “ہلال کشمیر” سے نوازا………..

بریدنگ اسپیس…….

کشمیر پر جان وارنے والے دھرتی کے بہادر جوانوں کی کمی نہیں…… متعدد فوجی جوان کشمیر کے لیے لڑتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے….. اس عظیم قربانی کے صلے میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز “نشان حیدر” سے نوازا گیا…… کشمیر پر پاکستان، بھارت پہلی جنگ میں کیپٹن راجا محمد سرور نے اڑی سیکٹر میں بہادری سے وطن کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، اس بہادری اور شجاعت پر انہیں “نشان حیدر” عطا کیا گیا……

بریدنگ اسپیس……..

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1999 میں مسئلہ کشمیر پر ہی کارگل کے محاذ پر لڑی جانے والی جنگ میں بھی مادر وطن کے نڈر جوانوں نے اپنے لہو سے سنہری داستان شجاعت رقم کیں……. اس لڑائی میں جواں مردی اور شجاعت کے پیکر عظیم جری جوانوں میں کیپٹن کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان بھی شامل تھے، جو اپنی جانیں دے کر امر ہو گئے…… حکومت نے دونوں قابل فخر بیٹوں کو نشان حیدر سے نوازا………

بریدنگ اسپیس………

مشرقی پاکستان میں بھارتی دراندازی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے میجر طفیل محمد نے اگست 1958 کو لکشمی پور کے قریب جام شہادت نوش کیا، میجرراجا عزیز بھٹی نے 1965 کی جنگ میں شجاع و بہادری کی داستان رقم کی، برقی سکیٹر لاہور میں بی آر بی نہر کا دفاع کرتے ہوئے ستمبر 1965 میں جام شہادت نوش کیا، اس عظیم قربانی پر انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا۔

بریدنگ سپیس…….
سائن آف……..
بھارت جیسے ازلی دشمن کے خلاف بے جگری سے لڑتے، دشمن کے عزائم خاک میں ملاتے اور سبز ہلالی پرچم سربلند کرتے، جرات و بہادری کی عظیم تاریخ رقم کرنے والے شہداء پائلٹ آفیسر راشد منہاس، میجر محمد اکرم، میجر شبیر شریف، کیپٹن کرنال شیر خان،
صوبیدار محمد حسین جنجوعہ، حوالدار لالک جان اور لانس نائیک محمد محفوظ کو بھی “نشان حیدر” کے اعلی ترین اعزاز سے نوازا گیا….