عمران خان کا اکانومسٹ میں لکھا گیا کالم جس کا اردو ترجمہ صرف بادبان ٹی وی پر یہ کالم اب تک 50 کروڑ افراد پڑھ چکے ہیں تفصیلات کے لئے کلک کرے Click on the link to see full news on BAADBAN TV

‏عمران خان کے اکانومسٹ کو لکھےگئےآرٹیکل کا مکمل اردو ترجمہ حاضر ہےان سبکے لیے جنکو انگریزی سمجھ نہیں آتی۔‏پڑھ کر بےساختہ دل سےجملہ نکلتا ہے ‏”نیازی واقعی ان سب کاسیاسی باپ ہے”‏ترجمہ:‏پاکستان میں وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر نگراں حکومتیں چل رہی ہیں۔‏یہ انتظامیہ آئینی طور پر غیر قانونی‏ہیں کیونکہ پارلیمانی اسمبلیاں تحلیل ہونےکے 90دنوں میں انتخابات نہیں کرائےگئےتھے۔‏عوام سن رہےہیں کہ انتخابات8فروری کوہونے والےہیں۔لیکن پچھلےایک سال کےدوران 2صوبوں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اس سے(الیکشن سے)انکارکردیاگیا-پچھلےایک سال کےدوران سپریم کورٹ کےگزشتہ مارچ کے حکم کےباوجود‏کہ ان ووٹوں کو3ماہ کےاندر کرایاجانا چاہیے،وہ اس بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلاہیں کہ آیاقومی ووٹنگ ہوگی؟‏ملک کاالیکشن کمیشن اپنےعجیب و غریب اقدامات سےداغدار ہے۔اسنےنہ صرف سپریم کورٹ کی مخالفت کی،بلکہ میری(پی ٹی آئی) پارٹی کی طرف سےپہلی بار میں کی گئی امیدواروں کی نامزدگیوں کوبھی‏مسترد کردیا،پارٹی کےاندرونی انتخابات میں رکاوٹیں ڈالی اور محض تنقیدکرنےپر میرےاوردیگرPTIرہنماؤں کےخلاف توہین الیکشن کمیشن کےمقدمات چلائے۔انتخابات ہوں یانہ ہوں،اپریل2022میں عدم اعتمادکےمضحکہ خیزووٹ کےبعد جسطرح مجھےاورمیری پارٹی کونشانہ بنایاگیا،اس سے ایک چیزواضح ہوگئی :اسٹیبلشمنٹ‏یعنی فوج،سیکیورٹی ایجنسیاں اور سول بیوروکریسیPTIکےلیے(انتخابی)میدان فراہم کرنےکےلیےبالکل تیارنہیں۔الیکشن لڑنےکےبرابرمواقع تو دور،وہ توہمیں الیکشن ہی نہیں لڑنےدےرہے۔یہ اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جسنےامریکہ کےدباؤ کےتحت ہماری حکومت برطرفی کی،جوایک آزادخارجہ پالیسی کےلیےمیرے دباؤ اور امریکی‏مسلح افواج کو اڈےفراہم کرنےسےانکار سےمشتعل ہورہی تھی۔میں واضح تھاکہ ہم سبکےدوست ہونگےلیکن جنگوں میں کسی کےساتھی نہیں ہونگے۔میرا اس پرہمیشہ مظبوط موقف رہاہے۔اسکی تشکیل پاکستان کوامریکہ کی”دہشت گردی کےخلاف جنگ”کےساتھ تعاون کرتےہوئےہونےوالےبھاری نقصانات سےہوئی،کم ازکم80ہزار پاکستانی‏جانیں ضائع ہوئی۔مارچ2022میں امریکی محکمہ خارجہ کےایک اہلکار نےواشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کےاس وقت کےسفیرسے ملاقات کی۔اس ملاقات کےبعد سفیرنےمیری حکومت کوسائفربھیجا۔میں نےبعدمیں اس وقت کےوزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کے ذریعےپیغام دیکھااور بعدمیں کابینہ میں پڑھ کرسنایاگیا۔سائفر میں میسج‏دیاگیا،جوکچھ کہاگیا اسکے پیش نظرمیرا خیال ھیکہ امریکی اہلکارکاپیغام یہ تھاکہ عمران خان کوعدم اعتماد کےذریعے ‏وزارت عظمیٰ سےہٹا دو،ورنہ۔چندہفتوں کے اندرہماری حکومت کاتختہ الٹ دیاگیااور مجھےپتہ چلاکہ پاکستان کےآرمی چیف سٹاف،قمرجاوید باجوہ،سیکورٹی ایجنسیوں کےذریعے،ہمارےاتحادیوں اور‏پارلیمانی بیک بینچرزپر کئی ماہ سےہمارے خلاف کارروائی کررہےتھے۔حکومت کی اس تبدیلی کےخلاف لوگ سڑکوں پرنکل آئےاور اگلےچندماہ میںPTIنے37 میں سے28ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اورملک بھر میں زبردست ریلیاں نکالیں،جس سےواضح پیغام گیاکہ عوام کہاں کھڑی ہے۔ان ریلیوں نے خواتین کوشرکت کی‏ترغیب دی۔جسکی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔جسنے ان طاقتوں کوبےچین کردیاجنہوں نےہماری حکومت کوہٹانےکاکام کیا تھا،اور انکی گھبراہٹ میں اضافہ تب ہواجب،‏ ہماری جگہ لینےوالی انتظامیہ نےمعیشت کو تباہ کردیا۔18ماہ میں غیرمعمولی افراط زر اورکرنسی کی قدرمیں کمی ہوئی۔‏یہ تضادسب کےلیے‏واضح تھا۔PTIحکومت نےنہ صرف پاکستان کودیوالیہ ہونےسےبچایاتھابلکہ کوویڈ19کےوبائی مرض سےنمٹنےکےلیےبین الاقوامی سطح پر داد بھی حاصل کی۔ ‏اسکےعلاوہ،اجناس کی قیمتوں میں اضافےکے باوجود،ہم معیشت کو2021میں5.8٪اور2022میں6.1٪کی حقیقیGDPنموکی طرف لےگئے۔بدقسمتی سےاسٹیبلشمنٹ نےفیصلہ کرلیاتھاکہ‏مجھےدوبارہ اقتدار میں آنیکی اجازت نہیں دی جائیگی،اسلیےمجھےسیاسی منظرنامے سےہٹانےکےتمام طریقےاستعمال کیےگئے۔مجھ پر2قاتلانہ حملےہوئے۔میری پارٹی کےرہنماؤں، کارکنوں اور سوشل میڈیاکےکارکنوں کو، معاون صحافیوں کےساتھ،اغواکیاگیا،قیدکیا،تشددکانشانہ بنایاگیااورPTIچھوڑنےکےلیے دباؤڈالاگیا۔ان‏میں سےبہت سےلوگ لاک اپ میں بندہیں،جب عدالتیں انہیں ضمانت دیتی ہیں یا رہا کرتی ہیں تو ان پرنئےالزامات لگائےجاتےہیں۔اس سےبھی بدتربات یہ ھیکہ موجودہ حکومت خواتین کوسیاست میں حصہ لینے سےروکنےکی کوشش میںPTIکی خواتین رہنماؤں و کارکنوں کوخوفزدہ اور دھمکانے کےلیےتمام حربےاستعمال کررہی ہے‏اسکےبعدہمارےبہت سےرہنماؤں کوتشددکا نشانہ بنایاگیا یا انکےاہل خانہ کوپریس کانفرنسوں اور انجینئرڈ ٹیلی ویژن انٹرویوز میں یہ بتانےکی دھمکی دی گئی کہ وہ پارٹی چھوڑ رہےہیں۔کچھ دوسری،نئی بننےوالی سیاسی جماعتوں میں شامل ہونےپرمجبور تھے۔کچھ کومجبور کیاگیاکہ وہ میرےخلاف جھوٹی گواہی دیں۔‏اس دوران بدعنوانی کےالزام میں سزایافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف برطانیہ سےواپس آ گئے،جہاں وہ پاکستانی انصاف سےمفرور بن کر رہ رہےتھے۔نومبرمیں ایک پاکستانی عدالت نےسزاکوکالعدم کردیا۔ان حالات میں8فروری کو انتخابات ہوسکتےہیں؟PTIکےعلاوہ تمام جماعتوں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانیکی اجازت‏ہے۔میں غداری کےمضحکہ خیزالزامات میں قید تنہائی میں ہوں۔ہماری پارٹی کےچند رہنماجو آزاد ہیں اور انڈرگراؤنڈ نہیں ہیں،انہیں مقامی ورکرزکنونشن بھی منعقد کرنیکی اجازت نہیں۔ جہاںPTIکے کارکن اکٹھےہونےمیں کامیاب ہوتےہیں انہیں پولیس کی وحشیانہ کارروائی کاسامناکرنا پڑتاہے۔ان حالات میں اگر‏انتخابات ہوئےبھی تو وہ ایک تباہی اور مذاق ثابت ہونگے۔کیونکہPTIکوانتخابی مہم چلانے کےبنیادی حق سےمحروم کیاجارہاہے۔الیکشن کا ایسامذاق مزیدسیاسی عدم استحکام کاباعث بنیگا۔یہ،بدلےمیں،پہلےسے غیرمستحکم معیشت کومزیدبڑھا دیگا۔پاکستان کےلیےآگےبڑھنےکاواحد قابل عمل راستہ منصفانہ اور آزادانہ‏انتخابات ہیں،جو سیاسی استحکام و قانون کی حکمرانی کو واپس لانےکےساتھ ایک مقبول مینڈیٹ والی جمہوری حکومت کی جانب سےاشد ضروری اصلاحات کاآغاز کرینگے۔پاکستان کےپاس اپنےآپکودرپیش بحرانوں سےچھٹکاراپانےکےعلاوہ کوئی راستہ نہیں۔بدقسمتی سےجمہوریت کامحاصرہ کرتے ہوئےہم ان تمام محاذوں پرمخالف‏سمت میں جا رہے ہیں۔‏رائیٹر: عمران احمد خان نیازی، قیدی اڈیالہ جیل۔‏4,1,2024۔‏