ملک دشمنوں کو واضح پیغام ——————پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے یومِ آزادی کے موقع پر کاکول اکیڈمی میں ہونے والی پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک دشمنوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چاہے روایتی یا غیر روایتی جنگ ہو، کسی بھی طرح کی جنگی حکمت ِ عملی ہو، ان کا جواب تیز اور دردناک ہوگا، وہ یقیناگہرا اور دور رس جواب دیں گے،وہ کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔اُنہوں نے کہا کہ وہ افغانستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھنے کے خواہاں ہیں اور ان کے لئے پیغام ہے کہ فتنہ الخوارج کو اپنے دیرینہ اور خیر خواہ ہمسایہ ملک پر ترجیح نہ دیں اور اِس فتنے کا قلع قمع کرنے میں ہمارا ساتھ دیں جیسے پاکستان نے آپ کا ساتھ دیا ہے۔ آپریشن عزمِ استحکام قومی عزم کا استعارہ، سلامتی کا ضامن اور وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا اور وہ مزید رسوائی کا شکار ہوں گے کیونکہ عوام اور فوج ایک ہیں،افواجِ پاکستان کو کمزور کرنا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، قوم کا پاک فوج پر اعتماد غیرمتزلزل ہے۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاص طور پر ہمارے پختون بھائیوں نے جرأت، ایثار اور قربانیوں کی جو لازوال داستان رقم کی ہے اس کے لئے پوری قوم اُنہیں سلام پیش کرتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے بیرونی طاقتوں کی سرپرستی میں ڈیجیٹل دہشت گردی کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا مقصد قوم میں نفاق اور مایوسی پھیلانا ہے،اِس کی اجازت کسی طور نہیں دی جائے گی۔ آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا میں اپنی اَمن پسندی اور اصولوں پر مبنی موقف کی وجہ سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے،پاکستانی عوام، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی اُس ذاتِ باری تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جس نے اُنہیں آزادی کی نعمت، حوصلہ، ہمت اور طاقت عطاء کی تاکہ ہم نہ صرف اِس مملکت ِ خداداد کا دفاع کر سکیں بلکہ اِس مسلمہ حقیقت کو آنے والی نسلوں کے لئے ایک کامیاب اور عظیم مثال بھی بنا سکیں۔ یہ آزادی علامہ اقبالؒ کی مدبرانہ سوچ، قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عظیم قیادت اور برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کی بے لوث قربانیوں کا ثمر ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم دہرانا حوصلہ پرور اقدام ہے۔Video Player is loading.PauseUnmuteRemaining Time -20:30Close Player65 سال سے زائد عمر کے عازمین حج کیلئے کورونا ویکسین سرٹیفکیٹ لازمی قراراِس بات میں کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ پاکستان کو اگرچہ معیشت اور سیاسی تقسیم سمیت کئی دیگر چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم دہشت گردی اُن سب میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اِس پر قابو پائے بغیر معیشت کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اگرچہ کہ دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا تھا، دنیا نے اِس کی کاوش کو سراہا بھی تھا تاہم اِس نے ایک بار پھر سر اُٹھا لیا ہے۔ اِس بار طریقہ واردات ذرا مختلف ہے کہ جتھوں کے جتھے افغان سرحد سے یہاں داخل ہو کر حملہ آور ہوتے ہیں، اُن میں سے بعض کو مار دیا جاتا ہے اور بعض بھاگ کر واپس جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اب زیادہ تر پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دو روز قبل ہی جنوبی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب ایک جھڑپ میں کم از کم چار پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے،اِس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے شمال مغربی ضلع کے قریب جھڑپوں میں کم از کم تین پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی تحقیق کے مطابق گزشتہ سات ماہ کے دوران ملک بھر میں 550 سے زائد مشتبہ عسکریت پسند حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 580 شہری شہید ہوئے۔ دہشت گردی کے واقعات سرحد پار سے ہو رہے ہیں اور امریکی ادارے انسٹیٹیوٹ آف پیس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جنوبی ایشیاء میں کارروائیاں بڑھ رہی ہیں اور اِسے افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ یاد رہے امریکی انخلاء کے وقت طالبان نے امریکہ اور علاقائی ممالک سے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کو دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے لیکن ایسا ہوا نہیں،پاکستان نے اِس کے شواہد نہ صرف افغان حکومت کو مہیا کیے ہیں بلکہ متعلقہ عالمی ادراروں کو بھی یہ ڈوزیئر پہنچائے ہیں تاہم اِس کے باوجود افغان حکومت نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی، اس نے اب تک پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کا استعمال روکنے کے لئے کوئی خاظر خواہ اقدامات نہیں کئے۔ افواجِ پاکستان اور دیگر متعلقہ ادارے باہر سے آنے والے دہشت گردوں سے تو لڑ ہی رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ملک کے اندر اور باہر موجود ڈیجیٹل دہشت گردوں کا بھی سامنا ہے۔ آرمی چیف نے واضح طور پر پیغام دے دیا ہے کہ عزم استحکام مہم کے ذریعے اب اِس پر بھی قابو پایا جائے گا۔ ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی تقسیم ڈیجیٹل دہشت گردی کی ہی پیداوار ہے،اس سیاسی عدم استحکام کا ملکی معیشت کو کمزور کرنے میں کافی بڑا کردارہے، عوام میں نفاق پیدا ہونے کا بالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان معیشت ہی کو ہوتا ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ سیاسی استحکام، امن اور معیشت کا آپس میں گہرا تعلق ہے، حکومت ِ پاکستان بیرونی سرمایہ کاروں کو مدعو کر رہی ہے، انہیں کھینچ رہی ہے لیکن اِس کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنا ازحد ضروری ہے جس کے بغیر یہ کوششیں کامیاب ہونا مشکل ہیں۔مشکل حالات کے باعث ہی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے نئے پروگرام کے لئے بات چیت کر کے سٹاف لیول معاہدہ کیا گیا اور اِس کے لئے اس کی شرائط بھی ماننا پڑیں جس کا بہت سارا بوجھ عام آدمی پر آن پڑا ہے، بجلی پانی اور گیس کے بل ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ جشن ِ آزادی کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان تو ہوا ہے جسے قوم نے سراہا۔ یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے نہ صرف چند دِنوں میں قوم کو بجلی کی قیمتیں کم کیے جانے کی خوشخبری سنائی بلکہ جلد پانچ سالہ معاشی پلان بھی دینے کا اعلان کیا۔اُمید تو یہی ہے کہ اِس پلان پرعملدرآمد سے پاکستان کے معاشی مسائل حل ہو جائیں گے۔ معیشت کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اِس کی مضبوطی ہی اقوام کو خود انحصاری پر منتج کرتی ہے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو وہ کسی صورت قابل ِ قبول نہیں ہے اور اس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پوری قوم کو متحد ہونا ہو گا، سیاسی تقسیم ختم کر کے ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔اِسی میں سب کی بھلائی ہے۔










