تازہ تر ین

اتنی گھٹیا سلیکشن کی ہے کہ دنیا ہمارے اوپر تھوک رہی ہے شرم انی چاہیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اور ٹیم سلیکشن کرنے والوں کو۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری 29 فیصد ٹیکس بچانے کے لیے اپنی ٹیکسٹائل مل کو ای ٹی ایکسپورٹ میں رجسٹرڈ۔ترک اور پاکستان کی سالانہ فوجی مشقیں ختم۔جسٹس سرفراز کو بطور چیف جسٹس کام سے روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ 50 ہزار فلسطینیوں کے قتل اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا ذمہ دار اسرائیل ہے، اسحاق ڈار۔خلائی سائنسز، قومی سلامتی و معیشت کی ترقی کے لیے ناگزیرہے، احسن اقبال۔50 ہزار فلسطینیوں کے قتل اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا ذمہ دار اسرائیل پاکستان۔گریڈ 22 کے لیے بورڈ طلب 30 ترقی پانے والے خوش قسمت کون۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان میں سلیکشن میرٹ پر ہوتا تو ٹی 20 ورلڈکپ 2024 میں امریکہ جیسی ٹیم جو پہلی بار کسی آئی سی سی ایونٹ میں کھیل رہے تھے اس ٹیم کے خلاف اس عقل سے خلاص باولر نے آخری اوور میں 15 نہیں بچاۓ تھے اگر یہ کسی اور ملک میں کھیلتا تو اسکو لات سےپکڑ کر ٹیم سے ہمیشہ کیلئے باہر پھنیک دیتے ، لیکن یہ بندہ اسکے بعد بھی پاکستان ٹیم کا حصہ ہے اور آج بھی اس نے 10 اوور میں 83 رنز کھاۓ ہے جو اسکے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے ،زمان خان وسیم جونئر ،شاہ نواز دہانی ،عاکف جاوید ، عباس آفریدی اس سے ہزار درجے اچھے باولرزہے بس فرق اتناہے کہ انکے پاس پرچی نہیں

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا ہےکہ ان کا ملک حماس کی قید میں دو انتہائی کم عمر قیدیوں سمیت چار اسرائیلی یرغمالوں کی لاشوں کی واپسی کے “ناقابل برداشت غم میں متحد” ہے۔انہوں نے ان مقتولین کا بدلہ لینے کا عزم کیا جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو ان کے گھروں سے زندہ اغوا کیا گیا تھا لیکن وہ غزہ سے تابوتوں میں واپس آئے۔

مرنے والوں میں شیرخوار کفیر بیباس اور اس کا چار سالہ بھائی ایریل بھی شامل تھے، جو دو سب سے کم عمر قیدی تھے جن کی نعشیں حماس نے ریڈکراس کے حوالے کی ہیں۔ ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تمام یرغمالوں کو واپس لائیں گے اور حماس کو ختم کر دیں گے۔غزہ جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر دہشت گرد حملے کے بعد ہوا تھا۔ امریکہ اور بعض یورپی ممالک حماس کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک اور 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی میں حماس کے زیرِ کنٹرول غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 47 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ٹیکسٹائل مل مالکان حال ہی میں لگائے گئے 29 فیصد انکم ٹیکس سے بچنے کیلیے اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایکسپورٹ کے طور پر رجسٹر کرا رہے ہیں۔خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر انوشے رحمان نے کہا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایکسپورٹس کو بڑھانے کیلیے کم کیے گئے 0.25 فیصد انکم ٹیکس کی سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، واضح رہے کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹس پر 29 انکم ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجیکل ایکسپورٹ پر ابھی بھی ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد ہے جبکہ آئی ٹی خدمات کی ایکسپورٹ پر ٹیکس کی شرح 1 فیصد ہے

اجلاس میں شریک چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کمیٹی کو معاملے کی تحقیق کرنے کی یقین دہانی کرائی،واضح رہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران آئی ٹی ایکسپورٹ 28 فیصد اضافے کے ساتھ 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بار بار انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے ماہرین آئی ٹی ایکسپورٹ میں کمی کی پیشگوئیاں کر رہے تھے۔اس تناظر میں آئی ٹی ایکسپورٹ میں اس تیز رفتار اضافے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے، سینیٹ کو پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق جنوری میں 652 آئی ٹی کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئی ہیں، جو کہ گزشتہ ماہ رجسٹر کی گئی نئی کمپنیوں کا 20 فیصد بنتی ہیں، سینیٹر انوشے رحمان کو ان تفصیلات سے آئی ٹی انڈسٹری نے آگاہ کیا ہے۔آئی ٹی انڈسٹری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح آئی ٹی انڈسٹری کا غیر حقیقی پھیلائو ہوگا، جس کی وجہ سے حکومت انکم ٹیکس میں دی گئی رعایت کو ختم بھی کرسکتی ہے،آئی ٹی انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جون کے بعد رجسٹر ہونے والی کمپنیوں نے کافی عرصے سے رجسٹرڈ کمپنیوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ایکسپورٹ کی ہے، یہ بھی تشویش کی ایک وجہ ہے، اور اس سے بے ضابطگیوں کا اظہار ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved