ایک امریکی عہدے دار اور پناہ گزینوں کی آباد کاری کے ایک معروف گروپ کے حامی نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے تحت تقریباً 1600 افغان شہریوں، جنہیں واشنگٹن نے امریکہ میں آباد ہونے کے لیے کلیئر کر دیا تھا، کی پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔ صدارتی حکم نامے کے متاثرین میں امریکی فوج میں فعال اہلکاروں کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد مزید لاکھوں افغانوں نے پاکستان میں پناہ لیخبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی سابق فوجیوں اور ایڈوکیسی گروپوں کے اتحاد کے سربراہ شان وان ڈائیور اور ایک امریکی عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گروپ میں بچے بھی شامل ہیں جو امریکہ میں اپنے خاندانوں سے دوبارہ ملنے کے منتظر ہیں اور وہ افغان شہری بھی جنھیں طالبان سے انتقام کا خطرہ ہے کیونکہ انہوں نے سابق امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کا ساتھ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے ان ہزاروں دیگر افغانوں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے، جنہیں امریکہ میں پناہ گزینوں کے طور پر آباد ہونے کی منظوری دی گئی تھی لیکن انہیں ابھی تک افغانستان یا پاکستان سے پروازیں نہیں ملیں۔ایران کا بیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کا منصوبہوان ڈائیور کا کہنا تھا، “یہ ان خاندانوں اور افراد کے لیے تباہ کن ہے جن کو دوبارہ آبادکاری کے لیے پہلے ہی منظوری مل چکی ہے










