*دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر؟*13 جون 2025 کی رات اسرائیل کی جانب سے ایران پر غیر معمولی فضائی حملے نے عالمی منظرنامے کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ جب ایک طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور نیٹو افواج مشرقی یورپ میں غیرمعمولی نقل و حرکت کر رہی ہیں، تو اب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کا براہِ راست ٹکراؤ ایک ایسی آگ بن چکا ہے جس کی لپیٹ میں پورا خطہ اور بالآخر دنیا آ سکتی ہے۔دو محاذ، ایک خطرہپہلا محاذ — مشرقی یورپ:روس-یوکرین جنگ اب روس اور نیٹو کے براہِ راست تصادم کے قریب ہے۔ حالیہ ہفتوں میں پولینڈ، رومانیہ اور بالٹک ریاستوں میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی بڑھ چکی ہے۔ روس نے بیلا روس کے راستے جوابی تیاریوں کا آغاز کیا ہے اور کریمیا کے ساحلوں پر ایٹمی-capable میزائل نصب کر دیے گئے ہیں۔دوسرا محاذ — مشرقِ وسطیٰ:اب ایران پر اسرائیل کے حملے نے دوسرا محاذ کھول دیا ہے۔ ایران کے جوابی اقدام میں حزب اللہ، حوثی باغی، اور عراقی ملیشیائیں متحرک ہو چکی ہیں۔ اگر یہ تصادم خلیج عرب، شام، لبنان اور یمن میں پھیل گیا تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔عالمی طاقتیں صف بند ہو رہی ہیںروس نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے دفاع کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ چین نے بھی خطے میں امریکی کردار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کا دفاع کرے گا “خواہ حالات جو بھی ہوں۔”یعنی دنیا کی بڑی طاقتیں — امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس — براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دونوں محاذوں پر موجود ہیں۔ یہ وہی ترتیب ہے جو 1939 میں دوسری عالمی جنگ سے قبل دیکھی گئی تھی۔اقوام متحدہ کا کردار ایک بار پھر علامتی رہ گیا ہے۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی کسی مشترکہ قرارداد پر متفق نہ ہو سکا۔ جب عالمی ادارے بےبس ہو جائیں، طاقت کے مراکز تقسیم ہو جائیں، اور جنگ کے شعلے بیک وقت دو برّاعظموں میں بھڑک اٹھیں — تو تاریخ یہی بتاتی ہے کہ عالمی جنگ قریب ہوتی ہے۔پاکستان، ترکی، سعودی عرب، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک کو فوری طور پر ایک مشترکہ موقف اپنانا ہوگا۔ اگر یہ جنگ فرقہ واریت اور پراکسی تنازع میں بدل گئی، تو امتِ مسلمہ شدید نقصان اٹھائے گی۔ پاکستان کو خصوصاً اس وقت حکمت، تدبر اور سفارتی متانت کا مظاہرہ کرنا ہوگا — کیونکہ ہمارا خطہ بھی کسی بڑی جنگ کی چنگاری بن سکتا ہے۔آج دنیا جس نازک موڑ پر کھڑی ہے، وہ محض ایک علاقائی کشمکش نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ روس-یوکرین جنگ اور ایران-اسرائیل تصادم کا ملاپ ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر چکا ہے جو تیسری عالمی جنگ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اگر فوری طور پر عالمی سفارتکاری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے، تو کل کے مؤرخ لکھیں گے:“تیسری عالمی جنگ کا آغاز ایک غیر رسمی حملے سے ہوا — اور دنیا نے اسے روکا نہیں۔”










