تازہ تر ین

بجٹ کے بڑی تبدیلی کی گونج۔ لندن اور امریکہ میں مقبوضہ کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے حق میں نعرے۔ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر مئی 2025 کی رپورٹ دیکھ لیں۔۔پارلیمنٹ سے بجٹ پاس کروانے کی کیا ضرورت۔۔فیلڈ مارشل ارمی جیف سید عاصم منیر کے 3 اھم ممالک کے دورے۔ موجودہ دور میں دنیا کے پاور ترین 5 شخصیات میں شامل۔ فیلڈ مارشل پینٹاگون اور سی آئی اے ھیڈ کواٹر کا بھی دورہ کرینگے۔ لندن اور امریکہ میں مقبوضہ کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے حق میں نعرے۔ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر مئی 2025 کی رپورٹ دیکھ لیں۔ پارلیمنٹ سے بجٹ پاس کروانے کی کیا ضرورت۔فیلڈ مارشل ارمی جیف سید عاصم منیر کے 3 اھم ممالک کے دورے۔ ۔موجودہ دور میں دنیا کے پاور ترین 5 شخصیات میں شامل۔فیلڈ مارشل پینٹاگون اور سی آئی اے ھیڈ کواٹر کا بھی دورہ کرینگے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایک چھوٹے سے انقلاب کی داستان۰۰۰۰۰۰۰۰برگیڈیئر عتیق الرحمان ( ر)۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ میں نے بڑے بڑے انقلابوں کی داستانیں پڑھی بھی ہیں ، سنی بھی ہیں – لیکن اپنی آنکھوں سے جس انقلاب کو دیکھا وہ پی ایم اے میں میری آپ بیتی ھے- پی ایم اے پہنچے تو فوج نے سب سے پہلے میرے نخرے کا علاج کیا- سر کے باھر بال نہیں رھنے دیئے اور سر کے اندر نخرا، نہ کوئی شک- ابھی پی ایم اے کا گیٹ کراس کئے دو دن ہی گزرے تھے کہ ہم بالکل good year ٹائر کی طرح روانی سے فرنٹ رول کرنا سیکھ چکے تھے- دیواروں کو بھی یس سر، یس سر کہ کر بلاتے- ایک سینئر نے بتایا کہ ھاتھ ھولا رکھو-گملوں اور دیواروں کو سر کہنے سے پرہیز کرو-

پی ایم اے جانے سے پہلے میں گھر پر گنی چنی چیزیں ،گوشت، قیمہ ، انڈے ، سموسے، چاٹ ، گول گپّے ،بسکٹ وغیرہ ہی کھاتا تھا- اڑھائی مہینے بعد میں جب پہلی بار ،گھر مڈ ٹرم کی چھٹی آیا، تو ماں میری حیران رہ گئی، میں قربانی والے بکرے کی طرح ، سب کچھ کھا رھا تھا- والد صاحب زیر لب مسکرا رھے تھے کہ ” پتر ھون سنا، تینوں کہنا ساں نہ پڑھ لے”- خیر یہ کوئی اتنا سیریس معاملہ نہیں تھا- اگلے دو مہینے بعد ہم وہ ابتدائی فوجی تربیت سے ہمکنار ھو کر دوسری ٹرم میں پہنچ گئے- اردو زبان میں nudging کا مطلب ہے ٹوکنا- اگر چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے مسلسل ٹوکا جاتا رھے تو بڑی غلطی کا امکان کم ہو جاتا ھے- سڑک کے کنارے sign posting اسی طرح کی ایک nudging ہے جہاں تنبہہ کی ھوتی ھے کہ یو ٹرن یہاں سے نہ کریں ، آگے سے کریں – یہ ون وے ھے- کوڑا کچرے کے ڈبّے میں پھینکیں-

مجموعی کامیابی کے تین بڑے جُز ہیں- ایک جامع منصوبہ بندی ( لیڈر کی ذمہ داری)، پختہ ارداہ اور نظم و ضبط- ارداہ اور نظم و ضبط invoke کیا جاتا ھے- فطرتا انسان کاہل اور سست ھے- خود غرض ہے، خوف بھی کھاتا ہے- ان کمزوریوں کو صرف نظم و ضبط سے ٹھیک کیا جا سکتا ھے-ارادے کی پختگی آہستہ آہستہ خود پیدا ھوتی جاتی ھے-کسی بھی فوجی تربیت گاہ میں ٹریننگ کے لئے یہی کلیہ استعمال کرتے ہیں – لیکن معاشروں میں یہ کام قانون اور کلچر انجام دیتے ہیں- کلچر سب سے بڑا انسٹرکٹر ھے-

پی ایم اے میں سینئر صرف سینئر کیڈٹ ہوتا ھے- باقی عہدیداران ، سٹاف، پلاٹون کمانڈر، ایڈجوٹینٹ ، کمپنی کمانڈر، بٹالیں کمانڈر سب اپنے عہدے سے پہچانے جاتے ہیں- پی ایم اے کی چاردیواری کے اندر کیڈٹ کی ڈری ڈری نظر ان عہدیداران پر ھوتی ہے اور عہدیداران کی کڑی نظر کیڈٹ پر- جیسے ہی سرکاری اوقات کار ختم ھوتے ہیں ، جونیئر کیڈٹ سینئر کیڈٹ کی پناہ میں آ جاتے ہیں- یہ کیسے ھوتا ہے- جی، یہ جادوئی عمل ہر پلاٹوں میں ایک سینئر جنٹل مین کیڈٹ کے ذریعے عمل میں آتا ھے- جیسے ہر کلاس کا مانیٹر ہوتا ھے ایسے ہی ہر پلاٹوں کا اور پھر کورس کا ایک سینئر جنٹلمین کیڈٹ ( ایس جی سی) نامزد ہوتا ھے اور سارے احکامات اس کے ذریعے پوری پلاٹون تک پہنچتے ہیں-

کوئی فون یا وائرلیس نہیں ہوتا – ایس جی سی ،دو ٹانگوں اور زبان کا ستعمال کر کے سارے نیٹ ورک کے درمیان رابطے کا کام کرتا ھے- کلاسز کے بعد پلاٹوں ٹرانزیشین فیز سے گزر کر سینئر کے حوالے ھو جاتی ھے- ہر پلاٹوں کا ایک چھوٹا اور ایک بڑا والی وارث ہوتا ھے- چھوٹا تیسری ٹرم کا کیڈٹ ھوتا ھے جسے کارپورل کہتے ہیں- بڑا چوتھی ٹرم کا کیڈٹ ہوتا ھے جسے سارجنٹ کہتے ہیں- ان دونوں کا آپس میں روحانی رابطہ ہوتا ھے- چھوٹا چھوڑتا ھے تو بڑا بلا لیتا ھے اور بڑا جب کہتا ھے آپ لوگ جائیں تو چھوٹا باھر ہی مل جاتا ھے- ہمارا چھوٹا ھماری بیرک کے کنارے پہلے کمرے میں رھتا تھا-پی ایم اے کلچر میں میٹافورز اور سگنل کا استعمال بہت اھم ھے- ڈرل سکیئر، پی ٹی گراؤنڈ، کوت، میس، ایچ ایس، سیچل، ڈی ایم ایس، ڈرل شوز، مَفتی، مَفتی شوز، ایس ڈی، جی سی آفس ، اینٹی روم، ھینڈز ڈاؤن، رول، فراگ جمپ اور اسی طرح کے سینکڑوں میٹافور ذہن میں ایسے بیٹھے کہ آج تک ازبر ہیں- قیامت کی گرمی ھو یا مائنس ٹمپریچر، آپ ریگستان میں ہیں یا سیاچن پر، کھانا ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا ھے، پورے ڈریس کوڈ کے ساتھ- کھانے والا ٹیبل ٹینٹ میں لگے یا باقاعدہ کمرے کے اندر ، اس کا درجہ میس کا ہی رھے گا- دال بھی ، بھنی ھوئی مرغی کی طرح کانٹے سے اور نہایت ادب سے کھائی جائے گی- کھانے کے ایک ایک نوالے کا بل آفیسر کی اپنی ذمہ داری ھے- نہ کبھی کوئی کسی کا مذھب پوچھا، نہ ذات – سب کو اپنی سینیارٹی کا پتا ہوتا ھے- چپ چاپ بغیر کرسی کی آواز نکالے بیٹھتے جاتے ہیں – اس سارے ماحول میں صرف ایک شخص ایسا ہوتا ھے جو کوئی بھی لطیفہ سنا سکتا ھے، کوئی قصہ یا تاریخی واقعہ اور اگر موڈ ھو تو کل صبح روٹ مارچ کا حکم یا آج ھی رات نائیٹ ٹرینگ اور وہ شخص بلحاظ عہدہ CO کہلاتا ھے- فوجی سروس میں پکے کمروں میں رہنے کا اتفاق کم ہی ہوتا ھے- زندگی “بنکر ( مورچہ)”، کوئی “چیک پوسٹ” یا ٹینٹ میں زندگی بسر ہوتی ہے-

“40 پوؤنڈر “، ” 80 پوؤنڈر”، “کیمپ کاٹ” “کیمپ سٹول ” آہستہ آہستہ زندگی کاحصہ بن جاتے ہیں-چالیس پاؤنڈر ایک چھوٹا ٹینٹ ہے اور 80 پاؤنڈر اس سے تھوڑا بڑا ٹینٹ- ٹینٹ کو بڑا کرنے کا فارمولا آسان ھے- جتنا ٹینٹ اوپر ھوتا ھے اتنا ہی نیچے کھود لیں تو ٹینٹ نما گھر بن جاتا ھے بشرطیکہ بارش نہ ھو- کیمپ کاٹ ٹینٹ میں استعمال ھونے والی فولڈنگ چارپائی ٹائپ ایک آئٹم ہوتی جس پر نہ سویا جاتا ہے نہ بیٹھا- بہت ہی محدود وسائل میں سلیقے کی زندگی گزارنا بہت بڑا فن ھے- زندگی میں پیسے اتنے معنی نہیں رکھتے جتنا، جینے کا سلیقہ- پی ایم اے سے یہی ” سلیقہ” سیکھ کر نکلے اور پھر عمر بھر اس سلیقے کے قیدی بن کر رھے-پلٹون میٹ، کمپنی میٹ، کورس میٹ ، یونٹ افسر یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں – پی ایم اے سے نکلے تو مزید میٹافورز زندگی کا حصّہ بن گئے- فریش، راشن، ٹیکنیکل اور ایڈم انسپکشن ، سکیم، ریکی، بڑا کھانا، گراؤنڈ شیٹ، منٹ شیٹ، چارج شیٹ ، لنگر ،لنگرگپ ، رنر، کیڈر، فیلڈ فائر، کواٹر گارڈ، ڈیوٹی افسر،رول کال، اڈوانس پالٹی ،روٹ مارچ ، دربار، مکھڈی حلوہ- فوج میں سیکھے یہ ان ھزاروں الفاظ میں سے چند ہیں جن کو یاد کر کے آج بھی چہرے پر مسکراھٹ دوڑ جاتی ھے- ۰-۰-۰-۰-برگیڈیئر عتیق الرحمان ( ر) atiquesheikh2000@gmail.com

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved