
قومی احتساب بیورو (نیب) نے بحریہ ٹاؤن کراچی، لاہور، تخت پڑی، نیو مری گولف سٹی اور اسلام آباد میں کثیر المنزلہ رہائشی و کمرشل جائیدادوں کو سر بمہر کر دیا۔نیب نے ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف فراڈ کے زیر تفتیش مقدمات میں ایکشن لیا ہے، بحریہ ٹاؤن کے سیکڑوں اکاؤنٹس منجمد کرتے ہوئے درجنوں گاڑیاں بھی ضبط کرلی گئی ہیں۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ مخصوص عناصر ملک ریاض کے دبئی پروجیکٹ میں رقوم منتقل کر رہے ہیں، ملک ریاض کو بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔نیب کے اعلامیہ کے مطابق اتھارٹی نے بطور قومی احتساب ادارہ اپنے مینڈیٹ میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایک بار پھر عوام کو آگاہ کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض احمد اور دیگر کے خلاف دھوکا دہی کے متعدد مقدمات اس وقت زیر تفتیش ہیں۔

مزید برآں نیب نے ان ملزمان کے خلاف اسلام آباد اور کراچی کی احتساب عدالتوں میں متعدد ریفرنسز دائر کیے ہیں اور ان عدالتوں نے تمام ملزمان کو طلب کیا ہے۔ان مقدمات میں ملک ریاض احمد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں بحریہ ٹاؤن کے نام پر نہ صرف سرکاری بلکہ نجی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے، بغیر اجازت ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم کرنے اور عوام سے اربوں روپے کا فراڈ کرنے کے الزامات اور ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔——اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے کل ہونے والے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔۔رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین کا اپوزیشن لابی میں اجلاس ہوا جس میں اہم ان کیمرہ اجلاس میں شرکت کے حوالہ سے غور کیا گیا۔زرائع نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کی اکثریت نے اجلاس میں شرکت پر زور دیا، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اجلاس میں شرکت کی بھرپور حمایت کی جب کہ پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر کا کہنا تھا بانی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے۔بعد ازاں تحریک انصاف نے 14 ارکان کی شمولیت کی فہرست دے دی جس کے مطابق عمر ایوب، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا کل قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ان کے علاوہ عامر ڈوگر، محمد بشیر خان، ثنا اللہ مستی خیل، علی محمد خان اور زبیر خان بھی شرکت کریں گے، شبلی فراز، علی ظفر، ہمایوں مہمند اور عون عباس شریک ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کو کل بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سیکرٹریٹ ملازمین کو کل چھٹی دے دی گئی، کمیٹی اراکین کے علاوہ تمام اراکین پارلیمنٹ کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی، کمیٹی اراکین کو خصوصی دعوت نامے پر پارلیمنٹ میں داخلہ دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق میڈیا کوریج پر بھی کل پابندی عائد کر دی گئی، میڈیا نمائندوں کو بھی کل پارلیمان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ قومی سلامتی کی صورت حال پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، جس میں عسکری قیادت کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا 18 مارچ بروز منگل دن 11 بجے ہوگا۔ ماہ رمضان کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا وقت دن گیارہ کیا گیا ہے۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اِن کیمرہ منعقد ہو گا، جس میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہو گا۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے۔ علاوہ ازیں متعلقہ اراکین کابینہ بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی ایڈوائس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کو ڈیڑھ بجے طلب کیا تھا،

جس کا وقت بدل کر اب گیارہ بجے مقرر کردیا گیا ہے۔—–راولپنڈی کی احتساب عدالت نے تخت پڑی ریفرنس میں عدم حاضری پر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی احمد ملک کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ملک ریاض، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ سمیت 17ملزمان کے خلاف تخت پڑی ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت راولپنڈی کے جج محمد اکمل خان نے کی۔ ریفرنس میں نامزد 10 ملزمان کے علاوہ 4 کے وکلا عدالت پیش ہوئے۔سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے وکیل کی جانب سے عدالت میں میڈیکل سرٹیفکیٹ داخل کروا دیا، عدالت نے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر چوہدری پرویز الہیٰ کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔عدالت نے تمام ملزمان کو 5 لاکھ فی کس مالیت کے مچلکے داخل کرانے کا حکم دے دیا جبکہ عدم حاضری پر ملک ریاض اور علی احمد ملک کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت پر گرفتار کرکے عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا اور ریفرنس پر مزید سماعت 16 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ ریفرنس میں مجموعی طور 17 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، ملزمان پر موضع تخت پڑی اور اطراف میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے، ملزمان پر سرکاری خزانے کو 335ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے۔-

—-وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن نہ بڑھانے کے اعلان سے متعلق وزارت خزانہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔وزارت خزانہ نے سینیٹر محمد اورنگزیب کے حوالے سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی کسی تجویز کے فی الوقت زیر غور نہ ہونے کے مبینہ اعلان کی وضاحت جاری کردی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی بیان دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس حوالے سے سینیٹر محمد اورنگزیب سے منسوب نشر کی جانے والے خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ کے خطاب میں سرکاری ملازمین کے پے اسکیلز پر نظر ثانی یا ان کی تنخواہوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔وزارت خزانہ نے تحریری طور پر ایک معزز رکن قومی اسمبلی کی جانب سے سوال اٹھائے جانے پر معزز ایوان کو صورت حال سے آگاہ کیا۔وزارت خزانہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ فی الوقت اگلے مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کے ملازمین کے پے اسکیلز پر نظرثانی اور ان کی تنخواہوں اور الاونسز میں خاطر خواہ اضافے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔واضح رہے کہ اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کروایا تھا۔جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔وزیر خزانہ نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ملازمین کے الاونسز اور پے اسکیل پر نظرثانی کی تجویز بھی نہیں ہے جبکہ وفاقی سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔——–وزیراعظم شہباز شریف نے زراعت کے شعبے کو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ زراعت کی ترقی کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت غذائی تحفظ و تحقیق پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا قیام حتمی مراحل میں ہے، اجلاس کو زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بھی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی کے لیے تمام سہولیات مہیا کرے گی جب کہ نوجوانوں کی تربیت اور آسان زرعی قرضوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کئے جائیں۔وزیراعظم نے غیر معیاری زرعی بیج کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف جلد از جلد سخت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔شہباز شریف نے پاسکو کو ختم کرنے کے حوالے سے تمام ضروری امور جلد نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پی اے آر سی میں تحقیقاتی کام کو جلد فعال کیا جائے۔وزیراعظم نے پاکستان میں خوردنی تیل کی پیداوار کے حوالے سے اقدامات تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں، نجی شعبے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پورے ملک میں فارم میکانائزیشن کو فروغ دیا جائے۔—–سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات نے سیکریٹری آئی ٹی، ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا ہے، چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اعلی حکام کمیٹی کو لے کر سنجیدہ نہیں، حکام کی غیر سنجیدگی کے خلاف ایکشن لیں گے۔سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام اور یو ایس ایف فنڈز سے متعلق ایجنڈا زیرِ بحث آیا۔اجلاس میں سیکریٹری آئی ٹی، ایڈیشنل سیکریٹری کی عدم شرکت پر چیئرمین کمیٹی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام اور ایڈیشنل سیکریٹری اجلاس میں کیوں نہیں آئے؟ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اعلی حکام کمیٹی کو لے کر سنجیدہ نہیں۔مزید کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے حکام کے خلاف خط لکھیں گے، وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام حکام کی غیر سنجیدگی کے خلاف ایکشن لیں گے، اگلی بار اجلاس میں شرکت نہ کی تو معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔وزارت آئی ٹی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام آزربائیجان کے دورے پر ہیں، ایڈیشنل سیکریٹری وزیراعظم ہاؤس میں میٹنگ میں مصروف ہیں۔اجلاس میں ایف جی ای ایچ اے اسلام آباد کے پارک روڈ کی جعلی بینک گارنٹی کے معاملہ پر انکوائری رپورٹ پر بحث ہوئی، انکوائری رپورٹ کابینہ ڈویژن اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے کمیٹی کے سامنے پیش کی،جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بینک گارنٹی جاری کرنا کنٹریکٹر کا کام نہیں تھا، ڈائریکٹر فنانس نے بغیر بینک گارنٹی چیک کیے رقم جاری کی۔چیئرمین کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ پہلے ڈائریکٹر فنانس نے ملی بھگت سے جعلی بینک گرانٹی جاری کی، تاہم ڈائریکٹر فنانس نے اس جعلی بینک گارنٹی پر کنٹریکٹر کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا، ڈائریکٹر فنانس نے کنٹریکٹر سے 22 کروڑ روپے بطور رشوت مانگی۔ڈائریکٹر فنانس نے کنٹریکٹر سے کہا اگر رقم نہ دی تو آپ کی کمپنی بلیک لسٹ کروا دوں گا، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس حکام نے کہا کہ ڈائریکٹر فنانس کا تبادلہ کردیا گیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت ہاوسنگ اور کابینہ ڈویژن کی انکوائری میں ڈائریکٹر فنانس کا نام ہی نہیں ہے۔وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس حکام نے کہا کہ جب گراونڈ پر کام ہی نہیں ہوا تو رقم جاری کیسے کی گئی، جہاں کنٹریکٹ دیا گیا وہاں پر زمین ہی نہیں تھی، کابینہ ڈویژن حکام نے بتایا کہ ایف جی ایچ اے پارک روڈ منصوبے کے تمام بلز جعلی ہیں، تین ارب روپے کی ادائیگی ہوئی لیکن کوئی کام نہیں ہوا، سب نے مل کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ڈویژن حکام کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ کہتے ہیں منصوبے کے لیے زمین نہیں تھی اس لیے کام نہیں ہوا، سینیٹر حامد خان نے کہا کہ منصوبے میں وکلا کے پیسے لگے یہ عوام کا پیسہ ہے، وکیلوں کو سال ہا سال سے کوئی پلاٹ نہیں مل رہا ہے۔کابینہ ڈویژن حکام نے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہے،ایف جی ای ایچ اے نے کئی کئی سالوں سے لوگوں سے پیسے لیے ہوئے ہیں۔










