تازہ تر ین

بھارتی فضائیہ یا گدھا گاڑی۔ 23 مارچ کی تیاریاں عروج پر۔۔۔۔نادرا کو بنے 25 سال جنرل زاھد احسان نے اس ادارے کو بنانے میں اپنا خون دیا۔۔مھنگای مھنگای ھاے مھنگای۔ ۔۔خون سستا اٹا مھنگا۔۔چینی 160 روپے دودھ 360 روپے کلو چنا 350 مونگ کی دال 500 روپے۔۔روزہ داروں کی دھای غریب نمک سے روزہ کھولنے پر مجبور۔۔بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کو زندہ دفن کر دیا۔ نادرا کے قیام کے 25 سال مکمل۔۔جنرل زاھد احسان ہے اس ادارے کی آبیاری کی۔۔پاکستان کرکٹ کا جنازہ نکالنے والے نے سیکورٹی فورسز کو بغیر کفن دفن کر دیا۔۔وزارت داخلہ میں اکھاڑ بچھاڑ۔6اھم وزارتوں کے سیکرٹری تبدیل کرنے کا فیصلہ۔۔بہاولپور روالپندی کے بڑے تبدیل نئے پرموٹ ھونے والے کون۔۔ایران کو ڈونلڈ ٹرمپ نے خط لکھ کر مزاکرات کی دعوت دے دی_۔دھمکی کام نہ ای تو ٹرمپ نے خامنئی کو باقاعدہ امریکہ آنے کی دعوت دے دی۔۔آزاد کشمیر حکومت کی تبدیلی کا امکان۔۔سیاسی تبدیلی کی کوشش وزیراعظم آزادکشمیر کی اہم عسکری شخصیت سے ملاقات نہ۔۔پاکستان میں موسلا دھار بارش اور برفباری۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*آسٹریلیا میں بھارتی کمیونٹی رہنما بلیش دھانکھر کے جرائم: بھارت کا عالمی سطح پر بڑھتا ہوا ریپ کلچر*بھارت کا “ریپ کلچر” ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو نہ صرف بھارت میں بلکہ عالمی سطح پر پھیل چکا ہےبھارتی ریپ کلچر ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جو بھارتیوں کی گرتے ہوئی اخلاقی اقدار اور سماجی زوال کی عکاسی کرتی ہےبین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جی پی کے سیٹلائٹ گروپ کی بنیاد رکھنے اور ہندو کونسل آف آسٹریلیا کے ترجمان بلیش دھانکھر نے پانچ کوریائی خواتین کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عصمت دری کا نشانہ بنایاسابق آئی ٹی کنسلٹنٹ 43 سالہ بلیش دھانکھر، ہریانہ سے ہیں، جن کے والد اجیت دھانکھر ہندوستانی فضائیہ کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور دہلی حکومت میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے طور پر بھی کام کیا بلیش دھانکھر کو ڈاؤننگ سینٹر ڈسٹرکٹ کورٹ آسٹریلیاء میں40 سال کی سزا سنائی گئی،

رپورٹدھانکھر، نے جنوبی کوریائی خواتین کو لالچ دینے کے لئے نوکری کے جعلی اشتہارات کا استعمال کیا اور نشہ آور ادویات کا استعمال کر کے خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایادھانکھر ایک ایکسل اسپریڈشیٹ پرجعلی نوکری کے اشتہارات کے تمام درخواست دہندگان کی شکل، ذہانت اور خوبصورتی کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا, رپورٹ دھانکھر اپنی مستقبل کی جنسی تسکین کے لیے اپنے جرائم کو فلماتا اور ریکارڈ کر کے کمپیوٹر میں رکھتا، رپورٹتمام خواتین، جن کی عمریں 21 اور 27 کے درمیان تھیں، زیادتی کے وقت یا تو بے ہوش تھیں یا نمایاں طور پر کمزور تھیں، رپورٹبھارتی کمیونیٹی کے رہنماء کے طور پر سرگرم دھانکھر کا شکاری اور ناقص کردار حیران کن قرار، رپورٹ2023 میں آسٹریلیا کی ایک عدالت نے اسے 39 جرائم کا مجرم پایا، جن میں جنسی زیادتی کے 13 واقعات شامل ہیںمودی سرکار اور بی جی پی کا جنسی زیادتی کرنے والوں کی پشت پناہی اور انہیں کمیونٹی لیڈر کے طور پر بلند کرنا خواتین کے حقوق کے تحفظ کے دعووں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے

*23 مارچ کی تیاریاں عروج پر*23 مارچ وہ تاریخی دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے علیحدہ وطن کے قیام کا عزم کیاایک ایسا ملک جہاں وہ آزادی، مساوات اور خودمختاری کے ساتھ زندگی گزار سکیںیوم پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی، اتحاد اور جدوجہد سے ایک خواب کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے23 مارچ کا دن صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ ہمیں روشن مستقبل کی راہ دکھانے والا چراغ بھی ہے!یومِ پاکستان قریب، قوم افواجِ پاکستان کی شاندار پریڈ کے لیے پُرجوش23 مارچ کی تیاریاں عروج پر، سب کی نظریں شاندار پریڈ پر مرکوزاسلام آباد میں 23 مارچ پریڈ کی تیاریاں مکمل، ملک بھر میں جوش و خروش قومی یکجہتی کا دن، 23 مارچ پریڈ میں شاندار عسکری مظاہرہ متوقعافواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کے جوہر دکھانے کی گھڑی قریب

*نادرا کو قائم ہوئے 25 سال مکمل،اسکے قیام میں افواج پاکستان کا کردار* سن 1997 میں، پاکستان برسوں سے قومی مردم شماری کے انعقاد میں مشکلات کا شکار تھابار بار تاخیر کے سبب ہر انتظامی یونٹ کے پاس اپنے الگ تخمینے تھے، جس کی وجہ سے قومی سطح پر درست آبادی کے اعداد و شمار حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھااس پیچیدہ صورتحال میں، اس وقت کے وزیر اعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کو قومی مردم شماری کے انعقاد کے لیے طلب کیاہیڈکوارٹرز آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، بنیادی ہدف مردم شماری کا انعقاد تھا اس موقع کو ایک بڑی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھا گیاایسی شناختی نظام کی بنیاد رکھنے کا موقع جو ہر شہری کو نہ صرف شمار کرے بلکہ اسے ایک منظم ڈیجیٹل شناختی نظام میں شامل کرےاسی سوچ کے تحت، ایک مرکزی، محفوظ اور جدید ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا خاکہ تیار کیا گیاحکومتِ پاکستان نے اس منصوبے کو منظور کیا، اور مارچ 1998 میں نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن کا قیام عمل میں لایا گیامردم شماری جیسے بڑے منصوبے کے لیے 60 ملین ڈیٹا فارم پرنٹ کیے گئے، جو ملک کے ہر گھر تک پہنچائے گئےاس نادر موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے، فیصلہ کیا گیا کہ مردم شماری کے دوران نہ صرف آبادی کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے بلکہ ہر شہری کی جامع معلومات بھی حاصل کی جائیںمردم شماری ٹیم نے پورے ملک کے طول و عرض کے دورے کیے پہلے مرحلے میں فارم دیے گئے اور دوسرے مرحلے میں انہیں واپس لیا گیا تاکہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکےیہی نیشنل ڈیٹا فارم آج بھی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے درخواست فارم کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے قومی سطح پر ڈیجیٹل شناختی نظام کی بنیاد رکھیاس جدت کے ساتھ پاکستان دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہو گیا جنہوں نے اس پیمانے پر ایسا اقدام کیامحدود وسائل کے باوجود، اس منصوبے کو غیرمعمولی مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا

پاکستان کی مسلح افواج، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس، اسکول اساتذہ، اور سرکاری ملازمین کو ملک کے ہر علاقے بشمول فاٹا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان تک بھیجا گیا ڈیٹا جمع ہونے کے بعد، اگلا چیلنج اس کی ڈیجیٹائزیشن تھا کیونکہ اس وقت ایسے ہائی اسپیڈ اسکینرز دستیاب نہیں تھے جو اتنے بڑے ڈیٹا کو فوری طور پر پروسیس کر سکتےاردو زبان کمپیوٹر پر مکمل طور پر معاونت یافتہ نہیں تھی، اس لیے نیشنل لینگویج اتھارٹی کے تعاون سے اردو کی ڈیجیٹل پروسیسنگ کے لیے معیاری نظام وضع کیا گیا20,000 نوجوان پاکستانیوں کو خصوصی تربیت دے کر اردو ڈیٹا انٹری کے لیے تعینات کیا گیاان کی انتھک محنت کی بدولت پاکستان کا پہلا قومی شہری ڈیٹا بیس وجود میں آیااس منصوبے کی طویل مدتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، آبادی کی مکمل دستاویز بندی کے لیے کوششیں جاری رکھی گئیں نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف رجسٹریشن کے ساتھ ضم کر کے 10 مارچ 2000 کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کا قیام عمل میں آیامیجر جنرل زاہد احسان کو اس کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیاابتدائی دنوں میں، بجٹ مختص نہ ہونے کی وجہ سے نادرا کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھامالیاتی خود مختاری حاصل کرنے کے لیے غیر روایتی طریقے اپنانے کی ضرورت پیش آئیانتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ڈیجیٹل ووٹر لسٹ درکار تھینادرا نے اپنی ڈیٹا کلیکشن کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر پاکستان کی پہلی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرست تیار کییہ حکمت عملی نہ صرف قومی انتخابات کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل حل فراہم کرنے میں کامیاب رہی بلکہ نادرا کی مالی خود مختاری کو بھی یقینی بنایا

الیکشن کمیشن نے نادرا کو 500 ملین روپے ادا کیے، جسے نادرا نے مزید 3.5 بلین روپے کے تجارتی قرضے کے حصول کے لیے استعمال کیایہ قرض جلد ہی واپس کر دیا گیا، اور نادرا خود کفیل ہو گیا، جو آج بھی اس کا طرۂ امتیاز ہےنادرا کے قیام کے بعد، پاکستان نے 2001 میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ متعارف کرایا، جو کہ ایک محفوظ، جدید اور ٹیکنالوجی سے آراستہ شناختی دستاویز بن گیانادرا کی کامیابی میں پاک فوج کے ان افسران کا لازوال کردار ہے جنھوں نے اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر اس کی داغ بیل ڈالیاگرچہ نادرا کے سفر میں کئی چیلنجز آئے، مگر نتیجہ ایک غیر معمولی کامیابی کی صورت میں نکلاآج، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ایک جدید اور مکمل ڈیجیٹل شناختی نظام موجود ہے

*پاکستانی معیشت کی بحالی کے مثبت اشاریے*پاکستان کی معیشت مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے جس کا ثبوت مختلف اقتصادی اشاریے فراہم کرتے ہیںپاکستان کی برآمدات اتار چڑھاؤ کے بعد سال 2025 میں 30.351 ارب ڈالر تک پہنچ گئیںسال 2025 میں برآمدات کا ہدف 32.34 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جو مضبوط معیشت کی نشاندہی کرتا ہے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا جو سال 2024 میں 9.252 ٹریلین روپے تک جا پہنچا جبکہ سال 2025 میں 12.97 ٹریلین روپے کا ہدف رکھا گیا ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر معیشت کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیںسال 2024 میں ترسیلات زر 28.782 ارب ڈالر تک جا پہنچی جبکہ سال 2025 میں ان کا حجم 35.0 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہےپاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئیکے ایس ای (KSE-100) انڈیکس میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا، جو سال 2021 میں 47,896 پوائنٹس سے بڑھ کر سال 2024 میں 75,878 تک پہنچ گیاسال 2025 میں انڈیکس پوائنٹس کی 127,000 تک پہنچنے کی امید ہے سال 2024 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری 2.346 ارب ڈالر رہیسال 2025 میں غیر ملکی سرمایہ کاری 2.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہےسال 2023 میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو سال 2025 کے ابتدائی 8 ماہ میں کم ہو کر 5.9 فیصد تک آ چکی ہےفروری 2025 میں مہنگائی کی شرح محض 1.5 فیصد رہی، جو معاشی استحکام کی نشاندہی کرتی ہے سال 2022 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17.5 ارب ڈالر تھا جو سال 2025 کے ابتدائی 7 ماہ میں 0.7 ارب ڈالر سرپلس میں تبدیل ہو چکا ہےکرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سرپلس میں تبدیل ہونا زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کی بہتری کی واضح علامت ہےروشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم سال 2023 میں 7.035 ارب ڈالر تھی، جو سال 2025 میں بڑھ کر 9.564 ارب ڈالر ہو چکی ہے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جو مضبوط اور مستحکم معیشت کی نشاندہی کرتا ہے پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر سال 2023 میں 9.16 ارب ڈالر تک گر گئے تھے مگر سال 2025 میں یہ 16.05 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیںیہ تمام معاشی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہے اور جلد ہی مزید استحکام اور ترقی کی طرف بڑھے گی

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved