حکومت نے 26 ویں ائینی ترمیم کے بعد سول کورٹس آرڈیننس 1962 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق حکومت کا 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک اور اہم قانون سازی کا فیصلہ کرلیا، وفاقی حکومت نے سول کورٹس آرڈیننس 1962میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔قومی اسمبلی سول کورٹس ترمیمی بل 2025 آج منظور کرے گی ، بل کے تحت سول عدالتوں کو فوری مقدمات نمٹانے کا پابند بنایا جائے گا۔
26ویں آئینی ترمیم اور ججز تقرری کیخلاف مختلف بارایسوسی ایشنز نے اسلام آباد میں وکلاء احتجاج میں شرکت کی اور اپنے مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے وکلاء احتجاج کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ سابق صدرسپریم کورٹ بارعابدزبیری:سابق صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کا کہنا تھا کہ آج اگر سپریم کورٹ میں کوئی تعنیاتی ہوئی تو اس میں اور پی سی او ججوں میں فرق نہیں ہوگا۔ کہا جاتا ہے تحریک نہیں اٹھا رہے۔ ہمارے وکلا پرامن طور پر احتجاج کے لیے آ رہے تھے لیکن ان کو روکا گیا ہے۔ عابد زبیری نے کہا کہ کیا یہ آزاد عدلیہ ہے کہ آپ صرف اپنی مرضی کے جج لگائیں۔ ہماری تحریک اس ترمیم کو ختم کرائے گی۔ اس ملک میں کوئی انسانی حقوقِ نہیں ہیں۔ ہم کوئی کیس حکومت کے خلاف دائر کرتے ہیں تو وہ اپنی مرضی کے ججوں کو وہ کیس دے دیتے ہیں اور وہاں سے جو فیصلہ آنا ہے سب کو پتہ ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے صدرریاست علی آزاد:اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان سے وکلاء اسلام آباد میں پہنچے ہیں۔ اسلام آباد کو آج پیک کیا گیا ہے۔ وکلاء کو عدالتوں میں نہیں جانے دیا گیا۔ آج تین بار کونسلز کی نمائندگی یہاں موجود ہے۔ سندھ ،بلوچستان اور اسلام آباد بار کے نمائندے یہاں موجود ہیں۔ ریاست علی آزاد کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج اس بات پر ہے کہ 26ویں ترمیم پر درخواست سنی جائے۔ حکومت جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ججز تعینات کرنے جا رہی ہے۔ 26 ویں ترمیم کے ذریعے منصور علی شاہ کا راستہ روکا گیا۔ اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ آج وکلا پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ ہمارے پاس کون سا ہتھیار ہے۔ اگر اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے تو ہم اس احتجاج کو مؤخر کریں گے۔رائے بلیدی وائس چیئرمین بلوچستان بار:بلوچستان بار کے وائس چیئرمین رائے بلیدی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے۔ یہ فارم 47 کی پارلیمنٹ ہے اسے عوام نے مسترد کیا۔ آزاد عدلیہ کے خلاف 26 ویں ترمیم ضرب تھی۔ جب تک ملک میں آئین و قانون کی بحالی نہ ہو گی انصاف ممکن نہیں۔ صدرلاہور بار ایسوسی ایشن چودھری مبشرکا بیان:چوہدری مبشر صدر لاہور بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم غیر آئینی ہے۔ جن کے خلاف کیس ہیں وہی بیٹھ کر طے کریں گے کہ جج کون ہو۔ ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہماری درخواست کو پہلے فل کورٹ میں سنا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اپنی مرضی کے جج لانا چاہتے ہیں۔ یہ ملک بھر کے وکلا کی تحریک ہے۔ پنجاب بار کونسل کی قرارداد کی مذمت کرتا ہوں۔صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر وڑائچ:صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ تاثر ہے کہ احتجاج کرنے والے سیاسی جماعت سے ہیں۔ وکلاء نے سیاسی محاذ کے لیے کبھی احتجاج نہیں کیا۔ رات کی تاریکی میں ایک کالا قانون بنایا گیا۔ انہوں نے سب سے پہلے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ سب کو معلوم ہے کہ عدلیہ آزاد اور خود مختار تھی۔ ہمیں نہیں لگتا کہ ان ججز کی موجودگی میں کوئی انصاف ہو گا۔ عامر وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اسلام آباد میں مختلف صوبوں سے ججز لائے۔ سینئر ججز کی سنیارٹی کو ختم کرنے کے لیے ججز لائے۔ ججز کی سیٹ خالی ہونے سے پہلے ججز بھرتی کیے گئے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئینی درخواستوں کو فل کورٹ بینچ سنے۔ہم پوری ترمیم کو ہی چیلنج کر رہے ہیں۔










