راولپنڈی کی دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب اور راجہ بشارت کو ساڑھے 7 بجے تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جمعرات کو اے ٹی سی راولپنڈی نے نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کے تھانہ آر اے بازار میں درج مقدمے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاوہ شیخ رشید احمد، شیخ اشد شفیق، راجہ بشارت اور زرتاج گل سمیت 100 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔جس کے بعد سابق صوبائی وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا، جبکہ زرتاج گل اور فواد چوہدری اڈیالہ جیل سے روانہ ہوگئے۔ اس کے علاوہ عمران خان کے اسٹاف میں شامل عظیم الدین عرف بلا بھی گرفتار کرلئے گئے جو کہ پی ٹی آئی کے سرگرم کارکن ہیں۔ پولیس نے احمد چھٹہ کو بھی حراست میں لے کر پولیس چوکی اڈیالہ منتقل کردیا۔بعدازاں، عدالت نے ایڈووکیٹ غلام حسین مرتضیٰ سنبل کی درخواست پر ایس پی صدر نبیل کھوکھر کو راجا بشارت، عمر ایوب، احمد چٹھہ، راجہ ماجد اور عظیم الدین کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کردئے۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ عمر ایوب کی گرفتار کے خلاف کل پشاور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو فوری طور پر رہا کیا جائے، عمر ایوب کی گرفتاری غیر قانونی ہے، پنجاب پولیس غیر قانونی گرفتاریاں کر رہی ہے۔










