
کرپشن کیس میں پاکستان میں وزارت حج کا 21 واں نمبر ھے کھانوں بلڈنگز بسوں کے بعد منی میں 90 ھزار حجاج کو فروخت کرنا ہے منی میں حج مشن نہ لینے پر سومرو کو پھانسی پر لٹکا دینا چاہیے مری ھوی مرغیاں کھلانے پر اسکو اور اس کے خاندان کو بھی سزا دینی چاہیے گزشتہ سال ھمارے معاونین کو گرفتار کیا گیا اور اس سال تو خطرہ اس سے بھی زیادہ ہے بادبان ٹی وی رپورٹ کے مطابق ان معاونین کو اب ناظم کا درجہ دے دیا ہے یہ ناظم اب 180 حجاج کو انکو خیموں میں پھنچاے گا
شیطانوں کو کنکریاں مرواے گا ٹرین پر چڑھاے گا راستہ دکھاے گا 5 روز انکو کھانا کھلاے گا اگر 180 میں کوی بیمار ھو جاے یا گم جاے تو وہ انکو ڈھونڈے گا اسکے عوض وہ انکے ساتھ حج کر پاے گا کیونکہ سومرو حج مشن نھی لے سکا اور نہ ھی ان معلمین سے 1000 معاونین کی رھاشیی منی میں لے سکا کیونکہ اس نے ایک کمپنی کو 90 ھزار حاجی فروخت کئے اور کروڑوں ریال وصول کئے ان معاونین کے پاس منی میں رھنے کا قانونی حق نھی

یہ وہ ناظم ھے کلرک ھیڈ کلرک سکول کالجز کے استاد ھے یا تو یہ ناظم مر جائے گیے یا بھاگ جاے گءے یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ناظم 180 افراد حجاج کو سنبھال سکے اج سے تمام بسیں بند ھے اور حجاج 3 زلحج سے حرم نھی جا پارھے










