۔راولپنڈی کے علاقے تھانہ کینٹ میں پیشہ ور گداگری کا بڑا نیٹ ورک چلانے والے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق مختلف پلازوں میں مقیم 47 پیشہ ور گداگر وں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن میں 14خواتین اور 2 ٹرانس جینڈر بھی شامل ہیں۔پولیس کا بتانا ہے کہ تھانہ کینٹ کے علاقے میں پیشہ ور گداگری میں ملوث بڑا نیٹ ورک چلانے والے 2 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، نیٹ ورک کم عمر بچوں کوبھی گداگری کے لیے استعمال کرنے میں ملوث ہے۔پولیس کے مطابق گرفتارملزمان لاہور ، فیروز والا، بورے والا اور ڈی جی خان سے افراد کو لا کر گداگری کرواتے تھے جس کیلئے ملزمان گداگروں کو اپنی ٹرانسپورٹ پر مخصوص پوائنٹ پر چھوڑتے ہیں جہاں وہ گداگری کرتے تھے، گداگروں نے خواتین کے پرس، گاڑیوں سے موبائل اور قیمتی سامان چرانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔سی پی او راولپنڈی کے مطابق گداگروں کو کرائے پر رہائش دینے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔—–بلوچستان میں انتظامی بحران ختم کرنے کیلئے ایف آئی اے سندھ زون سے 10 افسران کا بلوچستان تبادلہ کردیا گیا ہے جبکہ ہیڈکوارٹر کے احکامات پر مزید ایف آئی اے کے 24 افسران کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں آپریشنل ڈیمانڈ کی وجہ سے تمام رینک کے افسران کی کمی ہے اور ایف آئی اے بلوچستان کی اہم ذمہ داریوں کیلئے کام کو مؤثر بنانے کیلئے فوری تبادلوں کی ہدایت کی گئی۔ایف آئی اے اے ڈی جی ساؤتھ آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی زون سے اے ڈی شاہد سعید، انسپکٹر نازیہ سلیم، خرم اسلام، راجہ سنیل، منیر باجکانی اور کامبوہ خان کا تبادلہ بلوچستان کردیا گیا ہے، حیدرآباد زون سے ذوالفقار علی سیال، صائمہ صدیق، سرفراز حسین اور وقار احمد بھی بلوچستان روانہ کیے گئے ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ہیڈ کوارٹر سے موصول تازہ احکامات میں ایف آئی اے سندھ زون سے مزید 24 افسران اور اہلکاروں کا بلوچستان تبادلہ کرنے کا کہا گیا ہے۔حکام کے مطابق ان احکامات پر فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں اور آئندہ 24 گھنٹے میں مزید 24 ایف آئی اے ملازمان کے بلوچستان تبادلے متوقع ہیں، 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹر، 6 انسپیکٹر، 6 سب انسپکٹرز اور 10 کانسٹیبلوں کا فوری طور پر بلوچستان تبادلہ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے سندھ زون میں پہلے ہی افسران کی شدید کمی ہے، تازہ یا آئندہ صورتحال میں مزید انتظامی بحران کا خدشہ ہے۔——صدر آصف علی زرداری نے یوم پاکستان اور عید الفطر 2025 کے موقع پر قیدیوں کے لیے خصوصی طور پر 180 دن کی سزا میں کمی کا اعلان کیا ہے. یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت کیا گیا۔90 دن کی خصوصی معافی تمام سزا یافتہ قیدیوں کے لیے ہوگی.سوائے ان افراد کے جو قتل، جاسوسی، ڈکیتی، اغوا، ریاست مخالف سرگرمیوں، زیادتی اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔اس کے علاوہ مالیاتی جرائم میں ملوث، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے، غیر ملکیوں کے ایکٹ 1946 اور منشیات کنٹرول ایکٹ 2022 کے تحت سزا یافتہ افراد بھی اس رعایت سے مستفید نہیں ہوں گے۔یہ رعایت 65 سال سے زائد عمر کے مرد قیدیوں اور 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدیوں کو دی جائے گی. بشرطیکہ وہ اپنی ایک تہائی سزا مکمل کر چکے ہوں۔وہ خواتین جو اپنے بچوں کے ساتھ قید ہیں اور 18 سال سے کم عمر کم عمر قیدی، جنہوں نے اپنی سزا کا ایک تہائی حصہ مکمل کر لیا ہے، بھی اس رعایت کے حقدار ہوں گے۔










