سانحۂ 9 مئی میں ملوث مزید مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطاب سانحۂ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائی گئی ہیں۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللّٰہ نیازی کو 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔9 مئی کیسز، ملٹری کورٹ سزا یافتہ 11 مجرم سینٹرل جیل لاہور منتقلآئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث رئیس احمد ولد شفیع اللّٰہ کو 6 سال قید جبکہ ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے سپریم کورٹ کے عدالتی کمروں میں کم سننے والے وکلاء کے لئے ہیڈفون کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس نعیم اخترافغان پر مشتمل 2رکنی بینچ نے جمعرات کے روز کیسز کی سماعت کی۔سابق چیئرمین سینیٹ اورسینئر وکیل وسیم سجاد نے قتل کیس میں گرفتار ملزم شاہ نواز کی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری کے کیس میں پیش ہونا تھا۔کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کورٹ ایسوسی ایٹ کو ہدایت کی کہ وہ کمپیوٹر انچارج کوبلائیںچیف جسٹس کاکہنا تھا کہ جس طرح اسلام آباد ہائی کورٹ میں کم سننے والے وکلاء کے لئے ہیڈفون لگائے گئے ہیں اسی طرح کے ہیڈ فون ہم سپریم کورٹ میں کم سننے والے وکلاء کے لئے لگانا چاہئیں ، وہ لے آئیں۔ چیف جسٹس کی جانب سے طلب کرنے پر کمپیوٹر انچارچ بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے کمپیوٹر انچارج کوہدایت کی کہ وہ کم سننے والے اکلاء کے لئے ہیڈ فون لگائیں۔کیس کی سماعت شروع ہوئی توچیف جسٹس کاوسیم سجاد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تھوڑا انتظار کریں کمپیوٹر والا ہیڈ فون لاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کورٹ ایسوسی ایٹ کوہدایت کہ کمپیوٹر والے کو بلائیں۔ اس پر دوبارہ کمپیوٹر انجارج کوبلایا گیا تاہم انہوں نے آکر بتایا کہ ہیڈ فون کاسسٹم لگانے کے لئے وقت درکار ہے۔اس پر وسیم سجادکاکہنا تھا کہ میں مینج کرلوں گا۔ وسیم سجاد کاکہناتھا کہ یہ ضمانت کی درخواست ہے ، 9جون2024کا بنوں کا وقعہ ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ایک زخم ہے اوردولوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیوں ہم ضمانت دینے سے انکار کریں۔ اس پر شکایت کنندہ کے وکیل کاکہنا تھا کہ ملزمان نے گھر میں گھس کرفائرنگ کی۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ٹرائل کے دوران اس بات کاتعین کریں کہ کس نے فائرنگ کی۔ مدعا علیہ کے وکیل کاکہنا تھا کہ شریک ملزم عقیق مفرور ہے۔وکیل کاکہنا تھا کہ خاتون کابیان ہے جو زخمی ہوئی اور بعد میں انتقال کرگئی۔ا س پر چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کیس میں چشم دید گواہ خاتون کابیان ہے جو زخمی ہوئی اور بعد میں انتقال کرگئی اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، وکیل اس معاملہ کودیکھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب وسیم سجاد اگلی مرتبہ آئیں گے توہیڈ فون کاسسٹم لگ جائے گا۔ چیف جسٹس نے کمپیوٹر انچارج کوہدایت کہ صبح سے ہیڈفون کاسسٹم عدالت میں رکھ دیا کریں۔ عدالت نے وکلاء کو دلائل کی مزیدتیاری کے لئے وقت دیتے ہوئے کیس کی مزیدسماعت ملتوی کردی۔وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کی دوستی سرحدوں کی محتاج نہیں ، دونوں ملکوں کی دوستی سرحدوں سے آگے ہے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ترکیہ کلچرل سینٹر یونس ایمرے مرکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستا ن کے درمیان مثالی دوستی ہے مگر عوام کا تعلق بھی مضبوط ہونا چاہیے، شاعر اور یونس درویش کہلائے جانے والے یونس ایمرے کے نام سے کلچر سینٹر کو منسوب کیا ہے،استنبول کے دورے میں ترکیہ کے ساتھ شراکت داری کو مزید بڑھانے پر غور کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کونیا میں مولانا رومی کے مزار کے پاس علامہ اقبال کا بھی علامتی مزار ہے، کلچر ٹو کلچر اور عوام سے عوام کا رابطہ بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان اورترکیہ کے تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہوتے جا رہے ہیں، دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے گہرا لگا ئورکھتے ہیں۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی لازوال دوستی سرحدوں یا اچھے برے وقت کی محتاج نہیں، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بہت سی قدریں مشترک ہیں، دونوں ممالک ثقافت اورمذہب کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں پاسپورٹس کا بیک لاگ ختم ہوگیا ہے،پاسپورٹ آفس اور نادرا بہترین کام کررہے ہیں ، ماضی میں پاسپورٹ آفس میں 6، 6 ماہ کا بیک لاگ رہا ہے، نارمل اور ارجنٹ پاسپورٹ بھی 6،6 ماہ نہیں ملتے تھے۔اسلام آباد میں پاسپورٹ آفس کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نادرا اور پاسپورٹ آفس میں اتنی زیادہ بہتری آئی ہے کہ ہم لوگوں کو فخر سے بتاسکتے ہیں کہ آپ ہمارے مراکز میں جائیں، آپ کو عزت بھی ملے گی، آپ کا کام بھی جلدی ہوگا اور آئی ڈی کارڈ یا پاسپورٹ بھی بروقت ملے گا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ صرف میرے بس میں ہوتا تو اتھارٹی کا اعلان کرکے جاتا لیکن چونکہ اس سے بہت سارے محکمے منسلک ہیں لیکن پاسپورٹ اتھارٹی کا قیام ہی ادارے کا واحد حل ہے، بیساکھیوں کا خاتمہ اتھارٹی کے قیام سے ہی ممکن ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی نہ کسی طرح اس ادارے کو اتھارٹی بنوائیں گے،اس کی وجہ یہ ہے کہ اتھارٹی کے بغیر لوگوں کی سال سال دو دو سال کی تنخواہیں نہیں جارہی تھیں، چیزیں منگوانی ہوں تو چیزوں کو فائلوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے، یہ سب چیزیں اٹھارٹی کے قیام سے ہی فوری ختم ہوں گی اور مجھے امید ہے کہ ہم اسے جلد از جلد بنوانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔انہوں نے خوشخبری سنائی کہ ایک ہفتے میں ملک کے 14 سے 16 شہروں میں 24 گھنٹے کھلنے والے نادرا کے دفاتر میں پاسپورٹ کانٹر قائم کردیے جائیں گے، جہاں شہریوں کو 24 گھنٹے پاسپورٹ بنوانے کی سہولت میسر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پاسپورٹ آفس کو فوری طور پر 24 گھنٹے کی سہولت شروع کی جارہی ہے، لاہور اور دیگر جگہوں پر ماڈل آفسز بنانے کی ضرورت ہے جبکہ کراچی میں ماڈل آفس کے لیے جگہ پر بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ دفاتر کے باہر موجود مافیاز کے خلاف ایف آئی اے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کررہی ہے، یہ کارروائی جاری رکھنا ہوگی، اس مافیا کو ختم کرنا ہوگا۔










