تازہ تر ین

سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کے بعد مقدمات کی سماعت کیلئے پانچ ریگولر بینچز تشکیل دے دیئے۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ریگولربنچز تشکیل دیئے، بینچ نمبرایک چیف جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد احمد پر مشتمل ہوگا

سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کے بعد مقدمات کی سماعت کیلئے پانچ ریگولر بینچز تشکیل دے دیئے۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ریگولربنچز تشکیل دیئے، بینچ نمبرایک چیف جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد احمد پر مشتمل ہوگا۔ جبکہ بینچ دو میں جسٹس امین الدین، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔ بینچ تین جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔اسی طرح بینچ نمبر چار میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی شامل ہوں گے، بینچ نمبر پانچ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل پر مشتمل ہوگا۔واضح رہے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کیسز کی سماعت کریں گے۔ملک میں انٹرنیٹ کی سست روی کے حوالے سےپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے تحقیقات مکمل کرلی گئیں،جس میں مختلف مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ٹیلی کام آپریٹرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل کی نشاندہی کی ہے، تاہم پی ٹی اے نے تحقیقاتی رپورٹ وزارت آئی ٹی کو ارسال کردی ہے، جس میں ٹک ٹاک، وٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر ہونے کی نشان دہی کی گئی ہے۔پی ٹی اے ذرائع کا مزیدکہنا ہے کہ ایک ٹیلی کام کمپنی کو سوشل میڈیا اور ویب براؤزنگ میں مسائل کا سامنا رہا ہے، ایکس پر بلاکنگ کے مسائل آئے، ویب براوٴزنگ اور ڈیٹا سروسز پر رپورٹ نہیں ہوئے،پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وی پی این کے بڑھتے استعمال نے بینڈوتھ پراضافی بوجھ ڈالا، انٹرنیٹ طلب کو پورا کرنے کیلئے بینڈوڈتھ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔گذشتہ روز پی ٹی اےنےسوشل میڈیا پر جاری کردہ پیغام میں قطر کے قریب میرین کیبل میں خرابی کی اطلاع دی تھی،حکام کا مزید کہنا تھا کہ قطر کے قریب اے اے ای ون کیبل پاکستان کو عالمی انٹرنیٹ ٹریفک سے جوڑتی ہے جو 7 زیر سمندر کیبلز میں سے ایک ہے اس میں خرابی کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ، براڈ بینڈ صارفین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ملاقات میں سینٹیر عرفان صدیقی نے سربراہ جے یوآئی کو حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کےحوالے سے پیشرفت سے آگاہ کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جمہوری عمل کا اہم جزو ہیں، افہام و تفہیم سے گریز اور مذاکرات سے انکارغیر جمہوری رویہ ہے،انہوں نےمزید کہا کہ بڑے بڑے مسائل مل بیٹھ کر آپس میں بات چیت کے ذریعے ہی طے کئے جا سکتے ہیں۔دوران ملاقات مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو ہر اعتبار سے استحکام اور باہمی اتحاد کی ضرورت ہے جس کے لیے سیاسی ہم آہنگی ضروری ہے۔آخر میں سینیٹر عرفان صدیقی نے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کو سراہا۔سال 2024 میں دیگر اشیا کی طرح پیٹرول کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، مجموعی طور پر اس سال پیٹرول کی قیمت247.03 روپے سے 293.94 روپے فی لیٹر تک رہی۔رواں سال کے آغاز میں یکم جنوری کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 267.34 روپے تھی جو کہ 16 اپریل کو بڑھ کر 293.94 روپے ہو گئی۔ جس کے بعد یکم اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت سال کی کم ترین شرح 247.03 روپے فی لیٹر تک آگئی، اب پیٹرول کی قیمت 252.1 روپے فی لیٹر ہے۔سال 2024 میں عالمی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، خام تیل کی قیمت سب سے زیادہ 10 اپریل کو 91. 17 ڈالر فی بیرل اور کم سے کم 10 ستمبر کو 70.17 ڈالر فی بیرل رہی۔ سال کے آغاز میں 73.58 ڈالر فی بیرل جبکہ آج بھی قیمت 73.58 ڈالر فی بیرل ہے۔رواں سال میں ڈالر کی قیمت میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت 281.5 روپے تھی جو کہ اب کم ہوکر 277.93 روپے ہوگئی ہے، سال کے درمیان میں 2 اگست کو ڈالر کی قیمت کم ہوکر 274.53 روپے تک آئی تاہم اب ڈالر کی قیمت 277.93 پر برقرار ہے۔قیمتیں 5 سال کی کم ترین سطح تک گرنے کی پیشگوئی عالمی بینک نے پیشگوئی کی ہے کہ تیل کی پیدوار میں اضافے کے باعث 2025 میں عالمی اجناس کی قیمتیں 5 سال کی کم ترین سطح تک گرجائیں گی۔کموڈٹی مارکیٹس آؤٹ لُک رپورٹ کے مطابق اس کمی کے باوجود اجناس کی مجموعی قیمتیں کورونا وبا سے پہلے کے 5 سالوں کے مقابلے میں 30 فیصد زائد رہیں گی، اگرچہ انفرادی اجناس کی قیمتوں کے تخمینے ملے جلے ہیں تاہم سپلائی میں بہتری کے باعث مجموعی طور پر قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔عالمی بینک نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ آئندہ برس تیل کی عالمی یومیہ سپلائی 12 لاکھ بیرل کی اوسط طلب سے بڑھ جائے گی، اس سے قبل ایسا صرف 2 مرتبہ، 2020 میں کورونا وبا کے باعث شٹ ڈاؤن اور 1998 میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے دوران دیکھنے میں آیا ہے۔عالمی بینک نے مزید کہا ہے کہ تیل کی ضرورت سے زائد فراہمی جزوی طور پر چین میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلی کی عکاس ہے، جہاں برقی گاڑیوں اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پر چلنے والے ٹرکوں کی فروخت میں اضافے کے باعث 2023 سے صنعتی پیداوار میں کمی آئی ہے۔عالمی بینک کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک پلس) یا اس کے اتحاد سے تعلق نہ رکھنے والے ممالک کی جانب سے بھی تیل کی پیداوار میں اضافے کی توقع ہے۔اوپیک پلس نے بذات خود پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں اضافی صلاحیت کو برقرار رکھا ہے، جس کی یومیہ پیداوار 70 لاکھ بیرل ہے جو کہ کورونا وبا کے دور سے تقریباً دگنی ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کو 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 5 سالہ منصوبے اُڑان پاکستان کا آغاز ہوگیا ہے، ماضی میں پاکستان میں اڑان پاکستان کے مواقع ضائع ہوتے رہے، اب ہم اڑان کا موقع ضائع ہونے نہیں دیں گے اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر کی صف اول کی معیشت بنانا ہے اور پاکستانی مصنوعات کو کوالٹی کا برانڈ بناتے ہوئے ترقی کی شرح کو 8 سے 9 فیصد پر لانا ہے، اس کے لیے سیاسی انتشار اور نفرت کو خیرباد کہنا ہے۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا 2018 سے 2022 تک ہم معاشی اور قرضوں کی دلدل میں پھنس گئے تھے، اب متحد ہوکر معاشی ٹیک آف کرنا ہے، ہم 2029 تک ایک مضبوط معیشت کی بنیاد رکھیں گے، 2029 تک سالانہ برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانی ہیں جس کے بعد اگلے 8 سے 10 سال میں سالانہ برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ انھوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے قوم کو ڈپریشن میں ڈال دیا ہے، اس سیاسی جماعت نے قوم کا سیلف امیج تباہ کیا لیکن اب ہمیں منفیت سے نکلنا ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ 2029 تک سالانہ برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانی ہیں جس کے بعد اگلے 8 سے 10 سال میں سالانہ برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر کی صف اول کی معیشت بنانا ہے اور پاکستانی مصنوعات کو کوالٹی کا برانڈ بناتے ہوئے ترقی کی شرح کو 8 سے 9 فیصد پر لانا ہے، اس کے لیے سیاسی انتشار اور نفرت کو خیرباد کہنا ہے۔احسن اقبال نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ایک سیاسی جماعت نے قوم کو ڈپریشن میں ڈال دیا ہے، اس سیاسی جماعت نے قوم کا سیلف امیج تباہ کیا لیکن اب ہمیں منفیت سے نکلنا ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔مولانا فضل الرحمان کا وزیر اعظم شہباز شریف کے بعد نوازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا نوازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا .جس دوران نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی خیریت دریافت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا اور صوبوں میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے قانون سازی کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔سربراہ جمیعت علمائے اسلام نے وزیراعظم شہباز شریف سے مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے صوبوں میں قانون سازی کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو قانون سازی کے لیے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ صوبوں میں قانون سازی کے لیے وزرائے اعلیٰ سے رابطہ کروں گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سے باہر بیٹھے ایجنٹس سوشل میڈیا مہم چلا رہے ہیں جو کہ ملک کیلئے بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کا مکمل صفایا کرنے کا وقت آ گیا ہے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے ایجنڈے کے اہداف کو تب ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جب تک چاروں صوبوں سمیت کشمیر اور گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر نہ کیا جائے۔جمعے کو نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فتنہ الخوارج نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، اگر صوبے وفاق اور دفاعی اداروں کے ساتھ مل کر مربوط پلان بنائیں تو اسے عملی جامہ پہنانے میں مشکل نہیں ہو گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کے لیے قومی مفاد سپریم ہے اور دیگر صوبے بھی پاکستان کی خوشحالی اور بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی کے حوالے سے کام کریں گے تو کوئی مشکل مشکل نہیں رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سرحد پار سے ہونے والے حالیہ حملے کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں جو گھس بیٹھیے موجود ہیں اور جو سازشیں ہو رہی ہیں اس میں خارجی ہاتھ کا علم ہے اور جو ممالک سپورٹ کر رہے ہیں ان کا بھی معلوم ہے۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل محاذ پر پاکستان کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے، پاکستان سے باہر ایجنٹ اور دوست نما دشمن بیٹھے ہیں اور جس طرح سے ملک کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حقائق کو مسخ کر کہ اور جھوٹ کی بنیاد پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں بلکہ ایسا کروایا جا رہا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’چند ہفتوں پہلے اسلام آباد پر ہونے والی یلغار کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر جھوٹ کا جو طوفان اٹھا اور حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا، اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اگر اس سے نہ نمٹا گیا تو تمام کاوشیں دریا برد ہو جائیں گی۔‘قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق من و امان اور انسداد دہشت گردی کےلیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھنے پر اتفاق کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس میں وزیراعظم، سول اور آرمی چیف جنرل عاص منیر اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان سمیت دیگر اہم عہدیدار شریک تھے۔علاوہ ازیں وزیراعظم آذاد جموں وکشمیر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بھی اجلاس میں موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق اپیکس کمیٹی 2021 کے نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد سے متعلق امورکا جائزہ لے گی۔ذرائع کے مطابق اپیکس کمیٹی امن وامان سے متعلق نئے سال کے اہداف اوراسٹریٹجیزکا تعین بھی کرے گی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ اجلاس میں سیکیورٹی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع ہیں اور وزیر داخلہ محسن نقوی داخلی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے جسے کچلنا ہوگا، معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہے وزیز اعظم کا مزید کہنا تھا کہ پارا چنار جیسا دلخراش واقعہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved