
#گلگت: گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ممتاز کوہ پیما سرباز خان نے ایک اور تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے دنیا کی تمام 8 ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیاں بغیر اضافی آکسیجن کے سر کر کے نیا قومی اور بین الاقوامی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔یہ سنگ میل انہوں نے اتوار کے روز نیپال کے مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 50 منٹ پر دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی “کینگچینجنگا” (ارتفاع: 8,586 میٹر) کو سر کر کے حاصل کیا۔ کینگچینجنگا کو پہلی بار 25 مئی 1955 کو برطانوی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے سر کیا تھا،

جبکہ اب یہ چوٹی ایک پاکستانی ہیرو کے عالمی ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے۔سرباز خان کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ سے ہے اور وہ پاکستان کے وہ واحد کوہ پیما بن گئے ہیں جنہوں نے ان تمام بلند و بالا چوٹیوں کو بغیر اضافی آکسیجن کے کامیابی سے سر کیا ہے،

جو کہ انسانی جسمانی صلاحیت، عزم اور حوصلے کی ایک بے مثال مثال ہے۔سرباز خان کا یہ کارنامہ نہ صرف کوہ پیمائی کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتا ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک مثالی پیغام ہے کہ عزم اور مسلسل محنت سے کچھ بھی ممکن ہے۔

پاکستانی ڈی جی ملٹری آپریشن اور بھارتی ہم منصب کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دشمن نے نہ صرف زمینی شکست تسلیم کی بلکہ یہ بھی مانا کہ پاک فوج ورکنگ باؤنڈری ، سیالکوٹ سیکٹر میں 5 کلومیٹر ، نارووال میں 3 کلومیٹر ، شیخوپورہ میں 2 کلومیٹر اور بہاولپور سیکٹر میں 4 کلومیٹر تک بھارت کے اندر موجود ہے۔ ایل او سی پر لیپہ ویلی ، حاجی پیر ، نکیال ، دواڑ ، ٹائیگر سیکٹر ، پونچھ ، کپواڑہ اور کھوئی رٹہ جیسے حساس علاقوں میں بھی پاکستانی افواج 5 سے 7 کلومیٹر تک انڈین حدود کے اندر پیش قدمی کر چکی ہیں

۔بے بسی اور شرمندگی کے عالم میں بھارت نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستانی افواج 22 اپریل کی پوزیشن پر واپس چلی جائیں، جس پر پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں انکار کر دیا۔ پاکستانی ڈی جی ایم او نے واضح کیا کہ سیزفائر کا مطلب جنگ بندی ہرگز نہیں ،

جب تک بھارت شکست تسلیم کرتے ہوئے تحریری معاہدے پر دستخط نہیں کرتا ( 1971 کا حساب برابر نہیں ہوتا ) ، تب تک ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ڈٹے رہو حافظ صاحب ! وقت آ گیا ہے کہ ستر سالہ مودیانہ غرور کو ملیا میٹ کر کے دشمن کو وہ زخم دیا جائے جو نسلوں تک یاد رہے










