“بیلاروس کا سرکاری دورہ یا خاندانی سیر؟یہ میں ہوں، یہ میری بیٹی ہے، یہ اس کا چاچا، وہ بیٹی کا بھائی، اور یہ پیچھے نواسی… اور ہم سب قوم کے پیسوں پر سرکاری دورے پر!پاکستانی عوام فکر نہ کریں، مہنگائی، بےروزگاری، اور قرضوں کا حل ہم ‘فیملی ٹرپ’ میں ڈھونڈ رہے ہیں!حکومت ہو تو ایسی—ایک ہاتھ میں سرکاری پروٹوکول، دوسری سائیڈ پر کیمرہ مین کا فوکس!”پاکستان ایک سنگین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، معیشت ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے، اور ریاست قرض در قرض لے کر سانس لے رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں حکومتی شخصیات کا ‘سرکاری’ دوروں پر فیملی ممبرز کے ساتھ جانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ مذاق ہے۔سوال یہ ہے: کیا یہ دورے قومی مفاد میں ہو رہے ہیں یا ذاتی عیش و عشرت کے لیے؟عوام قربانی دے رہے ہیں، حکمران کب قربانی دیں گے؟احتساب صرف اپوزیشن کے لیے کیوں؟ حکمران طبقہ کب جواب دہ ہوگا










