تازہ تر ین

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کاشف عبداللہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کی بریفنگ جاری تحریک انصاف کا بائیکاٹ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

تحریک انصاف نے پاک فوج کے جوانوں اور شہدا جعفر ایکسپریس سے اظہار یکجہتی کیلئے آج کی ریلی منسوخ کردی۔تفصیلات کے مطابق ریلی جی پی او چوک سے پنجاب اسمبلی تک نکالی جانی تھی،نائب صدر پی ٹی آئی پنجاب اکمل خان باری نے ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ذرائع کا کہناہے کہ مرکزی قیادت نے ریلی نکالنے سے منع کردیا،سینئر قیادت نے اکمل خان باری کو سیاسی سرگرمی سے روک دیا۔——وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی لعنت کو شکست دینے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک، ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی بی موجود ہیں، ڈی جی ملٹری آپریشنز نے شرکاء کو بریفنگ دی،

پارلیمانی کمیٹی کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی جس میں بلوچستان میں عسکریت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عسکری قیادت بالخصوص آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی پاکستان کی سرزمین پر کوئی جگہ نہیں ہے، ہم ملک کو دہشت گردی سے پاک کرکے رہیں گے، دہشت گردی ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے، اس کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ نے جو حکمت عملی اپنائی ہے، اس پر عمل کرتے ہوئے آخری حد تک جائیں گے۔شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم ایک ہے، ہم ہر صورت اس لعنت کو شکست دیں گے، ملک کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا، سیاسی قیادت قومی سلامتی کے معاملے پر ایک ہے اور ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر متحد ہیں، ہم نے ملک کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کا عزم کر رکھا ہے، ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، رانا ثناء اللّٰہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، احسن اقبال، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، فیصل واؤڈا، خالد مقبول صدیقی، جام کمال، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر اور وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان بھی شریک ہیں، اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور آئی جی پولیس نے بھی اجلاس مین شرکت کی۔—— عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو مقامی بینکوں سے 12 کھرب 50 ارب روپے قرض لینے کی اجازت دے دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو سرکاری قرضوں میں اضافہ کیے بغیر گردشی قرضے کو کم کرنے میں مدد کے لیے ملکی بینکوں سے 12 کھرب 50 ارب روپے قرضہ لینے کی اجازت دی ہے، یہ فیصلہ حال ہی میں پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان پالیسی مذاکرات کے اختتام کے بعد سامنے آیا۔بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں اسلام آباد نے اپنے پاور سیکٹر پر 24 کھرب روپے کے گردشی قرضے کا بوجھ کم کرنے کے لیے 6 سالہ روڈ میپ پیش کیا تھا، حکومت کا مقصد بینک قرضوں اور سرچارج سے حاصل آمدنی کو استعمال کرتے ہوئے 15 کھرب روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے، اس کے علاوہ خود مختار پاور پروڈیوسرز کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے ذریعے 463 ارب روپے کی بچت کا بھی امکان ہے۔بتایا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف اورپاکستان کے درمیان پہلے اقتصادی جائزہ پر مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوگئے، آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق اعلامیہ بھی جاری کیا، اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی مینجمنٹ پر بات چیت ہوئی، 37 ماہ کے پروگرام کے پہلے جائزے پر سٹاف لیول معاہدے کی طرف پیشرفت کی گئی، پاکستان کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کی مینجمنٹ، توانائی کے شعبے میں لاگت کم کرنے اور توانائی شعبے کی بہتری، معاشی ترقی کی شرح بڑھانے اور صحت عامہ کی بہتری کیلئے بھی بات چیت ہوئی۔عالمی مالیاتی ادارے کا اعلامیے میں کہنا تھا کہ آئی ایم ایف ٹیم نے نیتھن پورٹر کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا، آئی ایم ایف جائزہ ٹیم 24 فروری سے 14مارچ تک اسلام آباد اور کراچی میں رہی، توانائی کے شعبے میں لاگت کم کرنے اور معاشی ترقی کی شرح بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی، پاکستان کے ساتھ صحت عامہ، تعلیم کے فروغ اور سماجی تحفظ کیلئے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان نے موجودہ قرض پروگرام پر سختی سے عمل درآمد کیا، پاکستان کے ساتھ بات چیت مثبت رہی، پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات کو حتمی شکل دینے کیلئے ورچوئلی بات چیت جاری رکھیں گے۔——-پاکستان کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ بڑھتی ہوئی درآمدات، برآمدات کی سست شرح نمو، اور قرضوں کی ادائیگیوں میں اضافہ سے خاطر خواہ ترسیلات زر سے چلنے والے عارضی کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس کے باوجود بیرونی استحکام کو متاثر کر رہا ہے . ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق کرنٹ اکاﺅنٹ جس نے دسمبر 2024 میں 474 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا، جنوری 2025 میں 420 ملین ڈالر خسارے پر آ گیا جو جون 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے 2025میں 682 ملین ڈالرکے مجموعی سرپلس کے باوجود بڑھتی ہوئی درآمدات اور غیر ملکی ذمہ داریوں نے تجارتی خسارے کو 26 فیصد تک بڑھا دیا.ویلتھ پاک کے ساتھ بات کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے سینئر ریسرچ اکانومسٹ ڈاکٹر جنید احمد نے بتایا کہ اگرچہ برآمدات میں اضافہ ہوا تھالیکن ان کی رفتار سست رہی جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت اور برآمدی مقامات میں تنوع کی کمی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ درآمدات میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتا ہے لیکن تجارتی عدم توازن کو بڑھاتا ہے درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ توانائی اور مشینری سے آتا ہے جو اگرچہ صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے، خسارے کو مزید وسیع کرتا ہے.انہوں نے کہاکہ برآمدی حکمت عملی کے بغیرپاکستان ایک غیر پائیدار تجارتی فرق کو برقرار رکھنے کا خطرہ رکھتا ہے ڈاکٹر جنید نے کہا کہ زر مبادلہ کی شرح جو جنوری 2025 میں 278.64 روپے فی امریکی ڈالر تھی جنوری 2024 میں 280.32 روپے فی امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی دیکھی گئی تھی اگرچہ یہ برآمدی مسابقت کو بڑھا سکتا ہے لیکن اس سے درآمدی سامان کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس سے افراط زر کا دباﺅبڑھتا ہے.انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا رہا تو یہ زرمبادلہ کے ذخائر کو دبا سکتا ہے اور میکرو اکنامک استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے افشا کنسلٹنٹس کے سی ای او ماجد شبیر کا کہنا ہے کہ بنیادی آمدنی کا بڑھتا ہوا خسارہ زیادہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں، سود کی لاگت اور منافع کی واپسی کی عکاسی کرتا ہے جس سے بیرونی کھاتے پر دباﺅپڑتا ہے چونکہ اس کا زیادہ تر حصہ قرض کی خدمت سے پیدا ہوتا ہے

اس لیے یہ قرض لینے کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور بیرونی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی نشاندہی کرتا ہے اگرچہ منافع کی واپسی کاروباری منافع کی نشاندہی کرتی ہے، اس کا مطلب کم گھریلو دوبارہ سرمایہ کاری بھی ہے اگر ترسیلات زر کی مضبوط آمد اور برآمدی نمو کو پورا نہ کیا جائے تو یہ رجحان کرنسی کی قدر میں مزید کمی کا باعث بن سکتا ہے.انہوں نے کہاکہ کرنٹ اکاﺅنٹ میں مثبت تبدیلی کے باوجودبڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے ترسیلات زر کے ذریعے حاصل ہونے والا فاضل ایک پائیدار حل نہیں ہے کیونکہ یہ ساختی اقتصادی طاقت کی عکاسی نہیں کرتا مضبوط برآمدی نمو اور درآمدی انحصار کو کنٹرول کیے بغیر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے خطرات مزید گہرے ہو سکتے ہیںجس سے مستقبل میں معاشی عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے.—–ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات اوربلوچستان ‘ خیبر پختونخوا میں حالیہ حملوں کے تناظر میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ان کیمرا اجلاس آج قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہو رہا ہے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی جانب سے بلایا گیاپارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ڈیڑھ بجے شروع ہوگا .قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس میں عسکری حکام کی جانب سے سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی تاہم حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان سامنے آیا ہے پی ٹی آئی کے راہنما رﺅف حسن نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا ہے کہ خصوصی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے پیچھے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کے پارٹی راہنماﺅں کی ملاقات نہ کروانے کے علاوہ دیگر وجوہات بھی ہیں تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں چیف وہیپ عامر ڈوگر نے گذشتہ روز خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے 14 افراد کے نام بھجوائے تھے ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اس اجلاس میں عسکری قیادت پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی ترجمان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے اجلاس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اورکسی بھی غیر متعلقہ فرد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جبکہ میڈیا سمیت تمام انٹری کارڈز کو عارضی طور پر غیر موثر کر دیا گیا ہے.ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ میڈیا کی اہمیت اور ضروریات سے مکمل آگاہ ہیں لیکن قومی سلامتی کے پیش نظر میڈیا اور تمام متعلقہ فریقین سے تعاون کی گزارش کی جاتی ہے واضح رہے کہ اس سے قبل سات اپریل 2023 کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی یہ اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا تھا جس میں وفاقی وزرا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور متعلقہ اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی تھی.—وزیر داخلہ محسن نقوی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے غیرحاضر رہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نام قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے شرکاء کی فہرست میں شامل تھا تاہم وہ غیر حاضر رہے۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی بیرون ملک ہونے کے باعث قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔وزیر داخلہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی اختتامی تقریب میں شرکت کیلئے دبئی گئے تھے۔ تب سے ان کی طبعت ناساز تھی اور وہ دبئی میں ہی قیام پذیر ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی آج شام وطن واپس پہنچیں گے۔—- سی ٹی ڈی نے بنوں اور چارسدہ میں کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔خیبر پختونخوا پولیس کادہشت گردوں کے خلاف کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے،مختلف کارروائیوں کےدوران فتنہ الخوارج کے مزید 3دہشت گرد کو ہلاک کردیا۔ سی ٹی ڈی بنوں کے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن میں 2دہشت گردوں کو ہلاک کیاگیا۔آئی جی کےپی ذولفقار حمیدکا کہناہے کہ دونوں ہلاک دہشت گرد پولیس کانسٹیبل ارمان خان پر حملے میں ملوث تھے، ہلاک ہونے والوں میں ابراہیم ضرار گروپ کا نائب امیر حکیم اللہ عرف شعیب بھی شامل تھا، سی ٹی ڈی بنوں پولیس نے چند گھنٹوں کے اندر اندر حملے میں ملوث دہشت گردوں کا سراغ لگا کر ان کو جہنم واصل کیا۔آئی جی کے پی کا کہناہے کہ چارسدہ پولیس کی بروقت جوابی کارروائی میں انتہائی مطلوب دہشت گرد جاوید خان کو ہلاک کردیا گیا، ہلاک دہشت گرد سے ہینڈ گرنیڈ اور پستول سمیت پرائما کارڈ اور سیفٹی فیوز برآمد کیے گئے، ہلاک دہشت گرد پولیس کوقتل ، اقدام قتل و ٹارگٹ کلنگ کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھا، ہلاک دہشت گردعلاقے میں دہشت گردانہ کارروائی کی غرض سے موجود تھا۔ذولفقار حمید نے مزید کہاکہ کارروائیوں میں حصہ لینے والے جوانوں کے لیے نقد انعامات کا اعلان کیا گیا ہے،پولیس کے جوانوں نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔خیبر پختونخوا پولیس کی دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کامیابیاں مستعدی اور پروایکٹیو پولیسنگ کی زندہ مثال ہے۔—- انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر سپرا نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اس وقت تمام محکمےدیگر طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی ایم پی اےعلی شاہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جس دوران کیس پراسیکیوٹر سمیت متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت جج طاہر سپرا نے سوال کیا آج بھی پولیس نے ریکارڈ پیش نہیں کرنا اور ایسا ہی ہونا ہے؟ اس پر پراسیکیوٹر نے کہا تفتیشی افسر منڈی بہاوالدین میں ہے، واپس نہیں آیا، عدالت کو ایکشن لینا چاہیے، عدالت کے پاس بہت پاور ہے اس کے باوجود پولیس رکارڈ پیش نہیں کررہی۔ جج طاہر سپرا نے کہا مجھےآج تک سمجھ نہیں آئی کہ پراسیکیوشن کی ذمہ داری کیا ہے؟ مقدمہ کاچالان عدالت میں پیش کرنا آپ کاکام ہے، پراسیکیوٹر نے جواب دیا جب تک چالان ہمارے پاس نہیں آتا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ جج اے ٹی سی نے سوال کیا تفتیشی افسر اگر عدالت نہیں آتا تو کس کی ذمہ داری ہے؟ اسلام آبادکے پراسیکیوٹر بہت ضدی ہیں، سمجھتےہیں

کہ وہ ججز کےبرابر ہیں، اگر میں پولیس کو نوٹس کرسکتا ہوں تو کیا آپ کو نوٹس نہیں کر سکتا۔ جج طاہر عباس نے کہا ہم سب ایک غیرمعمولی صورتحال سےگزررہے ہیں، اس وقت تمام محکمے دیگر طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں،کل صبح تک دیکھ لیتے ہیں ریکارڈ آجائے گا۔عدالت نے کہا کہ آپ کو تنخواہ اس لیےملتی ہےکہ آپ معاشرےمیں انصاف کویقینی بنائیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات کے خلاف ملکی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی،پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اِن کیمرہ اجلاس جاری ہے۔اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق کر رہے ہیں، انہوں نے قومی سلامتی کے شرکاء کا خیر مقدم کیا۔اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، تلاوت کلام پاک کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا اپوزیشن کا رویہ پارلیمانی روایات کے منافی ہے، انہوں نے آج بھی قوم کو مایوس کیا، انتہائی اہمیت کےحامل اجلاس میں اپوزیشن لیڈر اور ان کی جماعت کو شرکت کرنا چاہیے تھی۔آرمی چیف، ڈی جی ISI بھی شریک ہوئےاجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک، ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی بی موجود ہیں۔اجلاس میں بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کا وفد، مولانا فضل الرحمٰن، ایم کیو ایم اراکین، وزیرِاعلیٰ خیبر پختون خوا سمیت چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی گورنرز، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر اور وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان بھی شریک ہیں۔اجلاس میں چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس نے بھی شرکت کی ہے۔علی امین گنڈاپور کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہوفاقی کابینہ کے 38 اراکین قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں۔پیپلز پارٹی کے 16 اراکینِ پارلیمنٹ بلاول بھٹو کی سربراہی میں اجلاس میں موجود ہیں۔مسلم لیگ ق کے 2 اراکینِ پارلیمنٹ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے عبدالعلیم خان، نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد اور مسلم لیگ ضیاء کے اعجازالحق بھی اجلاس میں شریک ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔پی ٹی آئی کا کوئی رکنِ پارلیمنٹ، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل اجلاس میں شریک نہیں۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی بشیر خان ایوان میں پہنچے اور کچھ دیر رکنے کے بعد واپس چلے گئے۔دہشت گردی ملک کیلئے ناسور بن گئی: وزیرِ اعظموزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ دہشت گردی ملک کے لیے ناسور بن گئی ہے، اس ناسور کا دیرپا اور پائیدار حل نکالنا ہے، ملک کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائیاں قابلِ ستائش اور قابلِ فخر ہیں، شہداء کی قربانیاں فراموش نہیں کر سکتے، ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں

۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی پاکستان کی سر زمین پر کوئی جگہ نہیں، شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتے، ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔اُنہوں نے قومی نوعیت کے اہم اجلاس میں حزبِ اختلاف کی عدم شرکت کو افسوسناک اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل قرار دیا۔شہباز شریف نے کہا کہ حزب اختلاف کی عدم شرکت قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب کو متحدہ ہو کر آگے بڑھنا ہے۔آرمی چیف اور ڈی جی ایم او کی بریفنگاجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پارلیمانی کمیٹی کو بریف کیا۔ڈی جی ایم او نے بھی پارلیمانی کمیٹی کو بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی سے متعلق بریفنگ دی۔اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی کو بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، بلوچستان میں عسکریت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق شرکاء کو اسکرین اور سلائیڈز کی مدد سے اہم شواہد کے ساتھ صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا۔اپوزیشن کو کم از کم آج قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا: وزیرِ دفاع خواجہ آصفوزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو کم ازکم آج کےاجلاس میں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔اُنہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنے ریاستی اداروں کے مشکل کی اس گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑی ہے۔وزیرِ دفاع نے کہا کہ عوام ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے، ہمارے اداروں نے پہلے بھی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ اب بھی کامیابی یقینی ہے۔غیر معمولی حفاظتی اقداماتقومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور اطراف میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت پر اسنائپرز تعینات ہیں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved