مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ فیصلے کو سپریم کورٹ نے معطل کر دیا۔ تحریک انصاف کو بڑا ریلیف۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے لاء ونگ کو بھیج دیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اجلاس ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے لاء ونگ کو بھیج دیا، لاء ونگ سپریم کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ذرائع کے مطابق قانونی ٹیم سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لے کر الیکشن کمیشن کو رپورٹ دے گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی اور مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین پر مشتمل جماعت سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کا فیصلہ معطل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے دائر سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر سماعت ہورہی ہے جہاں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اپیلوں پر سماعت کر رہا ہے، بینچ کی سربراہ جسٹس منصور علی شاہ کر رہے ہیں جب کہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر بھی بینچ کا حصہ ہیں، سماعت کا آغاز ہوا تو مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے بنچ پر اعتراض کیا گیا، جن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ’یہ آئین کے آرٹیکل 51 کی تشریح کا مقدمہ ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت کیس پانچ رکنی بنچ سن سکتا ہے‘، اسی طرح وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بنچ پر اعتراض کیا گیا تاہم عدالت نے بنچ پر اعتراض مسترد کر دیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’ابھی تو ابتدائی سماعت ہے، اگر اپیلیں قابل سماعت قرار پائیں تو کوئی بھی بنچ سن لے گا، اس سٹیج پر تو دو رکنی بنچ بھی سماعت کر سکتا ہے‘، اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ’پی ٹی آئی کے آزاد جیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی‘، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’سات امیدوار تاحال آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا حصہ ہیں؟‘، جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کہ ’کیا پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟‘ اس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کہ ’رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے صرف الیکشن میں حصہ نہیں لیا‘، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ’آزاد اراکین کو کتنے دنوں میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے؟‘، فیصل صدیقی نے بتایا کہ ’آزاد اراکین قومی اسمبلی کو تین روز میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے‘، جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ ’اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟‘، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے اور آزاد جیتے ہوئے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’سیاسی جماعتوں کے درمیان مخصوص نشستوں کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جماعت کیا اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق مخصوص نشستیں لے گی یا زیادہ بھی لے سکتی ہے؟‘، اس پر فیصل صدیقی نے بتایا کہ ’کوئی سیاسی جماعت اپنے تناسب سے زیادہ کسی صورت مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی‘، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ’سیاسی جماعت کو اتنی ہی مخصوص نشستیں مل سکتی جتنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے ان کی بنتی ہیں‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’قانون میں کہاں لکھا ہے کہ بچی ہوئی نشتسیں دوباری انہی سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائے گی‘، ہمیں پبلک مینڈیٹ کی حفاظت کرنی ہے، اصل مسئلہ پبلک مینڈیٹ کا ہے‘، جسٹس اطہر من اللہ نے دریافت کیا کہ ’قانون میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انتخاباتی نشان نہ ملنے پر وہ سیاسی جماعت الیکشن نہیں لڑ سکتی؟‘، اس پر وکیل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’جی یہی سوال لے کر الیکشن سے قبل میں عدالت گیا تھا‘۔
اس موقع پر مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن حکام کو طلب کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’الیکشن کمیشن حکام ریکارڈ لے کر فوری آئیں، الیکشن کمیشن سے کچھ سوالات کرنے ہیں، دوسری جماعتوں کو کس قانون کے تحت نشستیں دی گئیں؟ ہم الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہیں، فیصلوں کی معطلی صرف اضافی نشستیں دینے کی حد تک ہوگی، کیس کی تاریخ مقرر کر کے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں گے‘۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی
No News Found.

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2024 Baadban Tv. All Rights Reserved