
انتہائی حیران کن،آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے کیس کا بنیادی انسانی حقوق اور عوام پاکستان سے کوئی تعلق نہیں سلمان اکرم راجہ صاحب نے جواب دیا کہ پورا فیصلہ ہی اسی پوائنٹ پر ہے،فیصلے سے دکھا دیتا ہوںمخصوص نشستیں کسی بھی پارٹی کو عوام کے ووٹوں کی بنیاد پر ملتی ہیں،اصل بات یہ ہے کہ عوام کے ووٹوں کے مطابق ہی پارلیمنٹ میں جماعتوں کو نشستیں ملنی چاہئیں،اس میں بنیادی نکتہ ہی بنیادی انسانی حقوق اور عوام پاکستان کا ہے!!

یہ وہ جنگ ہے جس کی منصوبہ بندی اسرائیل برسوں سے کررہا تھا۔ ٹرمپ انتطامیہ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد صہیونی ریاست نے گزشتہ جمعے کو ایران کی جوہری و فوجی تنصیبات پر متعدد حملے کیے۔ایران کی جانب سے بلاجواز جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنازع مکمل جنگ کی صورت اختیار کرگیا ہے جو پورے خطے یا اس سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔ اسرائیل کی مدد کے لیے امریکا کی براہ راست جنگ میں شمولیت کے امکان نے حالات کو مزید غیرمستحکم کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’تمام شہری فوری طور پر تہران خالی کردیں‘ کی دھمکی کے بعد امریکا کی جنگ میں شمولیت کے حوالے سے شکوک کافی حد تک واضح ہوچکے ہیں۔ ایک صدر جو جنگ مخالف ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، امریکا کو ایک اور تباہ کن فوجی مہم جوئی کی جانب لے جا رہے ہیں جوکہ دنیا کو مزید افراتفری کی صورت حال میں دھکیل دے گا۔ٹرمپ نے بہت پہلے ہی اپنی پوزیشن واضح کردی تھی کہ وہ امریکا کو دیگر ممالک کی جنگ میں نہیں جھونکیں گے۔



لیکن اب امریکا ایک ایسے تنازع میں شامل ہونے جارہا ہے جس کے نتائج کا وہ تعین نہیں کرسکتا۔چند میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی رہنماؤں کے دباؤ پر واشنگٹن صہیونی ریاست کو 13 ہزار 600 کلوگرام ’بنکر بسٹنگ بم‘ فراہم کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

اس سے اسرائیل کو زیرِزمین ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے میں مدد ملے گی لیکن اس سے ایران کو سر جھکانے پر مجبور کرنے کے اپنے مطلوبہ مقصد میں وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے اس طرح کے کسی اقدام سے جوہری معاہدے پر ممکنہ مذاکرات کے تمام امکانات ختم ہوجائیں گے جس حوالے سے امریکی صدر کا دعویٰ تھا کہ وہ دلچسپی رکھتے ہیں۔پیر کے روز انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ایران بنیادی طور پر مذاکرات کی میز پر ہے، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں‘۔ماہر تعلیم اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سابق رکن ولی نصر نے کہا کہ یہ ’جنگی سفارتکاری‘ ہے۔ تاہم ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں جو یہ بتائے کہ ایران جنگ کے سایے میں جوہری امن معاہدے پر رضامند ہوگا۔

درحقیقت اسرائیل کے حالیہ حملوں نے ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو ناکام بنادیا ہے۔ بات چیت کے اگلے دور کے لیے دونوں ممالک کے وفد کے درمیان عمان میں ملاقات طے تھی۔ البتہ بات چیت کے گزشتہ دور میں کسی حد تک پیش رفت بھی ہوئی تھی۔مذاکرات کے لیے طے شدہ شیڈول سے چند دن قبل اسرائیل کے ایران پر حملے نے بات چیت کے عمل کو سبوتاژ کیا۔ یہ 2018ء کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح بات چیت تھی۔ اسی سال ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور میں ’بہتر ڈیل‘ کا وعدہ کرتے ہوئے 2015ء میں طے پائے جانے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک جانب ایرانی وفد کی سربراہی وزیرخارجہ عباس عراقچی کررہے تھے وہیں امریکا کی نمائندگی ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو ویٹکوف کررہے تھے۔


یہ حقیقت کہ دونوں فریقین نے دوبارہ ملاقات پر رضامندی ظاہر کی، دونوں فریقین کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

میں تباہ شدہ جوہری تنصیبات سے ممکنہ تابکاری اور کیمیائی آلودگی پیدا ہونے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو تبدیل کردے گی لیکن نتیجہ امریکا کی منشا کے مطابق نہیں ہوگا۔ یہ وہ سبق ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں لڑی گئی اپنی ماضی کی جنگوں کے باوجود امریکا نے نہیں سیکھا۔ اگر امریکا براہ راست شامل ہوتا ہے اور اپنے فوجی ایران میں اُتارتا ہے تو اس سے خطہ مزید غیرمستحکم ہوگا۔ تہران پہلے ہی تنازع میں امریکی شرکت کے خلاف خبردار کرچکا ہے اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکا ہے۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہے جس کے عالمی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی سیلانی آئی ٹی پروگرام کراچی کے طلباء کے ساتھ خصوصی نشستطلباء کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا پُرجوش استقبال کیا گیاطلباء نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے پاکستان کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتحال سمیت مختلف موضوعات پر سوالات کیےبنیان المرصوص میں کامیابی، امن کی جیت ہے. پاکستان نے ہمیشہ امن کو جنگ پر فوقیت دی ہے،

*ڈی جی آئی ایس پی آر*آپ لوگوں نے معلومات کی جنگ میں پاکستان کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، *ڈی جی*پاکستان کی افواج منظم اور پیشہ ور افواج ہیں، جو آئین کے تحت اور ریاستی احکامات کے مطابق اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہی ہیں، *ڈی جی*پاکستان خطے میں نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر کا کردار ادا کرتا رہے گا، *ڈی جی*اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، چاہے ہمیں کسی بھی محاذ پر پاک فوج کا ساتھ دینا پڑے، *طلباء*پاک افواج ہماری پہچان ہیں اور ہم عوام ہی ان کی اصل طاقت ہیں، *طلباء*طلباء نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ نشست کو سراہا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے انٹریکشن ہوں*پاکستان ہمیشہ زندہ باد*










