آج کے تین سب سے بڑے ہتھیار:1. کلاشنکوف2. قلم3. سوشل میڈیایہ تینوں آج کے دور میں طاقت کا نشان ہیں۔ آپ ان میں سے جس بھی میدان میں مہارت رکھتے ہیں، جتنے بھی وسائل آپ کے پاس موجود ہیں—بس ان کو اسلام کے دفاع اور غزوۂ ہند اور فلسطین کے مجاہدین کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کیجیے۔ یہ صرف ان کی جنگ نہیں، یہ حق اور باطل کا معرکہ ہے، اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔یہ مت سوچیے کہ “میں صرف بول ہی تو رہا ہوں، اس سے کیا فرق پڑے گا؟”یاد رکھیے، بولنے سے فرق پڑتا ہے، لکھنے سے تکلیف ہوتی ہے، سچ کہنے سے دل جلتے ہیں!آپ نے کبھی فحاشی، بے حیائی یا باطل نظریات پھیلانے والے اکاؤنٹس کو حذف ہوتے دیکھا؟ نہیں ناں؟کیونکہ وہ چیزیں ان کو پسند ہیں، لیکن دین کی بات… انہیں گوارا نہیں۔اسی لیے وہ ہر سچ بولنے والے، لکھنے والے اور شعور بیدار کرنے والے کو خاموش کروانا چاہتے ہیں۔لیکن ہمارا کام ہے بولتے رہنا، لکھتے رہنا، کھڑے رہنا۔ہمیں اپنے حصے کا کام کبھی نہیں چھوڑنا، کیونکہ اللہ ہماری نیتوں سے واقف ہے۔اگر آپ لڑ سکتے ہیں، تو اسلام کے لیے لڑیں۔اگر لڑ نہیں سکتے، تو بولیں۔اگر بول نہیں سکتے، تو لکھیں۔اور اگر لکھنے کی بھی طاقت نہیں، تو کم از کم ان کا ساتھ دیجیے جو بول رہے ہیں، لکھ رہے ہیں اور لڑ رہے ہیں۔ان کی مدد کریں، ان کا حوصلہ بڑھائیں، ان کے لیے دعا کریں،کیونکہ وہ صرف اپنی نہیں… آپ کے حصے کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔۔ > ہم غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں ✌️










