تازہ تر ین

ملک ریاض کو گرفتار کر کے پاکستان لایا جائے گا۔ مک مکا حکومت نے بل پاس کئے اور تحریک انصاف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چئیرمین شپ۔چئیرمین سینٹ ان ایکشن صدارت کرنے سے انکار چوھدری اعجاز کے پروڈکشن آرڈر پر عمل کیا جائے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ حالات بدلنے پر ریلیف ملے گا،ریاست نے 25 سال بعد ملک ریاض پر ہاتھ ڈال دیا ہے،ملک بھر میں قائم بحریہ ٹائونز اور ملک ریاض کے اثاثوں کی قومی سطح پر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے، جو بھی کوئی غیر قانونی کام کرے گا اس کا تعاقب کیا جائے گا۔ وہ جمعہ کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ملک ریاض کی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے پاکستان کی حوالگی کا عمل مکمل کرکے یہاں مقدمات چلائے جائیں گے، یو اے ای کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ وقت گیا جب ملک ریاض پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا، کوئی بھی پاکستانی ملک سے باہر بحریہ ٹائون کے منصوبے میں پیسہ لگاتا ہے تو اسے بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا پیسہ ڈوب جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی غیر قانونی کام کرے گا اس کا تعاقب کیا جائے گا۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ غیب کا علم اللہ کے پاس ہے لیکن ملک ریاض کو اب کسی فورم سے کسی قسم کا ریلیف ملنے کا امکان نہیں ہے، میڈیا جس شخص کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا تھا، اب احتساب کا سلسلہ وہاں تک بھی پہنچ گیا ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ملک ریاض ایک زمانے میں کہا کرتے تھے کہ میں پاکستان سے باہر جا کر کاروبار کرنا حرام سمجھتا ہوں، اس حوالے سے ان کی ایک ویڈیو ہے جسے میں ٹوئٹر پر ڈال دوں گا، لیکن اب وہ فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے دبئی میں آ کر بہت بڑا پروجیکٹ لانچ کیا ہے،

آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لوگ دولت کے لیے کس طرح اپنی باتوں سے مکر جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک پروگرام کے دوران دو اینکر پرسنز کی ہونے والی بات چیت کی یاددہانی بھی کرائی ؟وزیر دفاع نے کہا کہ 30 سال تک سلسلہ چلتا رہا ہے، ایک شخص نے پورے پاکستان میں جو زمینیں خریدی ہیں، سوسائٹیوں کی منظوریاں لی ہیں، اس معاملے میں کئی پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں، یتیموں، بیوائوں اور غریبوں کی زمینوں پر مبینہ طور پر قبضے کیے گئے، اب وہ وقت چلا گیا جب ملک ریاض پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک ریاض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا فرد نہیں جس پر انہوں نے نوازشات نہ کی ہوں، میں نے سنہ 97 میں سوال اٹھایا تھا کہ بحریہ کا نام ملک ریاض کیسے استعمال کر رہے ہیں ؟ وزیر دفاع نے کہا کہ جب میں نے یہ مسئلہ اٹھایا تو ملک ریاض نے مجھ تک رسائی حاصل کی اور کہا کہ سب کچھ قانونی طور پر ہو رہا ہے،

میں وکیل کو آپ کے پاس بھیجتا ہوں، میں نے منع کر دیا کہ اس کی ضرورت نہیں، میں سارے معاملے سے آگاہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا اداروں کے مالکان کو بھی خود احتسابی کرنی چاہئے ، انہیں بزنس دینے والے کسی کاروباری شخص کے خلاف بیانات کیوں نہیں چلائے جاتے؟ انہوں نے کہا کہ ملک ریاض کی جو ٹویٹ آئی تھی، اس پر اپنی بات کی تھی، صحافی حضرات پیکا پر تو احتجاج کرتے ہیں، اس بات پر بھی احتجاج کریں کہ میڈیا اداروں کے مالکان کو بزنس دینے والے آدمی کے خلاف بیانات کیوں نہیں چلائے جاتے، سیاستدان میڈیا کا سافٹ ٹارگٹ ہیں۔واجہ آصف نے کہا کہ میں نے کئی ٹی وی پروگرامز میں جب بھی ملک ریاض کے خلاف بات کی، اسے کاٹ دیا جاتا تھا، جب پروگرام دیکھتا تھا تو میری کہی ہوئی باتیں اس میں سے حذف کر دی جاتی تھیں، رپورٹرز میڈیا کے فرنٹ سولجرز ہیں اور میں ان کے ساتھ ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس طرح کا دوہرا رویہ جاری رہنے سے جمہوریت کا سلسلہ اصل روح کے مطابق نہیں آ سکتا، اس رویہ کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔—–نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو بڑھانے کے لئے ایک جامع روڈ میپ تیار کرنے کے لئے جمعہ کو یہاں ایک اجلاس کی صدارت کی۔ نائب وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے سٹرٹیجک اکنامک فریم ورک 24۔2020 پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔اجلاس میں انہوں نے حالیہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے نئی تجاویز کا جائزہ لیا۔ یہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی سٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے ساتویں اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔—-پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ کیلئے حکومت کو 5 نام بھیج دئیے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے چیف وہپ طارق فضل چوہدری کو خط ارسال کیا ہے، جس میں پی اے سی کی چیئرمین شپ کے لیے 5 نام بھیجے گئے ہیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے بھیجے گئے ناموں میں جنیداکبر، شیخ وقاص اکرم، عمر ایوب خان، عامر ڈوگر کے اور خواجہ شیراز محمود کے نام شامل ہیں۔–وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کام جاری رکھیں گے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر آئین کے مطابق ہوگا اور آئین اجازت دیتا ہے جب تک نئی تعیناتی نہیں ہوتی یہ کام جاری رکھ سکتے ہیں۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئئی نے یہ تعیناتیاں ڈیڑھ سال تک روک کر رکھی تھیں۔واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت ملازمت 26 جنوری کو ختم ہو رہی ہے،اس حوالے سے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورتی عمل ہونا ہے۔چند روز قبل، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے قائد حزب اختلاف کے رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی جلد از جلد تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔خط میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل 215 کے تحت چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا کی مدت 26 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 213 کے تحت آئینی تقاضا پورا کرنے کیلیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔—چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کے سوا کسی ادارے نے ختم کی تو اسے کوئی نہیں مانے گا۔اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت کی خبر میڈیا نے دی تھی اس لیے میڈیا سے ہی پوچھا جائے۔ ناشتے کے لیے امریکا ضرور جاوں گا۔ یہ تو والدہ کے دور سے چل رہا ہے۔ کچھ دوستوں سے بھی مل لوں گا۔بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کابینہ میں شمولیت اختیار نہیں کررہی ہے۔

نہ میں وزیر ہوں اور نہ ہی کوئی حکومتی عہدیدار اس لیے دورہ امریکا میں میرا کوئی آفیشل پروگرام نہیں ہے۔26 ویں ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کے اسے پارلیمنٹ کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا اور اگر کوئی ادارہ اسے ختم کرے گا تو نہ ہم مانیں گے اور نہ ہی کوئی اور مانے گا۔صحافی کی جانب سے شہباز شریف کی حکومت کے 5 سال پورے کرنے سے متعلق سوال پر چیئرمین پی پی پی نے جواب دیا کہ ان شا اللہ لیکن ہم وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بن رہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمی میں کوئی جج عہدے پر آئے تو دوسرے ججوں کو آسانیاں پیدا کرنی چاہییں نہ کہ مشکلات۔ بینچ سپریم کورٹ کا ہو یا آئینی بینچ، دونوں کو آئین اور قانون کو ماننا ہوگا۔بلاول نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مضبوط اور دوٹوک ہے۔ ملک کے جوہری اثاثے اور میزائل ٹیکنالوجی شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ اور شہید بے نظیر بھٹو کی امانت ہے۔پیکا ایکٹ کی منظوری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس پر میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے مشاورت کرلی جاتی تو زیادہ بہتر تھا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل اتفاق رائے پیدا کرے تو اس کے لیے آسانی ہوگی۔—آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18منٹ جاری رہا جس میں 4 بل منظور کر لیے گئے جبکہ 4 مؤخر ہو گئے۔تجارتی تنظیمات ترمیمی بل 2021ء مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیا گیا جبکہ درآمدات و برآمدات انضباط ترمیمی بل بھی منظور کر لیا گیا۔قومی ادارہ برائے ٹیکنالوجی بل 2024ء اور نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ بل 2024ء بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیے گئے۔علاوہ ازیں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء ڈیفر کر دیا گیا جبکہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء مؤخر کر دیا گیا۔این ایف سی ادارہ برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ملتان ترمیمی بل 2023ء اور نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیے گئے۔پی ٹی آئی کا مذاکرات ختم کرنے کے اعلان پر غور کرنیکا عندیہوفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیا گیا۔دوسری جانب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے احتجاج کے باعث آج ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی درخواست کی تاہم اسپیکر نے اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہیں دی۔اپوزیشن لیڈر کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج شروع کر دیا اور پیکا ایکٹ نامنظور، صحافیوں پہ ظلم کے نعرے لگانا شروع کر دیے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔اپوزیشن ارکان کے احتجاج اور شور شرابے کے باوجود اسپیکر نے ایوان کی کارروائی جاری رکھتے ہوئے ایجنڈے پر موجود حکومتی قانون سازی کا عمل جاری رکھا۔واضح رہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیرِ اعظم کی ہدایت پر آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا۔پچاس لاکھ روپےمالیت تک کے گھر اور رہائشی پلاٹس ٹیکس سے مستثنٰی قرار دے دئیے گئے، ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن نے پراپرٹی ٹیکس اصلاحات جاری کردیں۔ ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جاری نوٹیفیکشن کا اجراء کابینہ سےمنظوری کے بعد عمل میں آیا،آئندہ پراپرٹی ٹیکس کا تعین ڈی سی ریٹ کے مطابق ہوگا۔،ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عمر شیر چٹھہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو رواں سال اضافی ٹیکس نہیں دینا پڑے گا،نئے ٹیکس گزار اس سال کل ٹیکس کا صرف 25 فیصد دیں گے، شہریوں کو ٹیکسز کی سیلف اسسمنٹ کی سہولت دی جا رہی ہے ،ٹیکس گزاراپنی پراپرٹی کے ٹیکس کا تخمینہ خود لگا سکیں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved