منگل کو وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ و نجکاری اور مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت سپیشل اکنامک زونز کی اپروول کمیٹی کا 9 واں اجلاس ہوا جس میں گلگت بلتستان سمیت صوبائی حکومتوں کی نمائندگی اور سپیشل اکنامک زونز کے اہم امور ومحکمانہ فیصلوں کی منظوری دے دی گئی جبکہ سپیشل اکنامک زونز کے ایکٹ میں ترمیم کر کے کمیٹی کا اجلاس بلانے کے نوٹس کو21 سے کم کر کے 7 دن کرنے کا فیصلہ بھی ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے 35 صنعتی مراکز کا سروے اور مسائل کی نشاندہی و حل بڑی پیش رفت و کامیابی ہے، کم وقت میں سپیشل اکنامک زونز کی اپ گریڈیشن اور بہتر معیار کے لئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معیاری سہولیات سے آراستہ صنعتی مراکز میں دیگر ممالک سے سرمایہ کاری سے تیز تر معاشی ترقی ہو گی، تیزی سے امور نمٹانے کیلئے” اپروول کمیٹی “کا باقاعدگی سے اور بروقت اجلاس ہونا انتہائی ضروری ہے۔عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ سپیشل اکنامک زونز سے متعلق تمام امور کو اپ ڈیٹ کر دیا جو کہ موجودہ تقاضوں کے عین مطابق ہے۔انہوں نے سپیشل اکنامک زونز کی سروے رپورٹ صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو بھی بجھوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اب صنعتی مراکز کا ڈیجیٹل ڈیٹا موجود ہے، یہ میوچل پراپرٹی ہے، تمام متعلقہ ادارے اس سے مستفید ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے غیر ضروری پیچیدگیوں کی بجائے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں، سپیشل اکنامک زونز میں ہر طرح کی انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کریں گے جس سے زر مبادلہ آ سکے۔










