
ہیرا منڈی کا ایک دلال”مودا ماما” کے نام سے مشہور تھا، اصل نام چوھدری محمود تھا، منڈی میں آنے والی بارہ چودہ سال کی ستر فیصد لڑکیوں کی نتھ اترائی اسی سے ہوتی تھی، بڑے بڑے لوگوں کو لڑکیوں کی سپلائی دیتا ایک لڑکی کی آٹھ دس بار نتھ اترائی کروا لیتا تھا۔منڈی میں ایک لڑکی آئی اصل نام پتا نہیں کیا تھا لیکن دل بہار کے نام سے مشہور ہوئی، اس زمانے میں شریف گھرانوں کی لڑکیاں فلموں میں نہیں آتی تھیں ستر فیصد ہیروئینوں کا تعلق ہیرا منڈی سے ہوا کرتا تھا، اشرافیہ بھی عیاشی کے لیے ہیرا منڈی کا رخ کیا کرتی تھی، ایسا ہی ایک عیاش سیاستدان غلام مصطفیٰ کھر تھا، مصطفیٰ کھر کے دل بہار کے ساتھ تعلقات تھے پھر دونوں نے شادی کر لی،مصطفیٰ کھر گورنر پنجاب بنا اور ہیرا منڈی کی دل بہار پنجاب کی خاتون اول بن کر گورنر ہاؤس پہنچ گئی، وہ دن مودا ماما کی زندگی کا خوش ترین دن تھا، اس نے دیگیں پکوائیں اور پورے شاھی محلے میں بانٹیں، ہر ایک سے کہتا “ہمارا داماد گورنر بن گیا”، پھر یوں ہوا کہ غلام مصطفیٰ کھر کی بیٹی آمنہ حق ٹی وی اور گانوں کی ماڈل بن گئی،مصطفیٰ کھر کی بیوی تہمینہ درانی نے اپنی کتاب “مینڈا سائیں” میں لکھتی ہیں “غلام مصطفیٰ کھر کی بدزبانی، گالی گلوچ، ہوس پرستی اور عورت بازی سے ان کے اپنے خاندان کی کوئی خاتون محفوظ نہیں تھی، غلام مصطفیٰ کھر نے اپنی سالی یعنی تہمینہ درانی کی چھوٹی بہن عدیلہ سے ناجائز تعلقات قائم کر لیے تھے، احتجاج کرنے پر تہمینہ درانی کو ننگا کر کے مارا پیٹا تھا، پھر تہمینہ درانی نے شہباز شریف سے شادی کر لی. غلام نور ربانی کھر مصطفیٰ کھر کا بھائی ہے اور حنا ربانی کھر اس کی بیٹی ہے،مصطفیٰ کھر اور دل بہار کی شادی زیادہ عرصہ نہیں چل سکی، طلاق ہو گئی تھی، مودا ماما نے سیاست شروع کی، 1988 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے بن گیا،

نواز شریف نے بےنظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد چلائی اور پیپلز پارٹی کے ایم این اے خرید لیے. مخدوم احمد عالم انور اور رئیس شبیر احمد معمولی رقم پر فروخت ہوئے، اس سے آپ کو 2022 کی عدم اعتماد سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی،نواز شریف نے مودا ماما کو بھی خریدنے کی کوشش کی، مودا نے کہا “صاحب جی یہ پیر، مخدوم اور رئیس بک جاتے ہیں، ہم کنجر لوگ ہیں ہم وفاداریاں تبدیل نہیں کرتے” دل بہار کی جوانی، اداکار حبیب اور نورجہاں کا گایا ہوا لازوال گانا “کہندے نے نینا، تیرے کول رہنا” تھا، دل بہار مصطفیٰ کھر کی گرل فرینڈ تو نورجہاں زولفقار بھٹو کی، نور جہاں، جنرل رانی، یحییٰ خان ، زولفقار بھٹو سمیت ستر کی دہائی کی پوری کابینہ اٹھا کر دیکھ لیں، ایک سے بڑھ کر ایک عیاش شرابی کرپٹ حکمران آپ کو ملے گا۔۔!منقول










