نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے باضابطہ ملاقات کی درخواست نہیں کی ،ہماری جانب سے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی ہے، پاکستان 27 سال بعد کسی بڑے ایونٹ کی میزبانی کررہا ہے، اسلا م آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے کئی رکن ملکوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی درخواست کی۔چینی وزیر اعظم پاکستان میں اہم منصوبوں سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے اور ایس سی او سربراہی اجلاس میں چین کی نمائندگی کریں گے۔یہ بھی بتایاگیا ہے کہ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ آج اسلام آباد پہنچیں گے اور سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ۔ مہمانوں کی آمد سے قبل اسلام آباد کو سجا دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر سربراہان مملکت کی آمد کے پیش نظر شہر میں سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کیلئے مختلف ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ چین، بھارت، روس، ایران اور کرغزستان کے وفود پاکستان پہنچ گئے ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہان حکومت میں عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔روس کے وزیراعظم میخائل مشوستن بھی کانفرنس کیلئے پاکستان پہنچیں گے۔ بیلاروس کے وزیراعظم رومان گولوف چینکو ایس سی او اجلاس میں شرکت کریں گے۔کرغزستان کے وزراءکی کابینہ کے چیئرمین زاپاروف اکیل بیک بھی پہنچ گئے ہیں جبکہ تاجکستان کے وزیراعظم کوہر رسول زادہ اور ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ اریپوف بھی کانفرنس میں شریک ہونگے۔مہمانوں کی آمد سے قبل اسلام آباد کو دلہن کی مانند سجا دیاگیا۔شہر کی اہم شاہراہوں، چوک چوراہوں پر سبزی ہلالی رنگوں کی خوبصورت منظر کشی کی گئی ہے۔ سرکاری عمارات کے ساتھ ساتھ نجی کاروباری مراکز کو بھی سجایا گیا ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سربراہان مملکت کی آمد کے پیش نظر شہر میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔اسلام آباد میں سربراہی اجلاس کے دوران سڑکوں پر فوج کی تعیناتی کی اجازت دے دی گئی تھی تاکہ سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔










