ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے مابین ملاقات میں جاری مذاکرات پر غور کیا گیا، جس میں دونوں جماعتوں کے درمیان اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ایوان صدر میں ہونیوالی ملاقات میں پیپلزپارٹی کے مطالبات اور تحفظات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پنجاب پاور شیئرنگ فارمولہ کے نکات پر بھی غور کیا گیا، جو مذاکرات کی کامیابی میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔پیپلزپارٹی کی قیادت نے نائب وزیراعظم سے تحریری معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ اسحاق ڈار نے پیپلزپارٹی کی قیادت کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ن لیگ نے پیپلزپارٹی سے مشاورت کے لیے وسط جنوری تک مہلت لی ہے، جبکہ دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات تاحال طے نہیں پا سکے ہیں۔سرکاری ڈسکوز کے صارفین کیلئے بجلی 75 پیسے فی یونٹ سستی کردی گئی ہے جبکہ کےالیکٹرک صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں 49 پیسے کمی کی منظوری دے دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ڈسکوز اور کےالیکٹرک کیلئے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی کی گئی ہے۔ سرکاری ڈسکوز کے صارفین کیلئے قیمت میں کمی نومبر کے ایف سی اے کی مد میں کی گئی جبکہ کےالیکٹرک صارفین کیلئے قیمت میں کمی اکتوبر کے ایف سی اے کی مد میں کی گئی۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سرکاری ڈسکوز اور کےالیکٹرک کیلئے قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔اس سلسلے میں اتھارٹی کا کہنا ہے کہ صارفین کو ریلیف جنوری کے بلوں میں دیا جائے گا۔تبت میں 7.1 شدت کے زلزلے کے باعث کئی عمارتیں گر گئیں جس کے نتیجے میں 126 افراد ہلاک اور 188 زخمی ہوگئے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آج صبح چین کے علاقے تبت، نیپال، بھارت کے شمال اور شمال مشرقی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق چین کے مقامی وقت کے مطابق زلزلہ صبح 9 بج کر 5 منٹ پر آیا۔چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر کے مطابق زلزلے کا مرکز ٹنگری کاؤنٹی تھا، جبکہ گہرائی 10 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کے بعد متعدد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے، جن میں سب سے بڑا 4.4 شدت کا تھا۔زلزلے کے جھٹکے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو، بھوٹان اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے۔چین کے زلزلہ نیٹ ورک سینٹر کے مطابق چین میں زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی۔چینی نیوز ایجنسی کے مطابق تبت کی ٹنگری کاؤنٹی کے گاؤں میں گھروں کے گرنے سے شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔سینئر قانون دان اور سابق وفاقی وزیر اعتزاز احسن نے فوجی عدالتوں سے شہریوں کی سزا کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ملٹری ٹرائل کیس کے درخواست گزار اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ انہوں نے فوجی عدالتوں سے شہریوں کی سزاؤں کو قطعی درست تسلیم نہیں کیا ہے۔سینئر قانون دان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فوجی عدالتوں کا قانون ہی اُلٹا ہوتا ہے، کیس کوئی سنتا ہے اور سزا کوئی اور سناتا ہےسعودی عرب میں پیسے ادا نہ کرنے پر پرائیویٹ حج آپریٹرز کے کوٹے سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ عمران علی شاہ کی زیرصدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی سب کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شریک حکام مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ 14 فروری تک سعودی عرب میں پیسے ادا نہ کیے تو پرائیویٹ آپریٹرز کوٹا سے محروم ہوجائیں گے۔حکام نے بتایا کہ پرائیوٹ حج آپریٹرز پیکج کے مطابق حج نہیں کرواتا تو کارروائی ہوگی۔ حکم امتناع کی وجہ سے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے اکاؤنٹ سمیت تمام پراسیس کو روکا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کو بکنگ کیلئے 500 ملین ریال سے زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ مکہ اور مدینہ کی بلڈنگ میں دو ہزار لوگوں کی بکنگ ایک بندے کے نام پر ہوگی۔اجلاس کے دوران سیکریٹری مذہبی امور کی کمیٹی میں عدم شرکت پر ممبران نے برہمی کا بھی اظہار کیا۔ وفاقی کابینہ نے ایف بی آر کے انفرااسٹرکچر کو پیکا 2016 کے تحت کریٹیکل انفرااسٹرکچر قرار دینے کی منظوری دے دی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ ایف بی آر کے انتہائی حساس ڈیٹا کو سائبر حملوں سے بچایا جائے گا۔ اس اقدام سے ایف بی آر کا حساس ڈیٹا مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔اجلاس کے دوران وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای آفس کے نفاذ سے متعلق پیشرفت پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ای آفس کو اس بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔یکم جنوری سے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے درمیان رابطے کےلیے کاغذ کا استعمال ترک کر دیا گیا۔ تمام فائلز موومنٹ اور دیگر خط و کتابت میں صرف ای آفس استعمال کیا جا رہا ہے۔کابینہ کو بریفنگ دی گئی کہ 21 وزارتوں اور ڈویژنز میں ای آفس کا نفاذ سو فیصد کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یو اے ای کو یہ ادائیگی اس سال جنوری میں واجب الادا تھی۔ یو اے ای کا 2 ارب ڈالر ادائیگی مؤخر کرنے کا فیصلہ ہماری معیشت کیلئے بہت خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے صدر نے پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر کی تمام درآمدات و برآمدات کا 60 فیصد حصہ گوادر بندرگاہ سے کیا جائے۔پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ کی آفر آئی تھی اور علی امین گنڈاپور لےکر آئے تھے، پہلے دن سے ڈیل کی آفرز آرہی ہیں لیکن براہ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ ہمارا بھائی ڈیڑھ سال سے جیل میں ہے، بیک ڈور ڈیل کرناہوتی تو کرچکے ہوتے، پہلے دن سے ڈیل کی آفرز آرہی ہیں لیکن براہ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا، بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ رول آف لا کی بات کی ہے، ڈیڑھ سال جیل میں رکھ کر اب کیا ہاؤس اریسٹ رکھیں گے؟ بانی پی ٹی آئی کو یہ بھی کہا گیا چپ رہو منہ نہ کھولو۔انہوں نے کہا کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ کی آفر آئی تھی اور علی امین گنڈاپور لےکر آئے تھے۔ صحافی نے سوال کیا کہ کیا واقعی بنی گالہ ہاؤس اریسٹ کی آفر علی امین گنڈا پور لے کر آئے تھے؟ اس پر ان کا کہناتھا کہ جی ہاں علی امین گنڈا پور ہی لے کر آئے تھے۔علیمہ خان کا کہنا تھاکہ میرا خیال ہے مذاکرات کرنے والے سنجیدہ نہیں، بانی پی ٹی آئی نے صرف 2 مطالبات سامنے رکھے ہیں، وہ 2 سال سے کہہ رہےہیں 9مئی پر جوڈیشل کمیشن بنائیں، کیا بانی پی ٹی آئی کے مطالبات قابل قبول نہیں؟انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کسی سینیئرجج کے نیچے بنائیں جو سب کو قابل قبول ہو، ن لیگ کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں جو ہمیں آرڈر آئے گا ہم وہی کریں گے، رول آف لا اور جمہوریت کے اندر جوڈیشل کمیشن ہی بنتے ہیں۔عمران خان کی بہن نے مزید کہا کہ مذاکرات چلانے ہیں تو چلائیں، روکا کس نے ہے؟ جیل کے اندر ملاقاتیں کرانے کیلئے صبح 7 بجے دروازے کھلتے ہیں، اب کیوں نہیں مذاکراتی کمیٹی کو ملنے نہیں دے رہے، فیصلہ تو بانی پی ٹی آئی نے کرنا ہے ،کمیٹی ملے گی تو کوئی بات ہوگی جو لوگ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہیں انہوں نے تو ہمارامینڈیٹ چرایا ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا پہلے یہ سنجیدگی دکھائیں پھر دیگر مطالبات پر بات ہوگی۔سعودی عرب کی سستی ترین ایئر لائن ”فلائی آ ڈیل“ کی آئندہ ماہ فروری سے پاکستان کے لیے آپریشنز شروع ہوجائیں گے. جس کے بعد قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے کہ اس نئے آپریشنز سے ٹکٹ کی قیمت میں کتنا فائدہ ہوگا۔واضح رہے کہ سعودی ائیر لائنز کی ”فلائی آڈیل“ کی پہلی پرواز 3 فروری کو ریاض سے براستہ جدہ اور پھر کراچی پہنچے گی۔اس حوالےسے فلائی اے ڈیل کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ’فلائی آ ڈیل‘ کو پاکستان میں اپنے آپریشنز کے لیے تمام اجازت نامے مل چکے ہیں اور ایئر لائن ہفتے میں دو دن کراچی اور دو دن لاہور سے جدہ اور ریاض کے لیے اپنی سروسز فراہم کرے گی۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ فلائی اے ڈیل کے آپریشنز سے ناصرف ٹکٹوں کی قیمت میں کمی آئے گی بلکہ دیگر کمپنیوں سے مسابقت کے باعث سروس میں بھی بہتری آئے گی۔شعبہ ایئرلائن سے وابستہ معین اختر کے مطابق یہ ایک مصروف روٹ ہے اور سارا سال ٹکٹس کی فروخت نہ صرف عمرے اور حج کے لیے جانے والوں کی ہوتی ہے. بلکہ وہاں کام کے لیے موجود پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد آتی جاتی ہے۔ان کے مطابق اس وقت عمرے کا ٹکٹ پاکستانی کرنسی میں ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ ستر ہزار کے درمیان ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اگلے ماہ نئی ائیر لائن کے آنے سے یہ قیمت دس سے پندرہ ہزار تک کم ہو گی اور نتیجتاً دیگر ائیر لائنز بھی مسافروں کو متوجہ کرنے کے لیے ٹکٹ کی قیمت میں کچھ کمی کریں گی .










