

40 ممالک میں سےپاکستان کا تیارکردہ فٹبال ہرلحاظ سے بہترین قرارپایا فیفا ورلڈکپ 2026 امریکہ کینیڈا میکسکو میں کھیلا جاۓ گاجس میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کا تیارکردہ فٹ بال استعمال ہوگا فٹ بال کی عالمی تنظیم نے پاکستان کاتیار کردہ بال پر اعتماد کرتے ہوئے منظوری دے دی یہ سلسلے گزشتہ تین فٹبال ورلڈکپ سے جاری ہے جہاں پرصرف پاکستان کا تیارکردہ فٹ بال استعمال ہورہا ہے

نواز شریف کی حکومت نے پہلی بار بجلی کے بلوں پر سرچارج لگایا تو اس پر اپوزیشن اور عوام کی جانب سے کافی سخت ردعمل آیا ۔ سینٹ کا اجلاس ہو رہا تھا صدارت بلوچستان سے تعلق رکھنے والی نورجہان پانیزئی کررہی تھیں ۔حافظ حسین احمد اٹھے اور کہا وزیر خزانہ جناب سرچارج عزیز صاحب بتانا پسند فرمائیں گے؟ ابھی سوال نامکمل تھا کہ وزیر خزانہ سرتاج عزیز اٹھے اور کہا ”جی !انہیں سمجھائیں، میرا نام درست لیں ۔”حافظ صاحب سے درست نام لینے کو کہا گیا تو حافظ صاحب کہنے لگے: ”آج اخبار میں “سرچارج” کا تذکرہ بہت پڑھا ممکن ھے وہی اٹک گیا ہو ۔ وزیر صاحب اپنا درست نام بتادیں تاکہ انہیں اسی نام سے پکارا جائے ۔ سرتاج عزیز اپنے سرخ چہرے کے ساتھ انتہائی غصے میں اٹھے اور کہنے لگے:” میرا نام سرتاج ہے سرتاج!! !!!یہ کہنے کی دیر تھی کہ حافظ حسین احمد نے کہا محترمہ چیئرپرسن صاحبہ! آپ انہیں سرتاج (شوہر مراد ہے)کہہ سکتی ہیں؟ ڈاکٹر نورجہاں پانیزئی چند لمحوں کے لئے تو چپ رہیں۔ پھر بولیں:”

نہیں میں نہیں کہہ سکتی” حافظ حسین احمد نے جواباً کہا جب آپ انہیں “سرتاج” نہیں کہہ سکتیں تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں؟اسی طرح ایک بار وسیم سجاد سینٹ کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے اقبال حیدر(مرحوم) کی یہ عادت تھی کہ وہ اجلاس سے اٹھ کرہال کے ساتھ والے کمرے میں بیٹھ کر سگریٹ پیتے تھے ۔چیئرمین صاحب نے پوچھا اقبال حیدر کہاں ہیں؟ حافظ حسین احمد نے کہا” پینے گئے ھیں” پوے ہال میں قہقہے گونجنے لگے تو اقبال حیدر فوراً ایوان میں داخل ہوئے اور کہنے لگے جناب چیئرمین !انہو ں نے مجھ پر بہتان لگایا ھے’ اقبال حیدر غصے سے لال پیلے ھو چکے تھے ،حافظ حسین احمد اٹھے اور کہنے لگے جناب چیئرمین! آپ ان سے پوچھیں یہ سگریٹ پی کر نہیں آئے ؟میں نے بھی تو یہی کہا تھا کہ پینے گئے ہیں ڈاکٹر اشرف عباسی قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر تھیں، سپیکر معراج خالد بیرونی دورے پر چلے گئے۔ اب قائم مقام سپیکر کی حیثیت سے اجلاس کی صدارت اشرف عباسی ہی کو کرنا تھی ۔مسئلہ صرف حافظ حسین احمد کا تھا کہ کسی طرح انہیں کنٹرول کیا جائے۔ ڈاکٹر اشرف عباسی نے سوچ وبچار کے بعد فیصلہ کیا کہ حافظ حسین احمد سے میٹنگ کرلی جائے ۔وہ یہ سوچ کر رات ساڑھے دس بجے ایم این اے ھوسٹل چلی آئیں ۔کمرے میں کراچی کے ایک عالم دین بھی موجود تھے ان سے کہنے لگیں کہ حافظ صاحب بہت تنگ کرتے ہیں انہیں سمجھائیں، اجلاس کو پر سکون رہنے دیا کریں۔ تیسرے فریق کی موجودگی میں حافظ حسین احمد اور ڈاکٹر اشرف عباسی کے درمیان معاہدہ ہوگیا کہ حافظ حسین احمد “تنگ” نہیں کریں گے ۔اگلے دن اجلاس شروع ھوا تو حافظ حسین احمد اٹھے اور بولنا چاہا تو ڈاکٹر اشرف عباسی نے غصے سے کہا بیٹھ جاؤ۔ چند منٹوں کے توقف کے بعد وہ پھر اٹھے تو ڈاکٹر صاحبہ نے اپنا پہلے والا جملہ دھرایا دیا۔ ایک مرتبہ پھر ایسا ھوا ۔جب چوتھی مرتبہ حافظ حسین احمد اٹھے تو ڈاکٹر اشرف عباسی نے جھاڑ پلادی ۔حافظ صاحب نے کہا میں رات والے معاہدے کو توڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔یہ کہنے کی دیر تھی کہ ڈاکٹر اشرف عباسی نے سپیکر کی کرسی سے مخاطب ھوتے ہوئے کہنا شروع کردیا :نہیں، نہیں حافظ صاحب! معاہدہ برقرار رہے گا۔ تمام ممبران “رات” والے معاہدے پر حیرت زدہ تھے ،یہ معاہدہ ممبران کیلئے معمہ بن کے رہ گیا تھا۔ ملک معراج خالد قومی اسمبلی کے سپیکر تھے، اعتزاز احسن وزیر پارلیمانی امور تھے، انہیں جواب دینا تھے اعتزاز احسن نے آتے ہی سپیکر سے کہا کہ آج مجھے جلدی ھے حافظ حسین احمد صاحب سے کہیں کہ وہ سوال پوچھ لیں۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ وزیر صاحب بتانا پسند کریں گے کہ کس بات کی جلدی ہے؟ اعتزازاحسن وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو مری جارہی ہیں۔ حافظ حسین احمد:کس پر؟ بس یہ کہنے کی دیر تھی کہ شور شرابہ شروع ہوگیا ۔

حکومتی پارٹی کے اراکین کہنے لگے کہ یہ جملے قابل اعتراض ہیں، ہم واک آؤٹ کریں گے نہیں تو حافظ صاحب اپنے الفاظ واپس لیں۔حافظ حسین احمد: کون سے الفاظ قابل اعتراض ہیں، میں نے بڑی لمبی تقریر کی ہے مجھے کیا پتہ کہ کون سے قابل اعتراض بن گئے ہیں۔ معراج خالد ۔۔ وہ جو قابل اعتراض ھیں ۔ حافظ حسین احمد۔۔ مجھے کیسے پتہ چلے گا؟ اعتزاز احسن ۔۔۔ وہ جو انہوں نے کہا کہ کس پر…؟ حافظ حسین احمد:جناب سپیکر !میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر محترمہ ہیلی کاپٹر پر جارہی ہیں تو پھر تویہ جائیں اور اگر وہ بائی روڈ جارہی ہیں تو وزیر صاحب بعد میں اپنی گاڑی پر جاسکتے ہیں۔ میں نے یہ پوچھا کہ وہ کس پر مری جارہی ہیں؟ گاڑی پر یا ہیلی کاپٹر پر” اتنے میں شور بلند ھوا اور پیپلز پارٹی کے اراکین پھر کھڑے ھوگئے کہنے لگے:” نہیں! حافظ صاحب کی نیت ٹھیک نہیں ھے۔” بڑھ چڑھ کر بولنے والوں میں جہانگیر بدر بھی تھے۔ حافظ حسین احمد:جناب سپیکر !مجھے اپنی نیت کا پتہ ھے ،انہیں میری نیت کا کیسے پتہ چل گیا؟یہ پکوڑے بیچنے والے جس عظیم خاتون کے توسط سے ممبر بن کے آئے ہیں ان کی اپنی لیڈر کے بارے میں کیسی سوچ ہے؟ حافظ صاحب کی حس مزاح اور انداز تخاطب بہت جاندار تھا وہ بہت سنجیدہ ماحول کو اپنے ایک جملے سے کشت زعفران بنا دیتے تھے۔ عمر بھر مولانا فضل الرحمان کے ساتھی رہے آخر میں جنرل فیض جیسے “فضول” جرنیل کی وجہ سے مولانے سے اختلاف کیا جو بعد ازاں صلح کی صورت میں اپنے گھر واپسی کا سبب بنا ۔ حافظ حسین احمد سفر آخرت پر روانہ ہوگئے ہیں ۔انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ پاک انہیں غریق رحمت فرمائے ۔










