وفاقی حکومت نے ہائیکورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں بھی اضافہ کردیا۔ہائیکورٹ کے ججز کے ہاؤس رینٹ اور الاؤنس میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ ہائیکورٹ ججز کا ہاؤس رینٹ 65 ہزار سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کردیا گیا ہے جبکہ جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 42 ہزار سے بڑھا کر 10 لاکھ 90 ہزار کردیا گیا ہے۔ قائم مقام صدر کی منظوری کےبعد وزارت قانون و انصاف کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔—-سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے صہیونیت کی تبلیغ اور صہیونی علامت کی نمائش پر سزا کا بل منظور کر لیا۔سینیٹر افنان اللّٰہ خان نے اجلاس میں کرمنل لاء ترمیمی بل پیش کیا۔اُنہوں نے کہا کہ صہیونیت کی ذہنیت اور نظریات اس وقت دنیا بھر میں عام ہیں، صہیونیت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جو آپ سے اتفاق نہ کرے اسے قتل کر دو، یہ اسی نظریے کے تحت غزہ میں بچوں کو شہید کر رہے ہیں۔سینیٹر افنان اللّٰہ خان نے کہا کہ صہیونیت کی تبلیغ اور ان کے نشان پر پاکستان میں پابندی لگائی جائے کیونکہ پاکستان میں بھی صہیونی نظریات کے حامی لوگ موجود ہیں۔اس حوالے سے پیش کیے گئے بل کے متن میں لکھا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور مختلف مذاہب و عقائد کے لیے رواداری کا مظاہرہ کیا لیکن مسلم ریاست ہونے کے ناتے یہاں صہیونیت کی تبلیغ یا نشان کی نمائش برداشت نہیں کی جا سکتی۔بل میں لکھا ہے کہ صہیونیت کا آغاز 1890ء میں ناتھن برنبام نے کیا، صہیونیت ایک نسلی اور مذہبی تحریک کے طور پر شروع ہوئی اور بعد میں سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔بل میں لکھا ہے کہ صہیونیت کا مقصد یہودیوں کو اکٹھا کر کے ان کے لیے اسرائیل میں وطن بنانا تھا، یہ ایک نسلی، مذہبی اور سیاسی نظریہ ہے جس پر عمل کروانے کے لیے انتہا پسند طریقے اور وسائل اختیار کیے جا رہے ہیں۔بل کے مطابق ملک میں دانستہ طور پر صہیونیت کی تبلیغ سے معاشرے میں نفرت پیدا کرنے پر 3 سال قید اور 40 ہزار روپے جرمانہ ہو گا۔دانستہ طور پر صہیونی علامات کی نمائش سے نفرت اور بدامنی پیدا کرنے پر 2 سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانہ ہو گا۔صہیونیت کی تبلیغ اور نشان کی نمائش پر وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں ہو گی اور یہ قابلِ ضمانت جرم ہو گا—-۔کراچی بلدیاتی ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان پر جرمانہ عائد کردیا۔حافظ نعیم الرحمان نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کا جواب گزشتہ روز جمع کروایا تھا، ڈی ایم او نے جواب کا جائزہ لینے کے بعد حافظ نعیم پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ٹاؤن چیئرمین گلبرگ اور یو سی چیئرمین پر بھی 10، 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم، نصرت اللّٰہ اور فاروق نعمت اللّٰہ پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔—–چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس کل طلب کر لیا۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بینچز کیلئے ججز کی نامزدگی پر غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس امین الدین خان شریک ہوں گے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین، عمر ایوب خان، سینیٹر شبلی فراز، فاروق ایچ نائیک، شیخ آفتاب احمد اور روشن خورشید بروچہ بطور ممبر جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت کریں گے۔—یوٹیلیٹی اسٹورز نے چینی کے بعد چائے کی پتی کی قیمت بھی کم کر دی۔اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق مختلف برانڈز کی چائے کی پتی 250 روپے تک سستی کی گئی ہے، چائے کی پتی کی 800 گرام قیمت 200 سے 250 روپے کم کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق چائے کی پتی کی 800 گرام کی نئی قیمت 1350 سے لے کر 1721روپے مقرر کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چائے کی پتی کی 430 گرام کی قیمت میں 130 سے لے کر 190روپے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 700 سے لے کر 908 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ذرائع یوٹیلیٹی اسٹورز کے مطابق قیمتوں میں کمی کا اطلاق فوری طور پر کیا جائے گا۔ یوٹیلیٹی اسٹورز نے اس سے پہلے چینی 13 روپے فی کلوسستی کر دی تھی۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی کی نئی قیمت 140 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔—-وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کے پی ہاؤس کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی کابینہ نے دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ کے اندراج کی منظوری دی ہے۔ اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012 میں ترامیم کی بھی منظوری دی جبکہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار وزیراعلیٰ کو دینے کی ترامیم منظور کی گئی۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ترامیم کے بعد وزیراعلیٰ تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے چانسلر ہوں گے۔ ترامیم میں وائس چانسلرز کی مدت ملازمت کو بھی چار سال مقرر کیا گیا ہے۔ ویمن یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کے عہدوں پر خواتین ہی تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔کابینہ نے ایگریکلچر انکم ٹیکس ایکٹ 2024 مسودے کی بھی منظوری دے دی جبکہ کے پی ہاؤسنگ اتھارٹی اور پی ایچ اے فاؤنڈیشن کے درمیان فریم ورک معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔ اس معاہدے کے تحت سوڑیزئی میں 8500 کنال پر 8000 گرے اسٹرکچر مکانات تعمیر ہوں گے۔ معاہدے کے تحت سوڑیزئی میں 5000 اپارٹمنٹس کی بھی تعمیر ہوگی۔رورل ایکسیسیبلٹی پروجیکٹ کے تحت قرض کی رقم بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے۔ قرض کی رقم 30 کروڑ سے بڑھا کر 37 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کرنے کی منظوری دی گئی۔










