تازہ تر ین

وفاقی حکومت کی جانب سے ملازمت پیشہ طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں مزید اضافے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال2024-25 میں تنخواہ دار طبقے سے مجموعی طور پر 570 ارب روپے ٹیکس وصولی کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق اس لحاظ سے تنخواہ دار طبقہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقہ55 فیصد زیادہ ٹیکس اداکرے گا

وفاقی حکومت کی جانب سے ملازمت پیشہ طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں مزید اضافے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال2024-25 میں تنخواہ دار طبقے سے مجموعی طور پر 570 ارب روپے ٹیکس وصولی کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق اس لحاظ سے تنخواہ دار طبقہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقہ55 فیصد زیادہ ٹیکس اداکرے گا۔ایف بی آر کے مطابق گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے368ارب ٹیکس خزانے میں جمع کرایا، رواں مالی سال کے پہلے6 ماہ میں243ارب روپے وصول کیے گئے۔بیان کے مطابق پچھلے سال کے پہلے 6 ماہ کے مقابلے میں ملازمین سے 300 فیصد زیادہ ٹیکس وصول کیے گئے ہیں۔ایف بی آر کے مطابق پانچ سال پہلے تنخواہ دار طبقے سے سالانہ ٹیکس وصولی 129ارب روپے تھی، سال 20-2019میں 129ارب،21-2020 میں152ارب وصول کیے گئے جبکہ سال 22-2021 میں ٹیکس وصولی بڑھ کر 189 ارب ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق 2022،23 میں ملازمت پیشہ طبقے سے 264 ارب وصول کیے گئے۔ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے والا تیسرا بڑا شعبہ بن چکا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو لکھاگیا دوسرا کھلا خط منظرعام پرآگیا۔تفصیلا ت کے مطابق ‏چیف آف آرمی سٹاف کو دوسرا کھلا خط سابق وزیراعظم عمران خان کے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کیا گیا ہے،جس میں عمران خان نے کہا کہ ”میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کے نام کھلا خط لکھا، خط کا مقصد فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے، خط کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔میں پاکستان کا سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں۔عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنی ساری زندگی عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں گزاری ہے۔1970 سے اب تک میری 55 سال کی پبلک لائف اور 30 سال کی کمائی سب کے سامنے ہے،میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان میں ہے،مجھے صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے،جس کی وجہ سے میں نے یہ خط لکھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرے گی۔1۔ ایجینسیز کے ذریعے پری پول دھاندلی اور الیکشن کے نتائج تبدیل کر کے اردلی حکومت قائم کرنا۔2۔عدلیہ پر قبضے کے لیے پارلیمینٹ سے گن پوائنٹ پرچھبیسویں آئینی ترمیم کروانا۔3۔پاکٹ ججز بھرتی کرنا، ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا جیسے کالے قانون کا اطلاق کرنا۔4۔سیاسی عدم استحکام اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی ریت ڈال کر ملک کی معیشت کی تباہی۔5۔ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو مسلسل ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنانا اور تمام ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا۔6۔اس سے ناصرف عوامی جذبات کو مجروح کر رہا ہے بلکہ عوام اور فوج میں خلیج کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے۔عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ فوج ملک کا ایک اہم ادارہ ہے مگر اس میں بیٹھی چند کالی بھیڑیں پورے ادارے کا نقصان کر رہی ہیں۔ایسا ہی ایک شخص اڈیالہ جیل میں بیٹھا کرنل بھی ہے جو جیل کے سٹاف کو کنٹرول کرتے ہوئے ناصرف آئین، قانون اور جیل مینول کی دھجیاں بکھیر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق بھی پامال کر رہا ہے.وہ عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے ایسے عمل کرتا ہے جیسے “قابض فوج” کرتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ پہلے اڈیالہ جیل کے فرض شناس سپرنٹنڈنٹ اکرم کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا،وہ قانون کی پاسداری کرتا تھا اور جیل قوانین پر عمل درآمد کرتا تھا،اب بھی تمام عملے کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پامال کرتے ہوئے مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کرنل کی ماتحت جیل انتظامیہ نے مجھ پر ہر ظلم کیا ہے۔مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے۔20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔5 روز تک میرے سیل کی بجلی بند رکھی گئی اور میں مکمل اندھیرے میں رہا۔میرا ورزش کرنے والا سامان اور ٹی وی تک لے لیا گیا اور مجھ تک اخبار بھی پہنچنے نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب چاہتے ہیں کتابیں تک روک لیتے ہیں،ان 20 دنوں کے علاوہ مجھے دوبارہ بھی 40 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا،میرے بیٹوں سے پچھلے 6 ماہ میں صرف تین مرتبہ میری بات کروائی گئی ہے،اس معاملے میں بھی عدالت کا حکم نہ مانتے ہوئے مجھے بچوں سے بات کرنے نہیں دی جاتی جو میرا بنیادی اور قانونی حق ہے،میری جماعت کے افراد دور دراز علاقوں سے مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر ان کو بھی عدالتی آرڈز کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملتی۔پچھلے چھ ماہ میں گنتی کے چند افراد کو ہی مجھ سے ملوایا گیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود میری اہلیہ سے میری ملاقات نہیں کروائی جاتی۔میری اہلیہ کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے،گن پوائنٹ پر کروائی گئی چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا،کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اور میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے “پاکٹ ججز” بھرتی کرنا ہے،عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔ میرے سارے کیسز کے فیصلے دباؤ کے ذریعے دلوائے جا رہے ہیں۔مجھےغیر قانونی طور پر 4 سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ میرے خلاف فیصلہ دینے کے لیے جج صاحبان پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ایک جج کا بلڈ پریشر 5 مرتبہ ہائی ہوا اور اسے جیل اسپتال میں داخل کروانا پڑا،اس جج نے میرے وکیل کو بتایا کہ مجھے اور میری اہلیہ کو سزا دینے کے لیے “اوپر” سے شدید ترین دباؤ ہے۔: آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے لیے وفاقی کابینہ نے سکیورٹی کی منظوری دے دی۔تفصیلا ت کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت چیمپئنز ٹرافی کے میچز کے موقع پر سکیورٹی کے لیے سول آرمڈ فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے ۔یاد رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے 12 فروری سے ٹیمیں پاکستان پہنچ رہی ہیں ۔ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، صوبہ پنجاب اور سندھ کی درخواست پر وفاقی کابینہ سے سکیورٹی کی منظوری لی گئی ہے۔وزارت داخلہ نے ٹیموں کی فول پروف سکیورٹی کے لیے اداروں اور صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹس کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔چیمپینز ٹرافی کیلئے آنے والی ٹیموں کو پریزینٹیشن لیول کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اسپیکر ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی تھی۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے مذاکرات کی دعوت سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ اسپیکر ایاز صادق نے تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی تھی بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ان کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں۔ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی باضابط دعوت تب دی جائے گی جب حکومت یا اپوزیشن انہیں خود درخواست کریں گے اور اسپیکر قومی اسمبلی کا کردار بھی یہی ہے اور انہوں نے اپنی پوزیشن کلیر کی تھی۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر اور گھر کے دروازے کسی بھی رکن کےلیے کھلے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا اہم بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میرے چیمبر اور گھر کے دروازے کسی بھی رکن کے لیے کھلے ہیں۔اسپیکر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمرایوب نے کہا تھا کہ سیاسی مذاکرات صرف خواہشات سے نہیں بلکہ مستحکم ارادوں سے ہوتے ہیں اور حکومت کے ارادے ٹھیک تھے ہی نہیں اس لیے مذاکرات کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سنجیدگی سے مذاکرات شروع کیے تاہم حکومت نے مطالبات نہیں مانے، اب ہم مذاکرات نہیں کریں گے۔سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے یوم تاسیس کے موقع پر سنیچر 22 فروری کو عام تعطیل ہوگئی۔عرب میڈیا کے مطابق وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مملکت کے یوم تاسیس کے موقع پر سرکاری، نجی اور غیرمنافع بخش اداروں میں تعطیل ہوگی۔خیال رہے مملکت میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ اور سنیچر کو ہوتی ہے۔ امسال یوم تاسیس سنیچر 22 فروری کو ہوگا۔ سنیچر کو ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے یوم تاسیس کی چھٹی بعض اداروں میں جمعرات جبکہ بعض میں اتوار کو ہوگی۔سعودی فوڈ چین البیک نے پاکستان میں اپنی شاخیں کھولنے کا اعلان کردیا، وزیر تجارت سے ملاقات میں رامی ابو غزالہ نے تصدیق کردی۔ جام کمال خان کا کہنا ہے کہ فوڈ چین کے پاکستان آنے سے روزگار میں اضافہ ہوگا، سعودی عرب کو برآمدات میں 22 فیصد اضافہ ہوا، سعودی عرب سے پاکستانیوں نے 7.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر وطن بھیجیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی حجم میں مزید اضافے کے امکانات روشن ہوگئے، معروف فوڈ چین البیک نے پاکستان میں اپنی شاخیں کھولنے کی تصدیق کردی، معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہوگیا۔وزیر تجارت جام کمال خان کی البیک کے مالک رامی ابو غزالہ سے خصوصی ملاقات ہوئی، ملاقات میں فاسٹ فوڈ چین کی پاکستان آمد پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ جام کمال نے کہا کہ البیک کی پاکستان آمد سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔معاہدے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کے کن کن شہروں میں البیک کی شاخیں ہوں گی تاہم توقع کی جارہی ہے کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں سعودی فوڈ چین کی شاخیں ہوں گی۔وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی جدہ میں اہم سعودی تاجروں سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ سعودی سرمایہ کاروں نے توانائی، زراعت، آئی ٹی اور تعمیراتی شعبے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔2Aوفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ سعودی عرب کو برآمدات میں 22 فیصد اضافہ ہوا، تجارتی حجم 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، سعودی عرب سے پاکستان کو 7.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔وزیر تجارت جام کمال نے سعودی تاجروں سے ملاقات میں مالی تعلقات کی مضبوطی پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ پاکستانی ورکرز سعودی معیشت میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، نئی ویزا پالیسی کے تحت جی سی سی شہریوں کو ویزا فری انٹری اور 90 دن تک قیام کی سہولت دی گئی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کاروبار کیلئے سازگار ماحول ہے، سعودی تاجروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں، سنگل ونڈو اور نیشنل کمپلائنس سینٹر کے ذریعے کاروباری سہولیات میں بہتری آئی ہے۔صدر سپریم کورٹ بار نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کی، صدر بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میر عطا اللہ لانگو بھی ملاقات میں موجود تھے۔اعلامیہ کے مطابق دونوں ملاقاتوں میں عدلیہ کی مجموعی کارکردگی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرسپریم کورٹ بار نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی عدلیہ کے موثر کام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔میاں رؤف عطا نے چیف جسٹس آف پاکستان کے بطور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے حالیہ تقرریاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی سنیارٹی کے معاملے پر نیا تنازع سامنے آگیاصدر سپریم کورٹ بار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات میں حالیہ تقرریوں کو سراہا، اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججوں کی تعیناتی کی تعریف کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں دیگر عدالتوں سے ججز کی تعیناتی، وکلا تنظیموں کی ہڑتالمیاں رؤف عطا نے کہا کہ نئے ججز انصاف کی بروقت اور موثر فراہمی میں معاون ثابت ہوں گے، ججز عام شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائیں گے۔پاک بحریہ کے سربراہ کا نویں کثیر القومی بحری مشق امن میں شریک غیر ملکی بحری جہازوں کا دورہجہازوں پر آمد پر سینئر افسران/کمانڈنگ آفیسرز نے نیول چیف کا پرتپاک استقبال کیا اور چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیانیول چیف نے بنگلہ دیش، جاپان، چین، امریکہ، انڈونیشیا، ایران، ،سری لنکا، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں کا دورہ کیاپاکستان محفوظ سمندری ماحول اور امن و امان کے لیے مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتا ہے۔ نیول چیفپاک بحریہ ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول اور امن مشق جیسے اقدامات کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ نیول چیف نیول چیف نے “امن کے لیے متحد” کے مشترکہ عزم کو پورا کرنے کے لیے امن مشق میں ان ممالک کی شرکت کو سراہا

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved