تازہ تر ین

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کی دوستی سرحدوں کی محتاج نہیں ہے، یہ دوستی سرحدوں سے آگے ہے

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کی دوستی سرحدوں کی محتاج نہیں ہے، یہ دوستی سرحدوں سے آگے ہے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ترک کلچرل سینٹر یونس ایمرے مرکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مثالی دوستی ہے۔عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کی حکومتوں میں مثالی دوستی ہے مگر عوام کا تعلق بھی مضبوط ہونا چاہیے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے مجھے جیل میں رکھنا چاہتے ہیں تورکھیں، نظر بند نہیں ہوں گا۔علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی ائی نے 22 دسمبر کو تارکین وطن کو کال دی کہ ترسیلات زر پاکستان نہ بھیجیں، جو بیرون ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر بھیجتے ہیں انہی کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔علیمہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کہا حکومت دو مطالبات مان لیتی ہے تو کال واپس لے لیں گے، پہلا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت 26 نومبر اور 9 مئی کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنائے، ہمارا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ہمارے جو لوگ ناجائز قید ہیں انہیں رہا کیا جائے۔علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے مجھے جیل میں رکھنا چاہتے ہیں تو رکھیں، نظر بند نہیں ہوں گا، میں اپنے تمام مقدمات میرٹ پر نکالوں گا اور ہاؤس اریسٹ پر نہیں ہوں گا۔علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اگر سرحدوں پر ایسا کچھ ہوا تو اس سے پاکستان کا امن متاثر ہوگا۔عمران خان نے علیمہ خان کو مزید کہا کہ اگر ایسے حالات رہے تو پاکستان کی معیشت کو مزید نقصان اٹھانا پڑے گا، بانی پی ٹی ائی نے کہا پاکستان کو معاشی استحکام اور امن کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے ادارے سیاست میں لگے رہے تو ہماری سرحدوں کی حفاظت کون کرے گا،انہوں نے کہا کہ شاعر اور یونس درویش کہلائے جانے والے یونس ایمرے کے نام سے کلچر سینٹر کو منسوب کیا گیا ہے، استنبول کے دورے میں ترکیہ کے ساتھ شراکت داری کو مزید بڑھانے پر غور کیا گیا۔وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ کونیا میں مولانا رومی کے مزار کے پاس علامہ اقبال کا بھی علامتی مزار ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کلچر ٹو کلچر اور عوام سے عوام کا رابطہ بڑھایا جانا چاہیے۔دفتر خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینیل کے پاکستانی نیوکلئیر اثاثوں اور عمران خان کی رہائی سے متعلق تبصروں پر بات کرنے سے انکار کردیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ انفرادی حیثیت میں دیے گئے کسی کے بیان پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ افغانستان حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں۔ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سفارت کاری کے لیے 2024ء ایک سرگرم سال تھا، بیلا روس، چین، آذر بائیجان، روس، سعودی عرب، ترکیہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ اچھی انڈر اسٹینڈنگ بنی، وزیر خارجہ نے بیلجیم، مصر، ایران، سعودی عرب، برطانیہ اور دیگر ممالک کے دورے کیے، وزیر اعظم اور صدر نے بھی 2024 میں مخلتف ممالک کے دورے کیے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں ملائشیا، روس، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے وفد پاکستان آئے، اس سال خطے اور دنیا بھر میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوئیں، تبدیلیوں کے باوجود باہمی مفادات کے پیش نظر مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے بنائے، امریکا کے ساتھ اپنے انگیجمنٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ہم یورپ میں اپنے پارٹنرز کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، یورپی یونین نے پی آئی اے سے پابندی ہٹائی ہے، پاکستان پی آئی اے پروازوں سے پابندی ہٹانے کے لیے یورپی یونین کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی بات چیت کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ سال 2024ء کا آغاز ملٹری حملوں سے ہوا، اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان انگیجمنٹ ہوئی، افغانستان کے ساتھ بارڈر پر مسائل رہے، ہم افغانستان حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں، چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں۔رچرڈ گرینیل کے پاکستانی نیوکلئیر اثاثوں اور عمران خان کی رہائی سے متعلق تبصروں پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ انفرادی حیثیت میں دیے گئے کسی کے بیان پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی عزت اور مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات کا خواہاں ہے، امید کرتے ہیں کہ امریکی بھی اس بات کا خیال رکھیں گے، ہم امریکی حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ٹیکس بل کے ذریعہ اصلاحاتی ایجنڈے کا آغاز کیا جاچکا ہے، ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے انسانی عمل دخل کو کم سے کم کیا جائے گا تاکہ معاشی بہتری کی جانب سفر جاری رکھا جاسکے۔وزیر خزانہ نے چئیرمین ایف بی آر، وزیر اطلاعات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے میں ٹیکسیشن کا اہم کردار ہے، حکومت ٹیکس اور جی ڈی پی کے ہدف کو 13 فیصد سے زائد لے جانے کی خواہاں ہے۔محمد اورنگزیب کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش کردہ ٹیکس بل کا تعلق ٹیکنالوجی سے ہے، جس لائف اسٹائل میں رہا جارہا ہے اس کو متوازن ٹیکسیشن میں لانا ہے، ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے انسانی امر کو کم سے کم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مارچ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں اس سفر کا آغاز کیا، ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹائزیشن کی منظوری دی، جتنا انسانی عمل دخل نظام میں کم ہوگا اتنا بہتری کی طرف جائیں گے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 سے 4 ماہ میں ہم اس کے مختلف مرحلوں پر پہنچے، ٹیکس گیپ اور لیکیجز کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ معاشی ترقی کا سفر جاری رکھا جاسکے۔وزیر خزانہ کے مطابق کسی بھی ٹرانسفارمیشن میں ٹیکنالوجی ایک ستون ہوتی ہے، ٹیکس بل کا تعلق بھی ٹیکنالوجی سے ہے، نان ڈیکلریشن اور انڈر ڈیکلریشن میں مطابقت ضروری ہے، ڈیجٹائزیشن کا مقصد شفافیت لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن اور ہراسمنٹ کو ٹیکنالوجی کے زریعے مات دے سکتے ہیں، ٹیکس اتھارٹی میں اعتماد اور ساکھ کو بہتر بنانا ہے، ایف بی آر کے اندرونی سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ترجیح ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق ایماندار ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، ٹیکس گیپ کو ڈیٹا انالسز کے ذریعے پر کریں گے، گورننس ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے سسٹم بہتر ہو گا۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی قیادت میں معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، حکومت کا ہدف ٹیکس کے وسائل اور آمدن کے ذرائع کو بڑھانا ہے۔علی پرویز ملک کے مطابق عام آدمی کے لیے سب سے بڑا ٹیکس مہنگائی کی صورت میں لاگو ہوتا ہے، وزیر اعظم کی قیادت میں گورنس کے زریعے بہتری لائی گئی، ملک میں مہنگائی 40 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد پر آگئی ہے۔علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کے ذریعے ڈیش بورڈ پر موازنہ کیا گیا تو شہریوں کے معیار میں واضح فرق آیا، کیا ایک کروڑ کی گاڑی والے کو ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی کیپسٹی بلڈنگ پاکستان کی بہتری کے لیے کی جارہی ہے، سپلائی اور ریٹیل چین سے بھی ڈیٹا اکھٹا کیا جائے گا، تاکہ متوازن ٹیکسیشن ممکن بنائی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نظام کے معیار میں بہتری کے ذریعے غریب آدمی پر بوجھ کم کرنا ہے، ایف بی آر ڈیجٹائزیشن کیلئے کمیٹی نے ملکر کام کیا اور محنت کی، صاحب استطاعت لوگوں سے استدعا ہے وہ اپنا ٹیکسیشن میں حصہ ڈالیں۔علی پرویز ملک نے بتایا کہ ایف بی آر ٹاسک فورس نے متعدد اقدامات کیےہیں، جن کے بعد نتائج کے حصول کے لیے ڈیش بورڈ بن گئے ہیں، اکتوبر کے آخر تک ٹیکس ریٹرنز کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھ کر 50 لاکھ ہوگئی ہیں۔چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ ٹاسک فورس میں بطور حکومت سب مل کر کام کر رہے ہیں، سرفہرست 5 فیصد لوگوں میں 3.3 ملین لوگ آتے ہیں، ہمارا ساری توجہ اسی 5 فیصد طبقہ پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیش بورڈ پر تمام ڈیٹا حقیقی طور موجود ہے، ڈیش بورڈ کے ذریعے پورے نظام کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، ڈیٹا اینالیسز کے بعد ایک لاکھ 69 ہزار شہریوں کو نوٹس جاری کیے گئے، جن میں سے 38 ہزار شہری نان فائلر سے فائلر بن چکے ہیں۔چئیرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے مطابق 30 لاکھ میں صرف 6 لاکھ لوگ ٹیکس فائل کر رہے ہیں، ہم ان لوگوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں جو رقم خرچ کرتے ہیں، 49 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاچکا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved