تازہ تر ین

پاکستان پر مشرقی اور مغربی سرحدوں پر دھشت گردی کا خطرہ۔۔بھارت کی غیر معمولی نقل و حمل جاری سول آبادی سے علاقے کو خالی کرا لیا گیا۔۔۔۔افغان بارڈر پر حالات کشیدہ طورخم بارڈر پر 2 ھزار سے دھشت گردوں کا گروہ افغان ایریا میں مورچہ بندی کر رھا ھے۔پاکستان ھر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ھمہ وقت تیار ھے۔۔سپریم کورٹ کے احکامات کھوہ کھاتے میں۔۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب بڑی خبر۔استعفی کس کا۔۔۔۔۔سابق چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی 200 ارب روپے کی کرپشن پر نیب کو مطلوب ۔ائینی مدت پوری کرونگا وزیر اعظم۔۔ریاستی اداروں کے آڈٹس میں تاخیر پر آئی ایم ایف کو تشویش ہے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان۔۔۔۔گریڈ 22 مین ترقی پانے والے افسران تفصیلات کے مطابق۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سپریم کورٹ کے احکامات اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے باوجود صوبہ میں ساڑھے پانچ سال سے تعینات کرپٹ افسر کے خلاف وفاقی حکومت خاموش، سسٹم افسر اور سیاسی آشیرباد۔ کلک میں تعیناتی کے دوران ریکارڈ کرپشن کی۔ کے ایم سی اور کلک میں غدر مچاتے رہے لیکن سیاسی سرپرستی اور سسٹم کی وجہ سے کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن اور سیاسی و سماجی حلقوں کا فوری وفاق سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے کا مطالبہ۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی فرینڈلی اپوزیشن کر رہے ہیں۔ کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر) PASگروپ کے افسران کے لئے سپریم کورٹ کے احکامات اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے باوجود کہ تین سال بعد PASافسر دوسرے صوبہ میں سروس کرے گا۔ کے ایم سی میں تعینات میونسپل کمشنر افضل زیدی وفاقی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ساڑھے پانچ سال سے کراچی میں مختلف پوزیشن پر تعینات ہیں۔ جبکہ کلک اور کے ایم سی میں انہوں نے غدر مچایا اور اسوقت کے ایم سی میں تعینات ہیں۔ سسٹم افسراور سیاسی آشیر باد کی وجہ سے کرپشن کیسوں کے باوجود انکے خلاف کاروائی نہ ہونا بھی سوالیہ نشان ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے باوجود صوبہ میں ساڑھے پانچ سال سے تعینات کرپٹ افسر افضل زیدی کے خلاف وفاقی حکومت خاموش ہے۔ سسٹم افسر اور سیاسی آشیرباد میں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے توجہ دلانے ٹھیکیداروں کی ایسوسی ایشن کے عدالت جانے پارکس سمیت مختلف ٹینڈرز اور اختیارات کے غلط استعمال کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ کلک میں تعیناتی کے دوران ریکارڈ کرپشن کی۔ لانڈھی ٹاؤن (سابقہ ڈی ایم سی ملیر) کا دفتر پارک کی جگہ پر کلک سے تعمیر کروایا۔ کے ایم سی میں اپنا دفتر ذاتی مفاد اور کے ایم سی بلڈنگ Heritageمیں ہونے کے باوجود پالیسی کے خلاف لاکھوں روپے خرچ کئے۔ بے تاج بادشاہ اور عدم معلومات کے باوجود مقامی افسران کو نشانہ بنانے اور لابنگ کرنے میں مشہور ہیں۔ ماہانہ بھتہ نہ دینے والے محکموں کے افسران کے لئے انکی سوچ انتہائی خراب ہے انہیں کرپٹ ترین افسر مشہور کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ کے ایم سی اور کلک میں غدر مچاتے رہے لیکن سیاسی سرپرستی اور سسٹم کی وجہ سے کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن اور سیاسی و سماجی حلقوں کا فوری وفاق سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے کا مطالبہ۔

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی فرینڈلی اپوزیشن کر رہے ہیں۔ کے ایم سی کونسل کے رکن اور یو سی چیئرمین جماعت اسلامی نے کہا کہ قبضہ میئر کی سرکاری اور بعض حلقوں کی جانب سے سرپرستی بند ہوجائے تو ہم عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں۔ مسلم لیگ ن کے یو سی چیئرمین نے کہا کہ وفاق میں الائنس ہونے کی وجہ سے ہم مجبور ہیں۔ میئر کی حمایت واپس نہیں لے سکتے۔ میونسپل کمشنر میئر کا فرنٹ مین ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ افضل زیدی کے کرپشن کا مکمل ریکارڈ ہے۔ جماعت اسلامی بھی بہت سے غلط کاموں کا حصہ ہئے اس لئے وہ کے ایم سی میں سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش ہیں۔ پی ٹی آئی کے اراکین مالی فائدے لے رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے انہیں ترپ کا پتہ بنا رکھا ہے۔ جعلسازیوں کی مکمل رپورٹ ہے زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں سرپرستی سیاسی جماعت کی ہے۔ آباد اور چیف آف آرمی اسٹاف کی میٹنگ کے باوجود نیب کراچی کے ڈائریکٹر کا بے بسی کا اظہار بھی سسٹم مافیا کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ سسٹم افسران کے ساتھ ساتھ تمام مافیاز کی سرپرستی بھی سندھ حکومت کر رہی ہے۔ عوام کراچی کے اصل نمائندوں کی کمی کو محسوس کر رہے ہیں۔ میئر کی بے بسی انکی اپنی جماعت اور گروپنگ ہے۔ ہم سپریم کورٹ اور وفاقی حکومت سے سسٹم کے خلاف اور ساڑھے پانچ سال سے غیر قانونی تعینات میونسپل کمشنر کی فوری وفاق رپورٹ کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کے ایم سی کے اصل میئر افضل زیدی ہیں جنکے اشاروں پر میئر چلتے ہیں۔ایم کیو ایم جلد سندھ اسمبلی میں یہ معاملہ لا سکتی ہے ایم کیو ایم کی آفیسرز ایسوسی ایشن کے اراکین نے نمائندے سے بات چیت میں کہا کہ ہمارے تمام افسران ہٹا دیئے گئے ہیں۔ جو چند مقامی افسران ہیں وہ مفاد پرست اور کرپشن اور سسٹم کے تحت برقرار ہیں۔ہم پارٹی کو سارے معاملات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Baadban TV Report ڈپٹی وزیراعظم۔۔۔ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ اجلاسڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس، مختلف سروس گروپ کے 37 افسران کو گریڈ 22 میں ترقیوں کی منظوری اسلام آباد۔5مارچ :ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈکا 29 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ، پولیس سروس آف پاکستان اور فارن سروس آف پاکستان کے گریڈ 21 کے افسران کی گریڈ 22 میں ترقی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینئر بیوروکریٹس کی کارکردگی اور اہلیت کا بغور جائزہ لینے کے بعد متعدد افسران کی ترقی کی منظوری دی گئی۔پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے ترقی پانے والے افسران میں وسیم اجمل چوہدری، امبرین رضا، علی طاہر، عثمان اختر باجوہ، محمد حمیر کریم، سید عطاء الرحمن، مصدق احمد خان، راشد محمود، مومن آغا، ندیم محبوب، محی الدین احمد وانی، دائود محمد بریچ، شکیل احمد منگیجو، سعدیہ سروت جاوید، اسد الرحمن گیلانی، علی سرفراز حسین، زاہد اختر زمان، نبیل احمد اعوان اور احمد رضا سرور،پولیس سروس آف پاکستان میں ترقی پانے والے افسران میں بی اے ناصر، غلام نبی میمن، محمد فاروق مظہر، عمران یعقوب منہاس، عبد الخالق شیخ، محمد زبیر ہاشمی، محمد شہزاد سلطان اور محمد طاہر،فارن سروس آف پاکستان سے ترقی پانے والے افسران میں احمد نسیم وڑائچ، رحیم حیات قریشی، عاصم افتخار احمد، رضوان سعید شیخ، سید احسن رضا شاہ، فیصل نیاز ترمذی، نبیل منیر، ثقلین سیدہ اور شفقت علی خان شامل ہیں۔اجلاس کے دوران ترقی کے منتظر افسران کی سروس ریکارڈ، تجربے اور ملک کے لیے ان کی خدمات کو مدنظر رکھا گیا۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترقی پانے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ملک و قوم کی خدمت میں مزید محنت اور لگن کا مظاہرہ کریں گے۔یہ ترقیاں سول بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں پر تجربہ کار اور قابل افسران کی تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہیں، جو پالیسی سازی اور گورننس کے نظام میں مزید بہتری لانے میں معاون

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved