سپریم کورٹ آف پاکستان میں تعینات ہونے والے 7 نئے ججز نے حلف اٹھا لیا، تقریب حلف برداری سپریم کورٹ میں پہلی بار عدالتی احاطے کے لان میں منعقد ہوئی، تمام سات ججز سے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے حلف لیا،تقریب حلف برداری میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج محسن اختر کیانی، اٹارنی جنرل، وکلاءلاءافسران اور عدالتی سٹاف بھی شریک تھا۔نئے 6 مستقل ججز اور ایک قائم مقام جج کی تقریب حلف برداری میں عہدے کا حلف لینے والے ججز میں جسٹس عامر فاروق، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس شکیل احمد، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس صلاح الدین پنہور شامل ہیں۔اس کے علاوہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بھی بطور ایکٹنگ جج سپریم کورٹ حلف لیا

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سے حلف لیا۔خیال رہے گزشتہ روزبتایاگیاتھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے ججز کی تقریب حلف برداری کا شیڈول تبدیل کردیا گیاتھا۔نئے ججز کی تقریب حلف برداری جمعہ کو ہونابتائی گئی تھیحلف برداری کی تقریب ججز کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کی وجہ سے ملتوی کی گئی تھی۔ وزارت قانون کی جانب سے نئے ججز کے تقرر کا نوٹیفکیشن رات گئے جاری کیا گیا تھا۔

سابقہ شیڈول کے مطابق 6 مستقل اور ایک عارضی جج کی تقریب حلف برداری گزشتہ روز ہونا تھی۔جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری چند روز قبل دی تھی۔ اس کے علاوہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی بطور ایکٹنگ جج تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ روز وزارت قانون و انصاف جسٹس سرفراز ڈوگر کو قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ تعینات کرنے سمیت سپریم کورٹ کے 6 مستقل ججز اور ایک عارضی جج کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی تک فرائض سرانجام دیں گے۔وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت کی منظوری کے بعد نوٹی فکیشن جاری کیا تھاجس کے مطابق جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین سپریم کورٹ کے جج تعینات کردئیے گئے تھے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی سپریم کورٹ کے جج تعینات کر دئیے گئے تھے۔جسٹس اعجاز سواتی مستقل چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کے تقرر تک فرائض سرانجام دیں گے۔اسی طرح جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب آرٹیکل 181 اور 175 اے کے تحت سپریم کورٹ کے ایکٹنگ جج تعینات کئے گئے تھے جبکہ جسٹس اعجاز سواتی قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات ہوگئے تھے۔جسٹس جنید غفار قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جبکہ جسٹس عتیق شاہ قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ تعینات کئے گئے تھے۔

: *بلوچستان ہرنائی: مزدوروں کی گاڑی پر خوفناک دھماکا، 10 مزدور جاں بحق، 6 مزدور زخمی*بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی تحصیل شاہرگ میں کول مائن ایریا میں مزدوروں کی گاڑی کے قریب بم دھماکے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔ڈان نیوز کے مطابق لیویز نے بتایا کہ دھماکا تحصیل شاہرگ میں کوئلے کی لیبر گاڑی کے قریب ہوا، دھماکے کے نتیجے میں پک اپ گاڑی میں سوار 9 مزدور جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔لیویز نے کہا کہ دھماکا بارودی سرنگ کا ہوسکتا ہے جس میں مزدوروں کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا

جب وہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے کے لیے جارہے تھے، تاہم مزید تحقیقات جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی حضرت ولی کاکڑ کا کہنا تھا کہ دھماکے میں پک اَپ گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرتھے تھے، جبکہ لاشوں اور زخمیوں کو بی ایچ یو شاہرگ منتقل کیا جارہا ہے۔بعد ازاں دھماکے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 10 ہوگئی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد روڈ کنارے نصب تھا، ترجمان صوبائی حکومتحکومت بلوچستان نے تحصیل شاہرگ ٹاکری میں دہشت گردی کے واقعے پر اظہار مذمت اور مزدوروں کی شہادت اور زخمی ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا جبکہ قانون نافذ کرنے ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکا خیز مواد روڈ کنارے نصب تھا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی شاہرگ میں مزدوروں کی گاڑی کے قریب دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور دھماکے میں 9 مزدوروں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں، جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مزدوروں کی گاڑی کے قریب دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمی مزدوروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا پختہ عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد کسی صورت معافی کے مستحق نہیں، بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھیں گے اور امن دشمنوں کے عزائم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، جبکہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا: لاہور پولیس میں محکمانہ احتساب پہلی بار کرپشن کرنے والے دو ایس ایچ اوز کے خلاف انہی کے تھانوں میں مقدمات درجڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شکایات موصول ہونے کا انکوائری کا حکم دیا تھاکرپشن اور اختیارات سے تجاوز ثابت ہونے پر ایس ایچ اوز پر مقدمات درج ہوئے، ڈی آئی جی آپریشنز ایس ایچ او ڈیفنس اے محمد سجاد پر اسی کے تھانے میں مقدمہ درج ہوا، فیصل کامرانایس ایچ او میاں سجاد نے منشیات کے ملزمان سے 17 لاکھ رشوت وصول کی، ڈی آئی جی آپریشنز سابق ایس ایچ او ڈیفنس اے نے رشوت لے کر منشیات کے ملزمان کو چھوڑا، فیصل کامرانایس ایس پی آپریشنز کی انکوائری میں ایس ایچ او ڈیفنس اے میاں سجاد قصور وار ثابت ہوا، ڈی آئی جی آپریشنز پولیس کی مدعیت میں میاں سجاد کے خلاف 155 سی کے تحت مقدمہ درج ہوا، فیصل کامرانایس ایچ او فیصل ٹاون سب انسپکٹر سیلمان اکبر پر بھی مقدمہ درج کر لیا گیا، ڈی آئی جی آپریشنز ایس ایچ اوسلیمان اکبر کے ساتھ اس کے ماتحت کانسٹیبل مقبول شاکر پر بھی مقدمہ درج، فیصل کامراندونوں پولیس ملازمین کے خلاف 155 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، ڈی آئی جی آپریشنز ایس ایچ او فیصل ٹاون سلیمان اکبر ایس ایس پی آپریشنز کی انکوائری میں گنہگار ثابت ہوا، فیصل کامرانایک سابق ایس ایچ او گرفتار، دوسرے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز پولیس والوں سمیت کوئی بھی قانون سے ہر گز بالاتر نہیں، ڈی آئی جی آپریشنزپولیس میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں، ڈی آئی جی آپریشنز کرپٹ پولیس افسران کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی ہے، فیصل کامراناختیارات سے تجاوز کرنے والوں کو کوئی معافی نہیں، ڈی آئی جی آپریشنز

*آئی ایم ایف کا افسران کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کی مدت میں توسیع سے انکار*خدا جانے یہ آئی ایم ایف والوں کو سرکاری افسران سے کیا دشمنی ہے۔ اچھا بھلا وہ کھا پی کر ڈکاریں مار رہے تھے کہ اب اس عالمی مالیاتی ادارے نے ان سے ان کے اخراجات، آمدن اور اثاثوں کے ساتھ ساتھ ان کے پڑھنے والے بچوں کے تعلیمی اداروں اور ان کی فیسیں بھی معلوم کرنے کا کہہ کر ان شریف سفید پوش افسروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ افراتفری میں وہ مقررہ وقت میں توسیع کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ حسب عادت جھوٹے سچے دستاویزات بنا کر اپنے کو وہ گنگا نہائے معصوم ثابت کر سکیں مگر آئی ایم ایف والے بھی یہ سب الٹ پھیر جانتے ہیں۔ وہ کوئی پاکستانی تحقیقاتی کمیٹی تو ہے نہیں کہ ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جو مرضی ہے ان کی، کہہ دیا جائے، پڑھا دیا جائے اور وہ مان جائیں۔ یہ عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو دنیا بھر کو چلاتا ہے، امداد دیتا ہے، قرضہ دیتا ہے‘ تو وہ وصول کرنا بھی جانتا ہے۔ اب اس ادارے نے پاکستانی اعلیٰ افسران کا بھی کچا چٹھا کھولنے کا فیصلہ کیا ہے کہ معلوم ہو سکے کہ ایک سرکاری افسر اتنی تنخواہ میں ماہانہ لاکھوں روپے کے اخراجات، لاکھوں روپے بچوں کی کی فیسیں، لاکھوں روپے یوٹیلٹی بلز کیسے ادا کرتے ہیں۔ یہ تو کوئی جادوئی طاقت ہی ایسا کر سکتی ہے۔ اگر آمدن ماہانہ دو لاکھ ہے تو اخراجات، وہ بھی شاہانہ 20 لاکھ کیسے ہو سکتے ہیں۔ ایسا کون سا جادوئی چراغ سرکاری افسران کے ہاتھ لگ گیا ہے۔

ذرا عوام کو بھی اور دنیا کو بھی پتا چلے۔ اب اس معلومات کے افشا کرنے سے تو بہتر ہے کئی افسران منہ چھپائے ادھر ادھر چلے جائیں۔ ان میں سے بہت کم افسر لینڈ لارڈ ہوتے ہیں، باقی سب افسری ملنے کے بعد بن جاتے ہیں۔ اب بھلا یہ اپنے شاہانہ اخراجات کی بابت کیا بتائیں گے اور اثاثے جو بنائے ہیں، ان کو کس طرح ظاہر کریں گے، اس طرح تو وہ عوام کے سامنے بھی عریاں ہو جائیں گے۔ اب آئی ایم ایف والوں نے تو مقررہ وقت میں توسیع سے مکمل انکار کر دیا ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی حلف برداری کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئندہ ہفتے کا ڈیوٹی روسٹر جاری کردیا گیا۔قائم مقام چیف جسٹس کی منظوری کے بعد ڈپٹی رجسٹرار نے ججز کا ڈیوٹی روسٹر جاری کیا۔عدالت عالیہ اسلام آباد میں آئندہ ہفتے 5 ڈویژن بینچ جبکہ 11 سنگل بینچ پیر تک کیسز کی سماعت کریں گے۔ڈیوٹی روسڑ کے مطابق جسٹس بابر ستار 18 فروری بروز منگل کو دستیاب نہیں ہوں گے، 18 فروری سے کیسز کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کریں گے۔پہلا ڈویژن بینچ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ہوگا جبکہ دوسرا ڈویژن بینچ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ہوگا۔ڈیوٹی روسڑ کے مطابق تیسرا ڈویژن بینچ جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز، چوتھا ڈویژن بینچ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس جسٹس اعظم خان اور پانچواں ڈویژن بینچ جسٹس خادم حسین سومرو جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ہوگا۔عدالت عالیہ اسلام آباد کے روسٹر کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس کی منظوری سے اسپیشل ڈویژن بینچ اور لارجر بینچ بھی دستیاب ہوگا۔










